کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کے بارے میں جو کسی چوپائے یا اونٹ پر سوار ہو وہ اس طرح دعا کرے
حدیث نمبر: 31704
٣١٧٠٤ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "على ذروة كل بعير شيطان، فإذا ركبتموها فقولوا كما أمركم اللَّه: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي ⦗٣٢٠⦘ سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كنا لَهُ مُقْرِنِينَ﴾ [الزخرف: ١٣]، وامتهنوها لأنفسكم فإنما يحمل اللَّه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر کے والد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے، پس جب اس پر سوار ہو تو جیسے اللہ نے حکم دیا ہے ان کلمات کو پڑھو : اللہ پاک ہے جس نے اس کو ہمارے لیے مسخر کیا۔ اور ہم اسے قبضہ کرنے والے نہ تھے۔ اور یقینا ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں۔ اور پھر تم خدمت کرو اس کی۔ پس اللہ ہی نے سواری دی ہے۔
حدیث نمبر: 31705
٣١٧٠٥ - حدثنا وكيع عن أسامة بن زيد عن محمد بن (حمزة بن عمرو) (١) عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " [إن على ذروة كل بعير شيطان، فإذا ركبتموها فامتهنوها، واذكروا اسم اللَّه، ثم لا تقصروا عن حوائجكم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمزہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے۔ پس جب تم پر اس پر سوار ہو تو اس کی آزمائش کرو۔ اور اللہ کے نام کا ذکر کرو۔ پھر تم اپنی ضروریات سے رکے مت رہو۔
حدیث نمبر: 31706
٣١٧٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب عن عبد الرحمن بن أبي (عميرة) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن] (٢) على ذرة كل بعير (شيطانًا) (٣)، فإذا ركبتم فاذكروا اسم اللَّه، وامتهنوها فإنما يحمل اللَّه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی عمرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے۔ پس تم اس پر سوار ہو تو اللہ کے نام کا ذکر کرو۔ پس تم اس کی خدمت کرو بیشک اللہ ہی نے سواری دی ہے۔
حدیث نمبر: 31707
٣١٧٠٧ - حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن سفيان عن أبي هاشم عن أبي مجلز أن حسين بن علي رأى رجلا ركب دابة فقال: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا ⦗٣٢١⦘ كنا لَهُ مُقْرِنِينَ﴾ (قال) (١): أفبهذا أمرت، قال: كيف أقول؟ قال: (قل) (٢): الحمد للَّه الذي هداني للإسلام، الحمد للَّه الذي مَنّ علي بمحمد ﷺ، الحمد للَّه الذي جعلني في خير أمة أخرجت للناس ثم تقول: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا (هَذَا) (٣)﴾ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھا جو سواری پر سوار ہوا پھر اس نے یہ دعا پڑھی ! اللہ پاک ہے جس نے اس کو ہمارے تابع کیا اور ہم اسے قبضہ کرنے والے نہ تھے۔ تو آپ نے فرمایا : تمہیں کیا اس طرح پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے ؟ اس نے کہا : میں کیسے پڑھوں ؟ آپ نے فرمایا : اس طرح کہو : سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے اسلام کے لیے ہدایت بخشی۔ سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ مجھ پر احسان کیا۔ سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے بنایا مجھے بہترین امت میں جسے لوگوں کی نفع رسانی کے لیے بھیجا گیا ہے، پھر یہ دعا پڑھو۔ اللہ پاک ہے جس نے اس کو ہمارے لیے مسخر کیا۔