کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان آدمی یوں دعا کرے
حدیث نمبر: 31611
٣١٦١١ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن يحيى بن عبيد عن أبيه عن (عبد اللَّه) (١) بن السائب قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول بين الركن والحجر: ﴿رَبَّنَا ⦗٢٩٤⦘ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ (٢) [البقرة: ٢٠١].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن السائب فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے : اے ہمارے رب ! دے ہمیں دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھلائی، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31611
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31611، ترقيم محمد عوامة 30248)
حدیث نمبر: 31612
٣١٦١٢ - حدثنا أسباط بن محمد عن عطاء عن سعيد بن جبير قال: كان من دعاء ابن عباس الذي لا يدع بين الركن والمقام أن يقول: اللهم قنعني بما رزقتني (وبارك لي فيه) (١)، واخلف عليّ كل غائبة لي بخير (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی تھی جسے وہ کبھی بھی حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان پڑھنا نہیں بھولتے تھے۔ اے اللہ ! مجھے قناعت عطا فرما اس رزق میں جو تو نے مجھے عطا فرمایا ہے، اور تو میرے لے ا اس میں برکت عطا فرما، اور تو میرا جانشین بن جا اس غیر موجود چیز میں جس میں میرے لیے بھلائی ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31612
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عطاء اختلط، أخرجه موقوفًا البخاري في الأدب المفرد (٦٨١)، وورد مرفوعًا، أخرجه ابن خزيمة (٢٧٢٨)، والحاكم ١/ ٤٥٥، والضياء في المختارة ١٠/ ٣٩٥ (٤١٩)، والبيهقي في الدعوات (٢١١) وشعب الإيمان (١٠٣٤٧)، والسهمي في تاريخ جرجان (٥٠)، والفاكهي في أخبار مكة (٢٦٩)، وابن السني في القناعة (١١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31612، ترقيم محمد عوامة 30249)
حدیث نمبر: 31613
٣١٦١٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن هلال بن يساف عن أبي شعبة عن ابن عمر أنه كان يقول عند الركن والحجر: ﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ (١) [البقرة: ٢٠١].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو شعبہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے، ہمارے رب ! دے ہمیں خوبی دنیا میں ، اور آخرت میں خوبی اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31613
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31613، ترقيم محمد عوامة 30250)
حدیث نمبر: 31614
٣١٦١٤ - حدثنا أبو خالد عن ابن هرمز عن مجاهد عن ابن عباس (قال) (١): على الركن اليماني ملك يقول: آمين فإذا مررتم به فقولوا: اللهم ﴿(رَبَّنَا) (٢) آتِنَا ⦗٢٩٥⦘ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : کہ رکن یمانی پر ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے جو دعاؤں پر آمین کہتا ہے، پس جب بھی تم اس کے پاس سے گزرو تو یہ دعا پڑھو ! اے اللہ ! ہمارے رب دے ہمیں دنیا میں خوبی اور آخرت میں خوبی اور ہمیں جہنم کے عذا ب سے بچا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31614
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ ابن هرمز هو عبد اللَّه بن مسلم بن هرمز ضعيف، أخرجه الخطيب ١٢/ ٢٢٦، وورد مرفوعًا عند الفاكهي (٧٤)، وموقوفًا على مجاهد عند الأزرقي ١/ ٣٤١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31614، ترقيم محمد عوامة 30251)