حدیث نمبر: 31519
٣١٥١٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن حبيب عن عروة بن عامر قال: سئل رسول اللَّه ﷺ عن الطيرة فقال: "أصدقها الفال ولا ترد مسلمًا، فإذا رأيتم من الطيرة شيئًا تكرهونه فقولوا: اللهم لا يأتي بالحسنات إلا أنت، ولا يذهب بالسيئات إلا أنت، ولا حول ولا قوة إلا باللَّه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن عامر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا بد شگونی کے بارے میں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس میں سب سے سچی بات نیک فال ہے۔ وہ کسی مسلمان کو رد نہیں کرتی، پس جب تم کسی چیز سے بد شگونی لو جو تمہیں ناپسند ہو تو یہ کلمات پڑھ لیا کرو : اے اللہ ! تیرے سوا کوئی اچھائی نہیں لاسکتا ، اور تیرے سوا کوئی برائی بھی نہیں لاسکتا اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کے کرنے کی قوت صرف اللہ کی مدد سے ہے۔
حدیث نمبر: 31520
٣١٥٢٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا (سفيان) (١) عن حبيب عن عروة بن عامر قال: سئل رسول اللَّه ﷺ عن الطيرة ثم ذكر مثل حديث أبي معاوية إلا أنه قال: "ولا حول ولا قوة إلا بك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن عامر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بد شگونی کے متعلق سوال کیا گیا۔ پھر راوی نے ابو معاویہ کی طرح ہی حدیث کو ذکر کیا مگر یہ کلمات ذکر کیے، گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ کی مدد سے ہے۔
حدیث نمبر: 31521
٣١٥٢١ - حدثنا وكيع عن أسامة بن زيد عن نافع بن جبير قال: قال: كعب لعبد اللَّه بن (عمرو) (١): هل تطير؟ قال: نعم قال: فما تقول؟ قال: أقول: اللهم لا طير إلا طيرك، ولا خير إلا خيرك، ولا رب غيرك، قال: أنت أفقه العرب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا تم بد شگونی لیتے ہو ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! انہوں نے پوچھا : تم کیا دعا پڑھتے ہو ؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما و نے فرمایا : اے اللہ ! کوئی بد شگونی نہیں مگر تیری طرف سے اور کوئی بھلائی نہیں ہے مگر تیری طرف سے اور تیرے علاوہ کوئی پالنے والا نہیں ہے، تو حضرت کعب نے فرمایا : آپ تو عرب کے سب سے بڑے فقیہ ہیں۔