کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: دعاء کرتے ہوئے آواز بلند کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 31642
٣١٦٤٢ - حدثنا وكيع عن أسامة بن زيد عن ابن أبي (لبيبة) (١) عن سعد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "خير الذكر الخفي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بہترین ذکر وہ ہے جو آہستہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31642
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ ابن أبي لبيبة ضعيف ولم يلق سعدًا، أخرجه أحمد (١٤٧٨)، ووكيع في الزهد (١١٨)، وأبو يعلى (٧٣١)، والشاشي (١٨٣)، وابن حبان (٨٠٩)، والبيهقي في شعب الإيمان (٥٥٣)، والقضاعي في مسند النهاية (١٢٢٠) والحربي في غريب الحديث ٢/ ٨٤٥، وعبد بن حميد (١٣٧)، وسيأتي ١٣/ ٢٤٠ برقم [٣٧٠٩٦].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31642، ترقيم محمد عوامة 30279)
حدیث نمبر: 31643
٣١٦٤٣ - حدثنا أبو داود عن هشام عن يحيى عن رجل عن عائشة قالت: ⦗٣٠٣⦘ الذكر الخفي الذي لا يكتبه الحفظة، يضاعف على ما سواه من الذكر سبعين ضعفًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آہستہ ذکر جس کو فرشتے نہیں لکھ سکتے۔ اس کا ثواب دوسرے ذکر کی نسبت ستر گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31643
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31643، ترقيم محمد عوامة 30280)
حدیث نمبر: 31644
٣١٦٤٤ - حدثنا ابن فضيل وأبو (معاوية) (١) عن عاصم عن أبي عثمان عن أبي موسى قال: كنا مع النبي ﷺ في سفر فجعل الناس يجهرون بالتكبير فقال النبي ﷺ: "أرْبَعُوا على أنفسكم فإنكم (لا) (٢) تدعون أصم ولا غائبًا، إنكم تدعونه (سميعًا) (٣) قريبًا وهو معكم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ پس لوگ بلند آواز میں تکبیر کہہ رہے تھے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنی جانوں پر نرمی کرو۔ تم لوگ کسی بہرے کو اور نہ ہی غیر موجود کو پکار رہے ہو۔ بلکہ تم لوگ ایسی ذات کو پکار رہے ہو جو سننے والا اور قریب ہے اور وہ ذات تمہارے ساتھ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31644
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٩٢)، ومسلم (٢٧٠٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31644، ترقيم محمد عوامة 30281)
حدیث نمبر: 31645
٣١٦٤٥ - (١) حدثنا علي بن (هاشم) (٢) عن ابن أبي ليلى عن صدقة عن ابن عمر عن النبي ﷺ قال: "إن المصلي (إذا صلى) (٣) (يناجي) (٤) ربه فليعلم (أحدكم) (٥) بما يناجيه ولا يجهر بعضكم على بعض" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نمازی جب نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے۔ پس چاہیے کہ تم میں سے ہر ایک جان لے کہ وہ اس ذات سے کیا سرگوشی کر رہا ہے۔ اور تم میں سے بعض لوگ دوسروں پر آواز بلند نہ کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31645
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لسوء حفظ ابن أبي ليلى، أخرجه أحمد (٥٣٤٩)، وابن خزيمة (٢٢٣٧)، والبزار (٧٢٦/ كشف)، والطبراني (١٣٥٧٢)، والسهمي في تاريخ جرجان ص ١١٥ و ٣٨٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31645، ترقيم محمد عوامة 30282)
حدیث نمبر: 31646
٣١٦٤٦ - (١) حدثنا وكيع عن عمران بن حدير عن أبي مجلز عن ابن عمر قال: أيها الناس، إنكم لا تدعون أصم ولا غائبًا -يعني (٢) رفع الصوت في الدعاء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ا بو مجلز فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکارتے، یعنی وہ دعا میں آواز بلند کرنے سے متعلق بات کر رہے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31646
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31646، ترقيم محمد عوامة 30283)
حدیث نمبر: 31647
٣١٦٤٧ - حدثنا يحيى بن سعيد عن عبد اللَّه بن (نسيب) (١) قال: صليت إلى جنب سعيد بن المسيب، فلما جلست في الركعة الثانية رفعت صوتي بالدعاء فانتهرني، فلما (انصرفت) (٢) قلت له: ما كرهت مني؟ قال: ظننت أن اللَّه ليس بقريب منك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن نسیب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب کے پہلو میں نماز پڑھی ۔ پس جب میں دوسری رکعت میں بیٹھا۔ تو دعا کرتے ہوئے میر ی آواز بلند ہوگئی۔ تو انہوں نے مجھے خوب جھڑکا۔ جب میں نماز سے فارغ ہوا تو میں نے ان سے پوچھا : آپ کو میری کیا چیز ناپسند لگی ؟ انہوں نے فرمایا : تیرا کیا گمان ہے کیا اللہ تجھ سے قریب نہیں ہے ؟ !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31647
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31647، ترقيم محمد عوامة 30284)
حدیث نمبر: 31648
٣١٦٤٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي هاشم عن مجاهد أنه سمع رجلًا يرفع صوته في الدعاء فرماه بالحصى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہاشم فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے ایک آدمی کو دعا کے دوران آواز بلند کرتے ہوئے سنا تو انہوں نے اس کو کنکری ماری۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31648
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31648، ترقيم محمد عوامة 30285)
حدیث نمبر: 31649
٣١٦٤٩ - حدثنا وكيع عن ربيع عن (يزيد) (١) بن أبان عن أنس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ربیع اور حسن دونوں حضرات ناپسند کرتے تھے : کہ آدمی کی دعا کو اس کا ہمنشین بھی سن لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31649
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31649، ترقيم محمد عوامة 30286)
حدیث نمبر: 31650
٣١٦٥٠ - وعن ربيع عن الحسن أنهما كرها أن يسمع الرجل جليسه شيئا من الدعاء.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31650
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31650، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 31651
٣١٦٥١ - حدثنا وكيع عن مبارك عن الحسن قال: كانوا يجتهدون في الدعاء: ولا تسمع إلا همسا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مبارک فرماتے ہیں کہ حسن نے ارشاد فرمایا : صحابہ دعا میں بہت زیادہ کوشش کرتے تھے۔ اور نہیں سنائی دیتی تھی مگر سرگوشی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31651
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31651، ترقيم محمد عوامة 30287)