کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان دعائوں کا بیان جو مختلف اصحاب سے منقول ہیں
حدیث نمبر: 31571
٣١٥٧١ - حدثنا الحسن بن موسى أخبرنا حماد بن سلمة عن أبي جعفر الخطمي عن محمد بن كعب عن عبد اللَّه بن يزيد الخطمي أنه كان يقول: اللهم ارزقني حبك وحب من (ينفعني) (١) حبه عندك، اللهم (و) (٢) ارزقني (ما) (٣) أحب واجعله قوة لي فيما تحب، وما زويت عني مما أحب فاجعله لي فراغا فيما تحب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن کعب فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن یزید الخطمی یوں دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! تو مجھے اپنی محبت سے نواز دے۔ اور اس شخص کی محبت سے جس کی محبت مجھے تیرے نزدیک نفع پہنچائے۔ اے اللہ ! تو مجھے عطا فرما وہ چیز جسے میں پسند کرتا ہوں۔ اور تو مجھ میں قوت دے اس چیز کے بارے میں جسے تو پسند کرتا ہے اور میری محبوب چیزوں میں سے جو تو نے مجھ سے دور کی ہیں ان کے بدلے میرے دل کو ان چیزوں میں لگا دے جو تجھے محبوب ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31571
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وورد مرفوعًا أخرجه الترمذي (٣٤٩١)، وابن المبارك في الزهد (٤٣٠)، والطبراني في الدعاء (١٤٠٣)، وابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ٤٢٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31571، ترقيم محمد عوامة 30208)
حدیث نمبر: 31572
٣١٥٧٢ - حدثنا عباد بن عوام عن حصين عن إبراهيم قال: كان منا رجل يقال له همام بن الحارث، وكان لا ينام إلا قاعدًا في مسجده في صلاته وكان يقول: اللهم اشفني من النوم بيسير، وارزقني سهرًا في طاعتك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ہم میں ایک آدمی تھا جس کا نام حارث بن ھمام تھا۔ وہ نہیں سوتا تھا مگر مسجد میں تھوڑی دیر بیٹھ کر نماز کے حالت میں ، اور یوں دعا کیا کرتا تھا : اے اللہ ! تو مجھے تھوڑی سی ہی نیند کے ذریعہ شفا دے، اور مجھے اپنی فرمانبرداری میں جاگنا عطا فرما۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31572
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31572، ترقيم محمد عوامة 30209)
حدیث نمبر: 31573
٣١٥٧٣ - حدثنا محمد بن بشر وأبو أسامة عن مسعر قال: (حدثنا) (١) (زياد) (٢) ابن علاقة عن عمه (قطبة) (٣) بن مالك أنه كان يقول: اللهم جنبني منكرات الأعمال والأخلاق والأهواء (والأدواء) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیادہ بن علاقہ فرماتے ہیں کہ ان کے چچا حضرت قطبہ بن مالک یوں دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! تو مجھے محفوظ رکھ برے اعمال سے اور برے اخلاق سے ، اور بری خواہشات سے اور بیماریوں سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31573
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31573، ترقيم محمد عوامة 30210)
حدیث نمبر: 31574
٣١٥٧٤ - حدثنا وكيع عن مسعر عن الهيثم (١) عن طلحة عن مجاهد قال: كان يتعوذ من الأسد والأسود و (دوح) (٢) الأذى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد پناہ مانگا کرتے تھے شیر سے، اور خطرناک سانپ سے اور نفس کی تکلیف سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31574
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31574، ترقيم محمد عوامة 30211)
حدیث نمبر: 31575
٣١٥٧٥ - (١) حدثنا (عبيدة) (٢) بن حميد عن الأعمش عن طلحة (اليامي) (٣) عن أبي إدريس رجل من أهل اليمن كان يقول: اللهم اجعل نظري عبرًا، وصمتي تفكرًا، ومنطقي ذكرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ الیامی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ادریس جو کہ اہل یمن مں ا سے ہیں وہ یوں دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! میری آنکھ کو رونے والا بنا دے اور میری خاموشی کو سوچنے والا بنا دے اور میرے بولنے کو ذکر میں بدل دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31575
