کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو شخص رات سے ڈرتا ہو تو وہ یوں دعا کرے
حدیث نمبر: 31597
٣١٥٩٧ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد قال: (حدثنا) (١) مكحول أن رسول اللَّه ﷺ لما دخل مكة تلقته الجن بالشرر يرمونه، فقال جبريل: تعوذ يا محمد، فتعوذ بهؤلاء الكلمات فدحروا عنه: "أعوذ بكلمات اللَّه التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر، من شر ما ينزل من السماء وما يعرج فيها، ومن شر ما بث في الأرض وما يخرج، ومن شر الليل والنهار، ومن كل طارق إلا طارقًا يطرق بخير يا رحمن" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ جن ملے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر انگارے پھینکے، تو حضرت جبرائیل نے فرمایا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پناہ مانگیے : تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کلمات کے ذریعہ پناہ مانگی، پھر ان جنوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہٹا دیا گیا : میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ کہ جن سے کوئی نیکو کار اور بدکار تجاوز نہیں کرسکتا۔ ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترتی ہے، اور جو آسمان میں بلند ہوتی ہے، اور ہر اس چیز کے شر سے جو زمین میں پھیلتی ہے، اور زمین سے نکلتی ہے، اور دن اور رات کے شر سے ، اور ہر رات کو آنے والے خیر کی توقع کرتے ہوئے اے رحم کرنے والے !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31597
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل معلول؛ مكحول تابعي، وأبو أسامة إنما يروي عن ابن تميم.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31597، ترقيم محمد عوامة 30234)
حدیث نمبر: 31598
٣١٥٩٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يحيى بن سعيد (عن محمد بن يحيى ابن حبان) (١) أن الوليد بن الوليد بن المغيرة الخزومي شكا إلى رسول اللَّه ﷺ حديث نفس وجده وأنه قال له: "إذا أتيت إلي فراشك فقل: أعوذ بكلمات اللَّه التامة من غضبه وعقابه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون فوالذي نفسي بيده لا يضرك شيء حتى تصبح" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن یحییٰ بن حبان فرماتے ہیں کہ حضرت ولید بن مغیرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دل میں آنے والے خیالات کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا : جب تو اپنے بستر میں آئے تو یہ کلمات پڑھ ، میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ، اس کے غصہ اور اس کی پکڑ سے اور اس کے بندوں کے شر سے، اور شیطان کے وسوسوں سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تجھے کوئی بھی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی یہاں تک کہ تو صبح کرلے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31598
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ محمد بن يحيى بن حبان ليس صحابيًا، أخرجه مالك ٢/ ٩٥٠، وأحمد (١٦٥٧٣)، ومسدد كما في المطالب (٣٣٦٤)، وابن السني (٧٥٥)، والبيهقي في الأسماء والصفات ص ١٨٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31598، ترقيم محمد عوامة 30235)
حدیث نمبر: 31599
٣١٥٩٩ - حدثنا عبد اللَّه بن (نمير) (١) عن زكريا بن أبي زائدة عن مصعب عن يحيى بن جعدة قال: كان خالد بن الوليد يفزع من الليل حتى يخرج ومعه سيفه ⦗٢٩٠⦘ فخشي عليه أن يصيب أحدا، فشكا ذلك إلى (رسول اللَّه) (٢) ﷺ فقال: "إن جبريل قال لي: إن عفريتا من الجن يكيدك (فقل) (٣): أعوذ بكلمات اللَّه التامة التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما ينزل من السماء وما يعرج فيها، ومن شر ما ذرأ في الأرض وما يخرج منها، (و (من) (٤) شر) (٥) فتن الليل والنهار، و (٦) كل طارق إلا طارقًا يطرق بخير يا رحمن"، فقالهن خالد فذهب ذلك عنه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن جعدہ فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رات سے ڈرتے تھے، یہاں تک کہ وہ نکلے اس حال میں کہ ان کے پاس تلوار تھی۔ پس ان پر خوف طاری ہوگیا کہ وہ کسی کو تکلیف پہنچا دیں گے پس انہوں نے اس بات کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرائیل نے مجھ سے فرمایا ہے : کہ جنوں کی ایک جماعت تیرے ساتھ مکر و فریب کرتی ہے، پس تو یہ کلمات پڑھ لے : میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ کہ جن سے کوئی نیکو کار اور بدکار تجاوز نہیں کرسکتا، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے اور جو آسمان میں بلند ہوتی ہے، اور اس چیز کے شر سے جو زمین میں پیدا ہوتی ہے اور جو زمین سے نکلتی ہے، اور دن اور رات کے فتنوں کے شر سے، اور ہر رات کو آنے والے سے مگر جو خیر لائے، اے رحم کرنے والے، پس حضرت خالد نے ان کلمات کو پڑھا، تو ان کی یہ حالت ختم ہوگئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31599
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ يحيى بن جعدة ليس صحابيًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31599، ترقيم محمد عوامة 30236)
حدیث نمبر: 31600
