کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جب کوئی شخص کھانے سے فارغ ہو جائے تو یوں دعا مانگے
حدیث نمبر: 31538
٣١٥٣٨ - حدثنا محمد بن فضيل عن العلاء بن المسيب عن عمرو بن مرة قال: كان النبي ﷺ إذا فرغ من طعامه قال: "الحمد للَّه الذي من علينا فهدانا، والحمد للَّه الذي أشبعنا و (أروانا) (١)، وكل بلاءً حسن أو صالح (أبلانا) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعا کرتے سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم پر احسان فرمایا پس ہمیں ہدایت عطا فرمائی۔ اور سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں سیر کیا اور ہمیں سیراب کیا۔ اور ہر وہ اچھی نعمت جو اس نے ہمیں عطا کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31538
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عمرو بن مرة تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31538، ترقيم محمد عوامة 30176)
حدیث نمبر: 31539
٣١٥٣٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن (رياح) (١) بن عبيدة (عن) (٢) مولى أبي سعيد (عن أبي سعيد) (٣) قال: كان رسول اللَّه ﷺ (إذا أكل طعامًا) (٤) قال: "الحمد للَّه الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کھانا کھالیتے تو یوں دعا فرماتے : سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31539
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31539، ترقيم محمد عوامة 30177)
حدیث نمبر: 31540
٣١٥٤٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد قال: كان سلمان إذا طعم (قال) (١): الحمد للَّه الذي كفانا (المؤنة) (٢) ⦗٢٦٨⦘ وأوسع لنا الرزق (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن سوید فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان جب کھانا کھالیتے تو یوں دعا فرماتے سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمارے خرچ کی کفایت کی۔ اور ہمارے رزق میں وسعت بخشی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31540
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (١٩٥٧٨)، والطبراني (٦٠٥٥)، وابن سعد ٤/ ٨٩، والبيهقي في شعب الإيمان (٦٠٤٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31540، ترقيم محمد عوامة 30178)
حدیث نمبر: 31541
٣١٥٤١ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن إسماعيل (عن) (١) أبي سعيد قال: كان أبو سعيد إذا وضع (له) (٢) الطعام قال: الحمد للَّه الذي أطعمنا وسقانا (وجعلنا) (٣) مسلمين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن ابو سعید فرماتے ہیں کہ جب کھانا رکھ دیا جاتا تو حضرت ابو سعید یوں فرماتے : سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا۔ اور ہمیں مسلمان بنایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31541
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31541، ترقيم محمد عوامة 30179)
حدیث نمبر: 31542
٣١٥٤٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الجريري عن أبي (الورد) (١) عن ابن (أعبد) (٢) أو ابن معبد قال: قال علي: تدري ما حق الطعام؟ قال: قلت: وما حقه؟ قال: تقول: بسم اللَّه، اللهم بارك لنا فيما رزقتنا، (٣) قال: تدري ما شكره؟ قلت: وما شكره؟ قال: تقول: الحمد للَّه الذي أطعمنا وسقانا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن اعبد یا ابن معبد فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ کھانے کا حق کیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا ! کہ کھانے کا حق کیا ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تو یہ کلمات کہے : اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں۔ اے اللہ ! جو رزق تو نے ہمیں عطا فرمایا تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما۔ پھر فرمایا : تم جانتے ہو کہ کھانے کا شکر کیا ہے ؟ میں نے پوچھا : کھانے کا شکر کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : کہ تم یہ کلمات کہو : سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31542
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31542، ترقيم محمد عوامة 30180)
حدیث نمبر: 31543
٣١٥٤٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم بن أبي النجود عن ذكوان أبي صالح عن عائشة أنه قدم إليها طعام فقالت: ائدموه، فقالوا: (و) (١) ما إدامه؟ قالت: تحمدون اللَّه عليه إذا فرغتم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ذکوان بن ابی صالح فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے کھانا پیش کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : کھانے کو اس کا حق دو اور اس کا حق فارغ ہو کر اللہ کا شکر ادا کرنا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31543
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن المبارك في الزهد (٦١٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31543، ترقيم محمد عوامة 30181)
حدیث نمبر: 31544