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31575، ترقيم محمد عوامة 30212)
حدیث نمبر: 31576
٣١٥٧٦ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن أبي قلابة أنه قال في دعائه: اللهم إني أسألك الطيبات، (وترك) (١) المنكرات، وحب المساكين، وأن تتوب علي، وإذا أردت بعبادك فتنة فتوفني غير مفتون.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو قلابہ نے اپنی دعا میں یہ کلمات کہے : اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں پاکیزہ چیزوں کا، اور برائیوں کے چھوڑنے کا، اور مسکینوں کی محبت کا اور یہ کہ تو میری توبہ قبول کرلے، اور جب تو اپنے بندوں کو فتنہ میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے فتنہ میں مبتلا کے بغیر ہی موت دے دینا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31576
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31576، ترقيم محمد عوامة 30213)
حدیث نمبر: 31577
٣١٥٧٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير حدثنا موسى بن مسلم الطحان عن عبد الرحمن بن سابط قال: كان نفر (متواخين) (١) قال: ففقدوا رجلًا منهم أيامًا، (ثم) (٢) أتاهم فقالوا: أين كنت؟ فقال: دين كان علي، فقال: هلا دعوت (بهؤلاء) (٣) الدعوات: اللهم منفس كل كرب، وفارج كل هم، وكاشف كل غم، ومجيب دعوة المضطرين، رحمن الدنيا والآخرة ورحيمهما، أنت رحماني فارحمني يا رحمن رحمة تغنيني بها عن رحمة من سواك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن سابط فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ آپس میں بھائی بھائی بن گئے تھے، راوی کہتے ہیں : پھر ان لوگوں نے اپنے ایک ساتھی کو کچھ دن گم پایا پھر وہ واپس آگیا، انہوں نے پوچھا : تم کہاں تھے ؟ پس وہ کہنے لگا ! مجھ پر قرض تھا ۔ تو ایک شخص نے کہا : تم نے ان کلمات کے ذریعہ دعا کیوں نہ مانگی ؟ اے اللہ ! غموں کے دور کرنے والے، اور مصیبت کے دور کرنے والے، اور ہر غم کو ہٹانے والے ، اور مجبوروں کی پکار کا جواب دینے والے، دنیا اور آخرت کے رحمن، اور ان دونوں کے رحیم، تو ہی میرا رحمن ہے، پس مجھ پر رحم فرما، اے رحمن ! ایسی رحمت کہ جس کے ذریعہ میں تیرے علاوہ کی رحمت سے بےنیاز ہو جاؤں !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31577
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31577، ترقيم محمد عوامة 30214)
حدیث نمبر: 31578
٣١٥٧٨ - حدثنا عبيدة بن حميد عن داود عن الشعبي قال: دخلنا على ربيع بن خيثم فدعا بهذه الدعوات: اللهم لك الحمد كله، وبيدك الخير كله، وإليك يرجع الأمر كله، وأنت إله (الخلق) (١) كله، (نسألك) (٢) من الخير كله، ونعوذ بك من الشر كله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ربیع بن خثیم پر داخل ہوئے تو انہوں نے ان کلمات کے ساتھ دعا مانگی ۔ اے اللہ ! تمام کی تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں۔ اور تمام بھلائیاں تیرے ہی قبضہ میں ہیں، اور تیری طرف ہی تمام معاملات لوٹتے ہیں، اور تو ہی تمام مخلوق کا معبود ہے، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کا سوال کرتے ہیں، اور ہم تیری ہی پناہ مانگتے ہیں تمام شرور سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31578
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31578، ترقيم محمد عوامة 30215)
حدیث نمبر: 31579
