کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو شخص کہے: انگلی بلند کرکے دعاء کی جائے
حدیث نمبر: 31659
٣١٦٥٩ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن عاصم بن كليب عن أبيه عن وائل بن حجر قال: رأيت النبي ﷺ (وضع) (١) حد مرفقه الأيمن على فخذه اليمنى وحلق (بالإبهام) (٢) والوسطى ورفع التي تلي (الإبهام) (٣) يدعو بها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وائل بن حجر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دائیں کو ہنی کی انتہاء کو اپنی دائیں ران پر رکھا اور انگوٹھے اور درمیانی انگلی کے ساتھ حلقہ بنایا ۔ اور شہادت کی انگلی کو بلند کر کے دعا مانگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31659
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ كليب بن شهاب صدوق، أخرجه أحمد (١٨٨٥٠) والنسائي ٢/ ٢٣٦، وابن ماجه (٩١٢)، والشافعي في السند ١/ ٧٣، والطبراني ٢٢/ (٨٥)، والدارقطني ١/ ٢٩٠، والبيهقي ٢/ ٧٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31659، ترقيم محمد عوامة 30295)
حدیث نمبر: 31660
٣١٦٦٠ - حدثنا وكيع عن عصام بن قدامة عن مالك بن نمير الخزاعي عن أبيه قال: رأيت رسول اللَّه ﷺ جالسا في الصلاة واضعا يده اليمنى على فخذه [يشير بأصبعه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نمیر الخزاعی فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں بیٹھنے کی حالت میں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ کو اپنی دائیں ران پر رکھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی انگلی سے اشارہ فرما رہے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31660
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31660، ترقيم محمد عوامة 30296)
حدیث نمبر: 31661
٣١٦٦١ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن عامر بن عبد اللَّه بن الزبير عن أبيه قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا قعد يدعو وضع يده اليمنى على فخذه] (١) اليمنى، ويده اليسرى على فخذه (اليسرى) (٢) وأشار بأصبعه السبابة ووضع إبهامه ⦗٣٠٨⦘ على إصبعه الوسطى، وتلقم كفه اليسرى (ركبتيه) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیٹھ کر دعا کرتے تھے تو اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھ لیتے اور اپنے بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھ لیتے۔ اور شہادت کی انگلی کے ساتھ اشارہ فرماتے ، اس حال میں کہ انگوٹھے کو درمیانی انگلی کے سرے پر رکھتے تھے، اور اپنی بائیں ہتھیلی کو گھٹنے سے ملا دیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31661
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد وابن عجلان صدوقان، أخرجه مسلم (٥٧٩)، وأحمد (١٦١٠٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31661، ترقيم محمد عوامة 30297)
حدیث نمبر: 31662
٣١٦٦٢ - حدثنا جرير عن منصور عن راشد أبي سعد عن (١) سعيد بن عبد الرحمن بن أبزى قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا جلس في الصلاة وضع يده على فخذه ويشير بأصبعه في الدعاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن عبدالرحمن بن ابزی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کی حالت میں بیٹھتے تو اپنے ہاتھ کو اپنی ران پر رکھ لیتے۔ اور دعا میں اپنی انگلی سے اشارہ فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31662
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31662، ترقيم محمد عوامة 30298)
حدیث نمبر: 31663
٣١٦٦٣ - حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: أبصر النبي ﷺ سعدًا وهو يدعو (بأصبعيه) (١) فقال: "يا سعد أحد أحد" (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد کو دیکھا کہ وہ اپنی انگلیوں کے ساتھ دعا فرما رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک سے کرو، ایک سے کرو۔ (یعنی ایک انگلی سے دعا کرو)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31663
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، ولا يمتنع أن يروي أبو صالح هذا عن سعد وأبي هريرة، وأخرجه أحمد وابنه (٩٤٣٩)، والطبراني في الدعاء (٢١٥)، والترمذي (٣٥٥٧)، والنسائي ٣/ ٣٨، والحاكم ١/ ٥٣٦، والبيهقي في الدعوات الكبير (٢٦٥)، كما أخرجه ابن حبان (٨٨٤)، والطبراني في الأوسط (٣٥٧٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31663، ترقيم محمد عوامة 30299)
حدیث نمبر: 31664
٣١٦٦٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن (التميمي) (١) عن ابن عباس قال: هو الإخلاص -يعني الدعاء بأصبع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تمیمی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : وہ تو اخلاص ہے یعنی انگلی سے دعا کرنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31664
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31664، ترقيم محمد عوامة 30300)
حدیث نمبر: 31665
٣١٦٦٥ - حدثنا ابن علية عن سلمة بن علقمة عن محمد (عن) (١) كثير بن أفلح قال: صليت (٢)، فلما كان في آخر القعدة قلت: هكذا، (و) (٣) (أشار) (٤) ابن علية (بإصبعيه) (٥) -فقبض ابن عمر هذه يعني اليسرى (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کثیر بن الافلح فرماتے ہیں کہ میں نے نماز پر ھی پس جب میں آخری قعدہ میں تھا، میں نے ایسے کیا : اور ابن علیہ نے اپنی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو بند کردیا یعنی بائیں انگلی کو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31665
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31665، ترقيم محمد عوامة 30301)
حدیث نمبر: 31666
٣١٦٦٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عطاء عن ابن عمر أنه كان يشير بأصبعه في الصلاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نماز میں اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31666
