حدیث نمبر: 31678
٣١٦٧٨ - (١) حدثنا وكيع بن الجراح عن ابن أبي ليلى عن عطاء عن ابن عباس أنه قال: لا تقوموا تدعون كما تصنع اليهود في كنائسهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : تم لوگ کھڑے ہو کر دعا مت کرو جیسا کہ یہود اپنے گرجاؤں میں کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 31679
٣١٦٧٩ - (١) حدثنا وكيع عن مسعر عن ابن الأصبهاني عن أبي عبد الرحمن أنه رأى رجلا يدعو قائما بعد ما انصرف فسبه أو شتمه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن الاصبھانی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبد الرحمن نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھنے کے بعد کھڑا ہو کر دعا کر رہا تھا۔ تو آپ نے اس کو بُرا بھلا کہا یا اس کو گالی دی۔
حدیث نمبر: 31680
٣١٦٨٠ - (حدثنا) (١) وكيع عن مسعر عن الحكم عن (عبدة) (٢) بن أبي لبابة عن عبد الرحمن بن يزيد أنه كرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدہ بن ابو لبابہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن یزید کھڑے ہو کر دعا کرنے کو مکروہ سمجھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 31727
(٣١٧٢٧) [*] (١) حدثنا (أبو) (٢) معاوية عن حجاج عن الحكم عن عبد الرحمن بن يزيد عن عبد اللَّه قال: اثنتان بدعة: أن يقوم الرجل بعد ما يفرغ من صلاته مستقبل القبلة يدعو، وأن يسجد السجدة الثانية فيرى أن حقًّا عليه أن يلزق إليتيه بالأرض قبل أن (ينهض) (٣) (٤).
حدیث نمبر: 31681
٣١٦٨١ - حدثنا ابن علية عن ليث عن مجاهد أنه كره القيام بعدها (تشبها) (١) باليهود.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نماز کے بعد کھڑے ہو کر دعا مانگنے کو ناپسند کرتے تھے یہود کی مشابہت کی وجہ سے۔
حدیث نمبر: 31682
٣١٦٨٢ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن جويبر عن الضحاك عن عبد اللَّه أنه بلغه أن قومًا يذكرون اللَّه قيامًا قال: فأتاهم، فقال: ما هذا (النكراء) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو خبر پہنچی : کہ ایک قوم کھڑے ہو کر اللہ کا ذکر کرتی ہے۔ ضحاک فرماتے ہیں۔ پس آپ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : یہ کیا بُرا کام ہے ؟ !۔
حدیث نمبر: 31683
٣١٦٨٣ - حدثنا عباد بن العوام عن جميل بن زيد قال: رأيت ابن عمر دخل البيت وصلى ركعتين ثم خرجت وتركته قائمًا يدعو ويكبر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جمیل بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا وہ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر میں نکل آیا اس حال میں کہ میں نے ان کو چھوڑا کہ وہ کھڑے ہو کر دعا کر رہے تھے اور تکبیر کہہ رہے تھے۔
حدیث نمبر: 31684
٣١٦٨٤ - حدثنا غندر عن شعبة قال: قلت لمغيرة كان إبراهيم يكره إذا انصرف أن يقوم مستقبل القبلة يرفع يديه قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مغیرہ سے پوچھا؛ کیا ابراہیم اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ نماز سے فارغ ہو کر کوئی شخص قبلہ رو کھڑے ہو کر اپنے ہاتھوں کو بلند کرے ؟ تو آپ نے فرمایا ! جی ہاں !