٣١٥٧٩ - حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا علي بن مسعدة عن عبد اللَّه الرومي قال: كنا عند أنس بن مالك فقال له رجل: يا أبا حمزة، إن إخوانك يحبون أن تدعو لهم، فقال: اللهم اغفر لنا وارحمنا وآتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار، قالوا: (زدنا) (١) يا أبا حمزة، فردها عليهم، قالوا: زدنا يا أبا حمزة، قال: حسبنا اللَّه، يا أبا فلان، إن أعطيناها فقد أعطينا خير الدنيا والآخرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ الرومی فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ تو ایک آدمی ان سے کہنے لگا : اے ابو حمزہ ! یقینا آپ کے بھائی پسند کرتے ہیں کہ آپ ان کے لیے دعا فرمائیں : تو آپ نے یوں دعا فرمائی ! اے اللہ ! تو ہماری مغفرت فرما۔ اور ہم پر رحم فرما، اور ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما ان لوگوں نے عرض کیا : اے ابوحمزہ ! ہمارے لیے مزید دعا کیجیے : تو انہوں نے دوبارہ یہی دعا فرمائی : ان لوگوں نے عرض کیا : اے ابو حمزہ ہمارے لیے مزید دعا کیجیے، تو آپ نے فرمایا : اے ابو فلاں ہمیں اللہ کافی ہے، اگر ہمیں یہ سب کچھ عطا کردیا گیا تو ہمیں دنیا اور آخرت کی بھلائی دے دی گئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31579
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف علي بن مسعدة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31579، ترقيم محمد عوامة 30216)
حدیث نمبر: 31580
٣١٥٨٠ - حدثنا محمد ابن فضيل عن ليث عن مجاهد عن (تبيع) (١) عن كعب قال: لولا كلمات أقولهن لجعلتني اليهود أصيح مع الحمر الناهقة وأعوي مع الكلاب العاوية: أعوذ بوجهك الكريم، وباسمك العظيم، وبكلماتك التامة التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر، الذي لا يخفر جاره من شر ما ينزل من السماء وما يعرج فيها ومن شر ما (خلق) (٢) وذرأ وبرأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تبیع فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا : اگر یہ کلمات نہ ہوتے جن کو میں پڑھتا ہوں تو یہود مجھے ایسا بنا دیتے کہ میں چیخنے والے گدھوں کے ساتھ چیختا اور بھونکنے والے کتوں کے ساتھ میں بھونکتا : وہ کلمات یہ ہیں، میں پناہ مانگتا ہوں تیرے اس معزز چہرے کی، اور تیرے عظیم نام کی، اور تیرے مکمل کلمات کی جن سے کوئی نیک اور بدکار تجاوز نہیں کرسکتا ، اور جس کے پڑوسی کو پناہ نہیں دی جاتی، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترتی ہے اور جو چیز آسمان میں بلند ہوتی ہے۔ اور اس چیز کے شر سے جس کو اس نے تخلقر کیا، وجود بخشا اور پیدا کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31580
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31580، ترقيم محمد عوامة 30217)
حدیث نمبر: 31581
٣١٥٨١ - حدثنا جعفر بن عون عن أبي العميس عن عون قال: قالت أسماء بنت أبي بكر: من قرأ بعد الجمعة فاتحة الكتاب و ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾، و ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ و ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ حفظ ما بينه وبين الجمعة (الأخرى) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون فرماتے ہیں کہ حضرت اسماء بنت ابوبکر نے ارشاد فرمایا : جو شخص جمعہ کی نماز کے بعد سورة فاتحہ، سورة اخلاص، سورة فلق اور سورة الناس کی تلاوت کرتا ہے، تو اس جمعہ سے لے کر اگلے جمعہ تک کے لیے اس کی حفاظت کردی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31581
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31581، ترقيم محمد عوامة 30218)
حدیث نمبر: 31582
٣١٥٨٢ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن (شيبان عن فراس) (١) عن الشعبي عن أبي مسلم أنه كان يقول في آخر قوله: (وَصَل) (٢) اللَّه بالإيمان (أخوتكم) (٣)، وقرب برحمته مودتكم، ومكن بإحسانه كرامتكم، ونور بالقرآن صدوركم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مسلم اپنی بات کے آخر میں یوں فرماتے تھے : اللہ تمہاری مواخات کو ایمان کے ذریعہ جو ڑ دے، اور تمہارے محبوبین کو اپنی رحمت سے قریب کر دے۔ اور تمہارے معززین کو اپنے فضل سے قدرت عطا فرمائے، اور قرآن کے ذریعہ سے تمہارے سینوں کو منور کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31582
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31582، ترقيم محمد عوامة 30219)