کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول دعائوں کا بیان جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لیے مانگیں جنہوں نے آپ کو برا بھلا کہا یا جنہوں نے آپ پر ظلم کیا
حدیث نمبر: 31526
٣١٥٢٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن إسحاق عن (عبيد اللَّه) (١) بن المغيرة ابن معيقيب عن عمرو بن سليم عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "اللهم أتخذ (عندك) (٢) عهدا تؤديه يوم القيامة إلي، إنك لا تخلف الميعاد، فإنما أنا بشر فأي المسلمين آذيته أو شتمته أو قال: ضربته أو سببته فاجعلها له صلاة، واجعلها له (زكاة) (٣)، وقربة تقربه بها إليك يوم القيامة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! میں آپ سے ایک عہد کرتا ہوں جسے آپ قیامت کے دن پورا کیجیے گا۔ یقینا آپ وعدہ کی خلاف ورزی نہیں فرماتے ۔ یقینا میں انسان ہوں۔ کوئی بھی مسلمان جس کو میں نے تکلیف پہنچائی ہو یا برا بھلا کہا ہو یا یوں فرمایا : جس کو میں نے مارا ہو یا جس کو میں نے سب و شتم کیا ہو پس آپ اس کو ایک رحمت دیجیے گا۔ اور آپ اس کو پاک کیجئے گا اور ایسی قربت کہ آپ اسے قیامت والے دن اپنے نزدیک کرلیجئے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31526
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31526، ترقيم محمد عوامة 30164)
حدیث نمبر: 31527
٣١٥٢٧ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر عن (عمر) (١) بن قيس عن عمرو ⦗٢٦٣⦘ ابن أبي قرة عن سلمان قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من ولدآدم أنا (فأيما) (٢) عبد من أمتي لعنته (لعنة) (٣) أو سببته (سبة) (٤) في غير (كنهه) (٥) فاجعلها عليه صلاة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں آدم کی اولاد میں سے ہوں۔ پس میری امت کا کوئی بھی شخص جس پر میں نے لعنت کی ہو یا جس کو میں نے برا بھلا کہا ہو بغیر مستحق ہونے کے، پس تو اس کو رحمت عطا فرما۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31527
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٣٧٧٢)، وأبو داود (٤٦٥٩)، والبخاري في الأدب المفرد (٢٣٤)، والبزار ٦/ ٤٩٦ (٢٥٣٢)، والطبراني (٦١٥٦)، والخطيب في تالي تلخيص المتشابه ١/ ١٧٠، والمزي ٢١/ ٤٨٦، وأبو نعيم في الإمامة ١/ ٣٤٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31527، ترقيم محمد عوامة 30165)
حدیث نمبر: 31528
٣١٥٢٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر عن النبي ﷺ قال: "اللهم أيما مؤمن لعنته أو سببته أو جلدته فاجعلها له زكاة وأجرا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! کوئی بھی مومن بندہ جس پر میں نے لعنت کی ہو یا جس کو میں نے برا بھلا کہا ہو یا میں نے اسے کوڑے لگائے ہوں۔ تو ان چیزوں کو اس کے لیے پاکی اور اجر کا ذریعہ بنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31528
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو سفيان صدوق، أخرجه مسلم (٢٦٠٢)، وأحمد (١٥١٩٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31528، ترقيم محمد عوامة 30166)
حدیث نمبر: 31529
٣١٥٢٩ - [حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "اللهم إنما أنا بشر فأي رجل من المسلمين سببته أو لعنته أو جلدته فاجعلها زكاة ورحمة"] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! یقینا میں انسان ہوں ۔ پس مسلمانوں میں سے کوئی بھی شخص جس کو میں نے برا بھلا کہا ہو یا جس پر میں نے لعنت کی ہو یا جس کو میں نے کوڑے لگائے ہوں ۔ پس تو اسے پاکی دے اور رحمت سے نواز دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31529
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٣٦١)، ومسلم (٢٦٠١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31529، ترقيم محمد عوامة 30167)
حدیث نمبر: 31530
٣١٥٣٠ - حدثنا ابن نمير عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر عن النبي ﷺ مثله غير أنه قال: "زكاة وأجرًا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ما قبل حدیث جیسی دعا فرمائی مگر آخر میں یوں فرمایا : کہ پاکی اور اجر عطا فرما۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31530
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو سفيان صدوق، أخرجه مسلم (٢٦٠٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31530، ترقيم محمد عوامة 30168)
حدیث نمبر: 31531
٣١٥٣١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي الضحى عن مسروق عن عائشة قالت: استأذن على (النبي) (١) صلى اللَّه (عليه وسلم) (٢) رجلان فأغلظ لهما وسبهما (قالت) (٣): قلت: يا رسول اللَّه من أصاب منك خيرًا مما أصاب هذان منك خيرًا قال: "أو ما علمت ما عاهدت عليه ربي" قالت له: وما عاهدت عليه ربك؟ قال: "قلت: اللهم أيما مؤمن سببته أو لعنته أو جلدته فاجعلها له مغفرة وعافية وكذا وكذا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دو آدمیوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر غصہ کا اظہار فرمایا اور ان کو بُرا بھلا کہا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہر شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھلائی پائی۔ پس ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھلائی نہیں پائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتی ہو کہ میں نے اپنے رب سے کیا معاہدہ کیا ہے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : کہ آپ نے اپنے رب سے کیا معاہدہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے یوں کہا ہے کہ : اے اللہ ! کوئی بھی مومن بندہ جس کو میں نے برا بھلا کہا ہو یا جس پر میں نے لعنت کی ہو یا جس کو میں نے کوڑے لگائے ہوں۔ پس آپ اس کو اتنی اور اتنی مغفرت اور عافیت بخش دیجیے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31531
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٦٠٠)، وأحمد (٢٤١٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31531، ترقيم محمد عوامة 30169)