حدیث نمبر: 31585
٣١٥٨٥ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا أراد أن يخرج في سفر قال: "اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل، اللهم إني أعوذ بك من (الضبنة) (١) في السفر والكآبة في المنقلب، اللهم اقبض لنا الأرض، وهون علينا السفر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی سفر میں نکلنے کا ارادہ فرماتے تو یوں دعا کرتے : اے اللہ ! تو سفر میں میرا ساتھی ہے، اور گھر میں میرا خلیفہ ہے، اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر میں بیمار ہونے سے، اور غم کی حالت میں لوٹنے سے، اے اللہ ! ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے ، اور ہمارے لیے سفر کو آسان فرما۔
حدیث نمبر: 31586
٣١٥٨٦ - (حدثنا) (١) عبد الرحيم بن سليمان عن عاصم عن عبد اللَّه بن سرجس قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا خرج مسافرًا يتعوذ من وعثاء السفر وكآبة المنقلب والحور بعد الكور، ومن دعوة المظلوم (و (٢) سوء المنظر) (٣) في الأهل والمال (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن سرجس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کے لیے نکلتے تو پناہ مانگتے تھے سفر کی مشقت سے، اور غمگین لوٹنے سے، اور رزق میں کشادگی کے بعد تنگی سے، اور مظلوم کی بد دعا سے، اور گھر میں اور مال میں بُرا منظر دیکھنے سے۔
حدیث نمبر: 31587
٣١٥٨٧ - حدثنا وكيع عن أسامة بن زيد عن سعيد المقبري عن أبي هريرة قال: أراد رجل سفرا فأتى النبي ﷺ فقال: أوصني فقال: "أوصيك بتقوى اللَّه والتكبير ⦗٢٨٦⦘ على كل شرف" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سفر کا ارادہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا : مجھے وصیت فرما دیجئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تجھے وصیت کرتا ہوں اللہ سے ڈرنے کی ، اور ہر بلندی پر چڑھتے ہوئے تکبیر کہنے کی۔
حدیث نمبر: 31588
٣١٥٨٨ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن عجلان قال: حدثني عون بن عبد اللَّه أن رجلًا أتى ابن مسعود فقال: إني أريد سفرًا فأوصني، فقال: إذا توجهت (ففل) (١): بسم اللَّه، حسبي اللَّه، وتوكلت على اللَّه، فإنك إذا قلت: بسم اللَّه، قال الملك: هديت، وإذا قلت: حسبي اللَّه، قال الملك: حفظت، وإذا (قلت) (٢): توكلت على اللَّه، قال الملك: كفيت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا : میرا سفر کا ارادہ ہے پس آپ مجھے وصیت فرما دیجئے، تو آپ نے ارشاد فرمایا : جب تو سفر کے لیے متوجہ ہو تو یہ کلمات کہہ : اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں، مجھے اللہ کافی ہے، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، پس جب تو کہے گا اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں تو فرشتہ کہے گا، تجھے ہدایت دی گئی، اور جب تو کہے گا، مجھے اللہ کافی ہے، تو فرشتہ کہے گا، تیری حفاظت کی گئی، ، اور جب تو کہے گا، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا تو فرشتہ کہے گا، تیری کفایت کی گئی۔
حدیث نمبر: 31589
٣١٥٨٩ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يقولون في السفر: اللهم بلاغا يبلغ خير مغفرتك منك ورضوانا، (و) (١) بيدك الخير، إنك على كل شيء قدير، اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة على الأهل، (اللهم) (٢) اطو لنا الأرض وهون علينا السفر، اللهم إنا نعوذ بك من وعثاء السفر، وكآبة المنقلب وسوء المنظر في الأهل والمال.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ صحابہ سفر میں یوں دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! خیر کو پہنچا ایسی خیر جس میں تیری طرف سے مغفرت ہو اور تیری رضا ہو، خیر تیرے ہی قبضہ میں ہے، یقینا تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ، اے اللہ ! تو ہی سفر میں ہمارا ساتھی ہے۔ اور گھر والوں پر ہمارا خلیفہ ہے۔ اے اللہ ! ہمارے لیے زمین کی دوری کو ختم فرما، اور ہم پر سفر کو آسان فرما، اے اللہ ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں سفر کی مشقت سے، اور غمگین لوٹنے سے اور گھر اور مال میں بُرا منظر دیکھنے سے۔
حدیث نمبر: 31590
٣١٥٩٠ - حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن مجاهد قال: سافرت مع ابن عمر فإذا كان من السحر نادى: سمع سامع بحمد اللَّه ونعمته وحسن بلائه عندنا، اللهم ⦗٢٨٧⦘ صاحبنا فأفضل علينا ثلاثًا، اللهم عائذ بك من جهنم ثلاثًا (١)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ سفر کیا، پس جب صبح ہوئی تو آپ یوں ندا لگاتے تھے، تین مرتبہ، سننے والے نے سن لیا اللہ کی حمد اور اس کی نعمت اور اس کی طر ف سے ہم پر ہر اچھے انعام کو ، اے اللہ ! تو ہمارا ساتھی بن ! پس ہم پر فضل فرما، پھر تین مرتبہ یوں ندا لگاتے : اے اللہ ! پناہ مانگتا ہوں جہنم سے۔