٣١٦٠٠ - حدثنا عبدة بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا فزع أحدكم من نومه فليقل: بسم اللَّه، أعوذ بكلمات اللَّه التامة من غضبه وسوء عقابه وشر عباده ومن شر الشياطين (وما) (١) يحضرون" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص رات کو اپنی نیند میں ڈر جائے ، تو یہ کلمات پڑھے : اللہ کے نام کے ساتھ : میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کی، اس کے غضب سے اور اس کی بری پکڑ سے، اور اس کے بندوں کے شر سے، اور شیطانوں کے شر سے، اور جو کچھ وہ حاضر ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31600
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31600، ترقيم محمد عوامة 30237)
حدیث نمبر: 31601
٣١٦٠١ - حدثنا عفان بن مسلم حدثنا جعفر بن سليمان حدثنا أبو التياح قال: سأل رجل (عبد اللَّه) (١) بن (خنبش) (٢) كيف صنع رسول اللَّه ﷺ حين كادته ⦗٢٩١⦘ الشياطين؟ قال: جاءت الشياطين إلى رسول اللَّه ﷺ من الأودية وتحدرت عليه من الجبال، وفيهم شيطان معه شعلة نار يريد أن يحرق بها رسول اللَّه ﷺ فأرعب منهم قال: جعفر أحسبه قال: جعل يتأخر، قال: وجاءه جبريل فقال: يا محمد قل: قال: "ما أقول؟ " قال: "قل أعوذ بكلمات اللَّه التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما خلق وذرأ وبرأ، ومن شر ما ينزل من السماء، ومن شر ما يعرج فيها، ومن شر ما ذرأ في الأرض، ومن شر ما يخرج منها، ومن شر فتن الليل والنهار، ومن شر كل طارق إلا طارقا يطرق بخير يا رحمن"، قال: فطفئت نار (الشياطين) (٣) قال: وهزمهم اللَّه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو التیاح فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن خنبش سے سوا ل کیا : جب شیاطین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دھوکہ دیتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کرتے تھے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ایک مرتبہ کچھ شیاطین وادیوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، اور پہاڑ سے اتر کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے، اس حال میں کہ ان میں ایک شیطان تھا جس کے پاس ایک انگارہ تھا، اس کا ارادہ تھا کہ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جلا دے گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ان کا رعب طاری ہوگیا، حضرت جعفر فرماتے ہیں : میرا گمان ہے کہ راوی نے کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیچھے ہٹنے لگے۔ راوی فرماتے ہیں : کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حضرت جبرائلب حاضر ہوئے۔ اور فرمایا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ پڑھیے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا : میں کیا پڑھوں ؟ حضرت جبرائیل نے ارشاد فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھیے ! میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ جن سے کوئی نیکو کار اور بدکار تجاوز نہیں کرسکتا، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ، جس کو وجود بخشا اور جسے پیدا کیا اور ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان میں بلند ہوتی ہے، اور اس چیز کے شر سے جو زمین میں پیدا ہوتی ہے، اور اس چیز کے شر سے جو زمین سے نکلتی ہے، اور دن اور رات کے فتنوں کے شر سے، اور ہر رات کو نمودار ہونے والی چیز کے شر سے مگر جو رات کو خیر لائے، اے رحمن ! راوی کہتے ہیں پس شیاطین کی آگ کو بجھا دیا گیا، کہتے ہیں پس اللہ نے ان شیاطین کو شکست دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31601
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ جعفر بن سليمان صدوق، أخرجه أحمد (١٥٤٦١)، وأبو يعلى (٦٨٤٤)، وابن السني (٦٣٧)، وأبو نعيم في الدلائل (١٣٧)، والبيهقي في الدلائل ٧/ ٩٥، وابن عبد البر في التمهيد ٢٤/ ١١٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31601، ترقيم محمد عوامة 30238)
حدیث نمبر: 31602
٣١٦٠٢ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر عن علقمة بن مرثد عن ابن (سابط) (١) قال: أصاب خالد بن الوليد أرقٌ فقال له النبي ﷺ: "ألا أعلمك كلمات إذا قلتهن نمت: اللهم رب السماوات (السبع) (٢) وما أظلت، ورب الأرضين (السبع) (٣) وما أقلت، ورب الشياطين وما أضلت، كن (جاري) (٤) من شر خلقك كلهم جميعًا أن يفرط علي أحد منهم أو يبغي، عز جارك ولا إله غيرك" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سابط فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید کو رات میں نیند نہیں آتی تھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں چند کلمات نہ سکھاؤں جب تم ان کو کہو گے تو تمہیں نیند آجائے گی ؟ تم یہ کلمات پڑھا کرو ! اے اللہ ! ساتوں آسمانوں کے رب اور جن چیزوں پر انہوں نے سایہ کیا ہوا ہے اور ساتوں زمینوں کے رب اور جن چیزوں کو انہوں نے اٹھا رکھا ہے اور شیاطین کے رب اور جو یہ گمراہ کرتے ہیں، تو میرا محافظ بن جا ! اپنی تمام مخلوق کے شر سے، کہ ان میں سے کوئی مجھ پر زیادتی کرے یا سرکشی کرے ، تیری پناہ غالب ہے ، اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31602
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ ابن سابط تابعي، أخرجه الطبراني (٣٨٣٩) وفي الصغير (٩٨٤)، وابن فضيل في الدعاء (١٢٦)، وقد ورد من طريق علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن أبيه، أخرجه الترمذي (٣٥٢٣)، والطبراني في الأوسط (١٤٦)، وابن عدي ٢/ ٢٠٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31602، ترقيم محمد عوامة 30239)