کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: جو کہے: کنکریاں مارتے وقت کوئی دعا متعین نہیں
❮
❯
٣١٦٣٢ - حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن إبراهيم قال: ليس على الوقوف عند الجمرتين دعاء مؤقت فادع بما شئت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : دونوں جمروں کے پاس وقوف کے وقت کوئی دعا متعین نہیں جو چاہے دعا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31632
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31632، ترقيم محمد عوامة 30269)
٣١٦٣٣ - (١) حدثنا محمد بن أبي عدي عن أشعث قال: كان الحسن يقول: يدعو عند الجمار كلها ولا يؤقت شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حسن فرمایا کرتے تھے : جمار کے پاس تمام دعائیں مانگا کرو، وہاں کوئی دعا متعین نہیں کی گئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31633
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31633، ترقيم محمد عوامة 30270)
٣١٦٣٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: في الجمرة شيء موقت لا يزاد عليه؟ قال: لا، إلا قول جابر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا؛ کیا جمرہ کے نزدیک کوئی دعا متعین ہے جس میں زیادتی نہیں کی جاسکتی ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : نہیں، مگر حضرت جابر کے قول میں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31634
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31634، ترقيم محمد عوامة 30271)