کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس آدمی کے بارے میں جس کو بھوک لگی ہو یا جس پر رزق کی تنگی ہو تو وہ کیا دعا مانگے؟
حدیث نمبر: 31558
٣١٥٥٨ - حدثنا عبدة بن حميد عن حصين قال: التقى إبراهيم ومجاهد (فقالا) (١): جاء أعرابي إلى النبي ﷺ فشكى إليه الجوع قال: فدخل النبي ﷺ (٢) إلى بيوته ثم خرج فقال: "ما وجدت لك في بيوت آل محمد (٣) شيئًا"، قال: فبينما هو كذلك إذ جاءته شاة مصلية، وقال الآخر: جاءته قصعة من ثريد، فوضعت بين ⦗٢٧٥⦘ يدي الأعرابي، فقال رسول اللَّه ﷺ: "اطعم"، قال: فأكل فقال: يا رسول اللَّه أصابني الذي أصابني فرزقني اللَّه على يديك، أفرأيت (إن) (٤) أصابني وأنا ليس عندك؟ فقال: رسول اللَّه ﷺ: " (قل) (٥): اللهم إني أسألك من فضلك ورحمتك (فإنه) (٦) لا يملكهما إلا أنت، فإن اللَّه رازقك" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین سے روایت ہے کہ ابراہیم اور حضرت مجاہد کی ملاقات ہوئی تو ان دونوں نے فرمایا کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھوک کی شکایت کی۔ راوی فرماتے ہیں۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھروں میں داخل ہوئے پھر نکلے۔ اور فرمایا : میں نے تیرے لیے آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھروں میں کوئی چیز نہیں پائی، راوی فرماتے ہیں ، اس درمیان ہی اچانک ایک بھونی ہوئی بکری کا بچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔ اور دوسرے راوی فرماتے ہیں ! کہ ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا۔ پس اس کو دیہاتی کے سامنے رکھ دیا گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ارشاد فرمایا : تم کھاؤ ، راوی فرماتے ہیں ! پس اس نے کھالیا، پھر کہنے لگا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے جو مصیبت پہنچی تھی وہ پہنچ چکی۔ پھر اللہ نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں رزق عطا فرمایا، پس آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر مجھے پھر بھوک آ لے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہ ہوں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم یہ کلمات پڑھنا : اے اللہ ! میں آپ سے آپ کے فضل کا سوال کرتا ہوں اور آپ کی رحمت کا ۔ یقینا آپ کے سوا اس کا کوئی مالک نہیں ہے۔ پس یقینا اللہ ہی تجھ کو رزق دینے والا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31558
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ إبراهيم ومجاهد تابعيان، أخرجه ابن فضيل في الدعاء (١)، وأخرجه الطبراني من حديث ابن مسعود (١٠٣٧٩)، وأبو نعيم في الحلية ٥/ ٣٦، والبيهقي في دلائل النبوة ٦/ ١٢٨، والبزار (١٥٢٨)، وأخرجه من حديث واثلة: أبو نعيم ٢/ ٢٢، وابن عساكر ١٦/ ٤٥٧، والبيهقي في الدلائل ٦/ ١٢٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31558، ترقيم محمد عوامة 30195)
حدیث نمبر: 31559
٣١٥٥٩ - حدثنا محمد بن عبيد حدثنا وائل بن داود قال: سمعت الحسن البصري يحدث قال: بينما رجل نائم رأى في المنام مناديًا (ينادي) (١) في السماء: أيها الناس، خذوا سلاح فزعكم، فعمد الناس فأخذوا السلاح حتى أن الرجل (ليجيء) (٢) وما معه (إلا) (٣) عصى، فنادى مناد من السماء ليس هذا سلاح فزعكم، فقال رجل من (أهل) (٤) الأرض: ما سلاح فزعنا؟ فقال: سبحان اللَّه والحمد للَّه ولا إله إلا اللَّه واللَّه أكبر
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وائل بن داؤد فرماتے ہیں کہ میں نے حسن بصری کو یوں بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ ہمارے درمیان ایک آدمی تھا جس نے خواب میں دیکھا کہ ایک منادی نے آسمان میں یہ ندا لگائی۔ اے لوگو ! تم اپنے خوف و گھبراہٹ کے لیے ہیام ر پکڑ لو۔ پھر لوگوں نے ارادہ کیا اور ہتھیار پکڑ لیے۔ یہاں تک کہ ایک آدمی آیا اس کے پاس لاٹھی تک نہیں تھی۔ پھر آسمان سے ایک منادی نے آواز لگائی : یہ تمہاری گھبراہٹ کے ہتھیار نہیں ہیں۔ تو اہل زمین میں سے ایک شخص نے پوچھا : ہماری گھبراہٹ کے ہتھیار کیا ہیں ؟ تو اس نے کہا : یہ کلمات ہیں ، اللہ تمام عیوب سے پاک ہے، اور سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔ اور اللہ سب سے بڑا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31559
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31559، ترقيم محمد عوامة 30196)