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31666، ترقيم محمد عوامة 30302)
حدیث نمبر: 31667
٣١٦٦٧ - حدثنا وكيع عن مسعر عن أبي علقمة عن عائشة قالت: إن اللَّه وتر يحب (الوتر) (١) أن (يدعو) (٢) هكذا -وأشارت بأصبع واحدة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : اللہ ایک ہے ، اللہ پسند کرتا ہے کہ اس طرح دعا مانگی جائے : اور آپ نے اپنی ایک انگلی سے اشارہ کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31667
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31667، ترقيم محمد عوامة 30303)
حدیث نمبر: 31668
٣١٦٦٨ - حدثنا حفص بن غياث عن هشام عن ابن سيرين عن أبي هريرة أنه رأى رجلا يدعو بأصبعيه (كليهما) (١) فنهاه وقال: بأصبع واحد باليمنى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنی دونوں انگلیوں کے ساتھ دعا کر رہا تھا، تو آپ نے اس کو منع فرما دیا، اور ارشاد فرمایا : دائیں ہاتھ کی انگلی کے ساتھ دعا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31668
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وقد ورد مرفوعًا عند ابن حبان (٨٨٤)، والطبراني في الأوسط (٣٥٧٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31668، ترقيم محمد عوامة 30304)
حدیث نمبر: 31669
٣١٦٦٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن سليمان بن أبي يحيى ⦗٣١٠⦘ قال: كان أصحاب رسول اللَّه ﷺ يأخذ بعضهم على بعض -يعني الإشارة بأصبع في الدعاء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن ابی یحییٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ان میں سے کچھ رکھتے تھے یعنی دعا میں انگلی سے اشارہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31669
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سليمان بن أبي يحيى صدوق، روى عن أبي هريرة وابن عمر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31669، ترقيم محمد عوامة 30305)
حدیث نمبر: 31670
٣١٦٧٠ - حدثنا وكيع عن مسعر عن عبد الملك بن عمير عن ابن الزبير قال: إنكم لتدعون أفضل الدعاء هكذا -وأشار بأصبعه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن الزبیر نے ارشاد فرمایا : یقینا تم لوگ دعا کرتے ہو۔ اور افضل دعا اس طرح سے ہے اور آپ نے اپنی انگلی کا اشارہ کر کے دکھایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31670
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31670، ترقيم محمد عوامة 30306)
حدیث نمبر: 31671
٣١٦٧١ - [حدثنا وكيع عن مسعر عن معبد بن خالد عن قيس بن سعد قال: كان لا (يزاد) (١) هكذا وأشار بأصبعه] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معبد بن خالد فرماتے ہیں کہ حضرت قیس بن سعد نے ارشاد فرمایا : اس طرح سے زیادہ نہیں کیا جاتا تھا اور آپ نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31671
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31671، ترقيم محمد عوامة 30307)
حدیث نمبر: 31672
٣١٦٧٢ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا أشار الرجل بأصبعه في الصلاة فهو حسن وهو التوحيد، ولكن لا يشير بأصبعه فإنه يكره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص نماز میں اپنی انگلی سے اشارہ کرتا ہے تو یہ اچھی بات ہے ، اور یہ توحید ہے، اور لیکن وہ اپنی دو انگلیوں سے اشارہ مت کرے۔ کیونکہ یہ مکروہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31672
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31672، ترقيم محمد عوامة 30308)
حدیث نمبر: 31673
٣١٦٧٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن طلحة عن خيثمة أنه كان (يعقد) (١): ثلاثًا (وخمسين) (٢)، ويشير بأصبعه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ فرماتے ہیں کہ حضرت خیثمہ تریپن تک گنتے تھے اور ایک انگلی سے اشارہ کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31673
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31673، ترقيم محمد عوامة 30309)
حدیث نمبر: 31674
٣١٦٧٤ - حدثنا (حفص) (١) بن غياث عن عثمان بن الأسود عن مجاهد أنه قال: الدعاء هكذا -وأشار بأصبع واحدة مقمعة للشيطان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن الاسود فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے ارشاد فرمایا : دعا تو اس طرح ہوتی ہے ۔ اور آپ نے ایک انگلی سے اشارہ فرمایا۔ شیطان کو قابو رکھنے کے لیے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31674
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31674، ترقيم محمد عوامة 30310)
حدیث نمبر: 31675
٣١٦٧٥ - حدثنا وكيع عن ابن عون عن ابن سيرين قال: كانوا إذا (رأوا) (١) ⦗٣١١⦘ إنسانًا (يدعو) (٢) بأصبعيه ضربوا (إحداهما) (٣) وقالوا: إنما هو إله واحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ صحابہ جب بھی کسی شخص کو دیکھتے کہ وہ دو انگلیوں کے ساتھ دعا کر رہا ہے ۔ تو وہ ایک انگلی کو مارتے اور کہتے : یقینا وہ ایک معبود ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31675
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31675، ترقيم محمد عوامة 30311)
حدیث نمبر: 31676
٣١٦٧٦ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن إسرائيل عن أشعث بن أبي الشعثاء عن رجل من الأنصار حدثه عن جده أن رسول اللَّه ﷺ مر عليه وهو يدعو بيديه فقال: "أحد، فإنه أحد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک انصاری آدمی فرماتے ہیں کہ ان کے دادا کے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا اس حال میں کہ وہ دو انگلیوں سے دعا کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک سے دعا کر کیونکہ وہ ایک ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31676
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31676، ترقيم محمد عوامة 30312)