٣١٥٤٤ - حدثنا محمد بن بشر وأبو أسامة عن زكريا بن أبي زائدة عن سعيد بن أبي بردة عن أنس بن مالك قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه ليرضى عن العبد أن يأكل الأكلة (فيحمده عليها) (١) (أو) (٢) يشرب الشربة فيحمده عليها" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا اللہ راضی ہوتے ہیں اپنے اس بندے سے جو ایک لقمہ کھاتا ہے پھر اس پر اللہ کی تعریف کرتا ہے یا ایک گھونٹ پیتا ہے پھر اس پر اللہ کی تعریف کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31544
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٧٣٤)، وأحمد (١٢١٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31544، ترقيم محمد عوامة 30182)
حدیث نمبر: 31545
٣١٥٤٥ - (١) (حدثنا) (٢) أبو أسامة (عن) (٣) عبد الرحمن بن يزيد بن جابر حدثنا بشر ابن زياد عن سليمان بن عبد اللَّه عن (عتريس) (٤) بن عرقوب قال: قال عبد اللَّه: من قال حين يوضع طعامه: بسم اللَّه خير الأسماء (٥) في الأرض (وفي) (٦) السماء لا يضر مع اسمه داء، اللهم اجعل فيه بركة وعافية وشفاء فيضره ذلك الطعام ما كان (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عتریس بن عرقوب فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے ارشاد فرمایا جو شخص کھانا رکھے جانے کے وقت یہ کلمات پڑھے : اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو ناموں میں سب سے بہتر ہے ، اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ آسمانوں میں ہے۔ اس کے نام کے ساتھ کوئی بیماری نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اے اللہ ! اس کھانے میں برکت اور عافیت اور شفا رکھ دے۔ پس یہ کھانا کسی کو بھی نقصان نہیں دے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31545
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31545، ترقيم محمد عوامة 30183)
حدیث نمبر: 31546
٣١٥٤٦ - حدثنا أبو أسامة عن هشام قال: كان أبي لا يؤتى بطعام ولا شراب حتى الشربة من الدواء فيشربه أو يطعمه حتى يقول: الحمد للَّه الذي هدانا وأطعمنا (وسقانا) (١) ونعمنا، (٢) اللَّه أكبر، اللهم (ألفتنا) (٣) نعمتك بكل (شر) (٤)، (فأصبحنا) (٥) وأمسينا منها بكل خير، (نسألك) (٦) تمامها وشكرها، لا خير إلا خيرك ولا إله غيرك، إله الصالحين ورب العالمين، الحمد للَّه رب العالمين، لا إله إلا اللَّه ما شاء اللَّه (٧) لا قوة إلا باللَّه، اللهم بارك لنا فيما رزقتنا وقنا عذاب النار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ میرے والد کوئی بھی کھانا یا پینے کی چیز یہاں تک دوائی کا قطرہ بھی نہیں پیتے یا کھاتے تھے یہاں تک کہ یہ کلمات پڑھ لیا کرتے تھے سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ہدایت بخشی اور ہمیں کھلایا اور ہمیں پلایا اور ہمیں نعمتیں عطا فرمائیں اللہ ہی سب سے بڑا ہے ۔ اے اللہ ! تیری نعمت نے ہمیں ہر شر سے مانوس بنا لیا ہے پس ہم نے صبح کی اور ہم نے شام کی تمام بھلائی کے ساتھ اس نعمت کی وجہ سے ۔ ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں نعمت کے تمام ہونے کا اور اس کے شکر کا۔ تیری خیر کے سوا کوئی خیر نہیں ہے۔ اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ نیکو کاروں کے معبود ! اور تمام جہانوں کے پرور دگار، سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ جو اللہ چاہے۔ اس کی مدد کے بغیر نیکی کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ اے اللہ ! جو رزق تو نے ہمیں عطا فرمایا ہے تو ہمارے لیے اس میں برکت فرما دے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31546
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31546، ترقيم محمد عوامة 30184)
حدیث نمبر: 31547
٣١٥٤٧ - حدثنا محمد (بن) (١) بشر (حدثنا) (٢) مسعر عن هلال عن عروة أنه كان إذا وضع الطعام قال: سبحانك ما أحسن ما (تبلينا) (٣)، سبحانك ما أحسن ما تعطينا، ربنا ورب آبائنا الأولين، ثم يسمي اللَّه ويضع يده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھلال فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ کے سامنے جب کھانا رکھ دیا جاتا تو یہ کلمات پڑھتے : تو تمام عیوب سے پاک ہے کیا اچھی نعمتوں سے تو نے ہمیں سرفراز فرمایا تو تمام عیوب سے پاک ہے کیا اچھی نعمتیں تو نے ہمیں عطا فرمائیں ۔ اے ہمارے پروردگار ، رب اور ہمارے آباؤ اجداد کے پروردگار، پھر آپ تسمیہ پڑھتے اور اپنا ہاتھ رکھتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31547
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31547، ترقيم محمد عوامة 30185)
حدیث نمبر: 31548
٣١٥٤٨ - حدثنا جرير بن عبد اللَّه عن منصور (١) عن تميم بن سلمة قال: حدثت أن الرجل إذا ذكر اسم اللَّه على (طعامه) (٢) وحمده على ⦗٢٧١⦘ آخره (٣) لم يسأل عن نعيم (ذلك) (٤) الطعام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تمیم بن سلمہ فرماتے ہیں کہ مجھے بیان کیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص کھانے کے شروع میں اللہ کا نام لیتا ہے اور کھانے کے آخر میں اللہ کی حمد بیان کرتا ہے، تو اس سے اس کھانے کی نعمت کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31548
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31548، ترقيم محمد عوامة 30186)