کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سیدنا عبد اللہ بن مسعود سے منقول دعائوں کا بیان
حدیث نمبر: 31499
٣١٤٩٩ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن الأسود وعلقمة قالا: قال عبد اللَّه: إن في كتاب اللَّه آيتين ما أصاب عبد ذنبًا (١) فقرأهما ثم استغفر اللَّه إلا غفر له: ﴿وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ﴾ [آل عمران: ١٣٥]، إلى آخر الآية، ﴿وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ﴾ (٢) [النساء: ١١٠].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود اور حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبدا للہ نے ارشاد فرمایا : کتاب اللہ میں دو آیات ہیں، جو کوئی بندہ گناہ کرتا ہے پھر ان دونوں آیات کو پڑھ کر اللہ سے استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دیتے ہیں۔ (آیت : اور وہ لوگ جو اگر کوئی کھلا گناہ کر بیٹھیں یا اپنی جانوں پر ظلم کر گزریں) آیت کے آخر تک، (آیت : اور جو کوئی کر بیٹھے برا کام یا ظلم کر بیٹھے اپنے اوپر) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31499
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31499، ترقيم محمد عوامة 30137)
حدیث نمبر: 31500
٣١٥٠٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق قال: كان من دعاء ⦗٢٥٣⦘ عبد اللَّه: ربنا أصبح ذات بيننا واهدنا سبل الإسلام و (أخرجنا) (١) من الظلمات إلى النور، واصرف عنا الفواحش ما ظهر منها وما بطن، وبارك لنا في أسماعنا وأبصارنا وقلوبنا وأزواجنا وذرياتنا، وتب علينا وعليهم إنك أنت التواب الرحيم، واجعلنا لأنعمك شاكرين مثنين بها قائلين بها و (أتمها) (٢) علينا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ کی دعا یوں ہوتی تھی : اے ہمارے رب ! ہمارے درمیان صلح جوئی فرما دے، اور ہمیں سلامتی کے راستوں کی طر ف ہدایت عطا فرما ، اور ہمیں گمراہی کی ظلمتوں سے ہدایت کے نور کی طرف نکال دے، اور تو ہم سے فاحشات کو جن کا تعلق ظاہر سے ہو یا باطن سے ان کو پھیر دے، اور تو ہمارے کانوں میں اور ہماری آنکھوں میں اور ہمارے دلوں میں اور ہماری بیویوں میں اور ہماری اولاد میں برکت عطا فرما۔ پس یقینا تو ہی توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے، اور تو ہمیں ایسا بنا دے کہ تیری نعمتوں کا شکر کرنے والے ہوں۔ ان کے ذریعہ تعریف کرنے والے ہوں۔ ان کا ذکر کرنے والے ہوں۔ اور تو اپنی نعمتوں کو ہم پر پورا کر دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31500
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31500، ترقيم محمد عوامة 30138)
حدیث نمبر: 31501
٣١٥٠١ - حدثنا عبيدة بن حميد عن منصور عن أبي وائل قال: كان عبد اللَّه يقول: اللهم أصبح ذات بيننا، ثم ذكر نحوًا من حديث الأعمش (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ یوں دعا کیا کرتے تھے : اے اللہ ! تو ہمارے درمیان صلح جوئی فرما، پھر راوی نے اعمش کی طرح باقی حدیث کو ذکر کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31501
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31501، ترقيم محمد عوامة 30139)
حدیث نمبر: 31502
٣١٥٠٢ - حدثنا وكيع عن المسعودي عن عون بن عبد اللَّه عن أبي فاختة عن الأسود بن يزيد قال: قال عبد اللَّه يقول اللَّه: من كان له عندي عهد فليقم، قالوا: يا (أ) (١) با عبد الرحمن فعلمنا، قال: قولوا: اللهم فاطر السماوات والأرض، عالم الغيب والشهادة (٢) إني أعهد إليك عهدًا في هذه الحياة الدنيا، إنك إلى تكلني إلى (عملي) (٣) يقربني من الشر ويباعدني من الخير وإني لا أثق إلا برحمتك، (فاجعله) (٤) (لي) (٥) عندك عهدًا تؤديه إليَّ يوم القيامة، إنك لا تخلف الميعاد (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ فرماتے ہیں ۔ کہ جس شخص کا بھی میرے پاس کوئی عہد ہے پس وہ کھڑا ہوجائے ان کے شاگردوں نے عرض کیا : اے ابو عبد الرحمن : پس آپ ہمیں بھی یہ سکھا دیجیے، انہوں نے ارشاد فرمایا : تم سب یہ کلمات پڑھو، اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ، ظاہر اور پوشیدہ باتوں کے جاننے والے، یقینا میں اس دنیا کی زندگی میں تجھ سے ایک عہد کرتا ہوں یقینا اگر تو نے مجھے میرے عمل کے سپرد کردیا تو تو نے مجھے شر کے قریب کردیا اور تو نے مجھے خیر سے دور کردیا۔ اور یقینا میں نے نہیں یقین رکھا مگر تیری رحمت پر، پس تو اپنے پاس ہی میرے عہد کو رکھ لے جس کو قیامت کے دن پورا کرنا، یقینا تو وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31502
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ المسعودي ثقة على الصحيح، وحديث وكيع عنه قبل اختلاطه.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31502، ترقيم محمد عوامة 30140)
حدیث نمبر: 31503
٣١٥٠٣ - حدثنا عفان (حدثنا) (١) حماد بن سلمة أخبرنا عطاء بن السائب عن أبي الأحوص أن ابن مسعود كان إذا دعا لأصحابه (يقول) (٢): اللهم اهدنا ويسر هداك لنا، اللهم يسرنا لليسرى وجنبنا العسرى، واجعلنا من أولي النهى، اللهم لقنا نضرة وسرورًا، واكسنا سندسًا وحريرًا، وحلنا أساور إله الحق، اللهم اجعلنا شاكرين لنعمتك مثنين بها (قائليها) (٣) وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الاحوص فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب اپنے شاگردوں کے لیے دعا کرتے تو یوں فرماتے ۔ اے اللہ ! تو ہمیں ہدایت دے، اور اپنی ہدایت کو ہمارے لیے آسان فرما۔ اے اللہ ! ہماری آسانی کو بھی آسان فرما۔ اور ہمیں تنگی سے دور فرما۔ اور ہمیں دانش مندوں میں سے بنا دے، اے اللہ ! ہمیں خوشی اور راحت و سکون عطا فرما، اور ہمیں سندس اور ریشم پہنا، اور ہمیں زیورات سے مزین فرما، اے سچے معبود ! اے اللہ ! ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گزار بنا دے، ان کے ذریعہ ثنا کرنے والا بنا دے ، اور ان کا ذکر کرنے والا بنا دے، اور تو ہماری توبہ کو قبول فرما، یقینا تو ہی توبہ کو قبول کرنے والا ، رحم فرمانے والا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31503
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ سماع حماد قبل اختلاط عطاء.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31503، ترقيم محمد عوامة 30141)
حدیث نمبر: 31504
٣١٥٠٤ - [حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر عن جواب التيمي عن الحارث بن سويد قال: قال عبد اللَّه: إن من أحب الكلام إلى اللَّه أن يقول العبد: اللهم أبوء بالنعمة وأبوء بالذنب فاغفر إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن سوید فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے ارشاد فرمایا : اللہ کا پسندیدہ کلام ہے کہ بندہ یوں دعا کرے : اے اللہ ! میں نعمت کا اعتراف کرتا ہوں اور گناہ کا اعتراف بھی کرتا ہوں، پس تو میری مغفرت فرما ، بیشک تیرے سوا کوئی بھی گناہوں کی مغفرت نہیں کرسکتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31504
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ جواب صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31504، ترقيم محمد عوامة 30142)
حدیث نمبر: 31505
٣١٥٠٥ - حدثنا جعفر (بن) (١) عون عن مسعر عن (معن) (٢) قال: كان عبد اللَّه مما يدعو يقول: اللهم أعني على أهاويل الدنيا وبوائق الدهر ومصا (ئب) (٣) الليالي والأيام، واكفني شر ما يعمل الظالمون في الأرض، اللهم اصحبني في سفري واخلفني في حضري وإليك (فحببني) (٤)، وفي أعين الناس فعظمني، وفي نفسك ⦗٢٥٥⦘ فاذكرني، وفي نفسي لك فذللني، و (٥) شر الأخلاق فجنبني، يا رحمن إلى من تكلني، أنت ربي، إلى بعيد (يتجهمني) (٦) أم إلى قريب (قلدته) (٧) أمري (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معن فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دعا کرتے ہوئے یوں فرماتے تھے : اے اللہ ! تو دنیا کی ہولناکیوں سے میری مدد فرما ۔ اور زمانہ کی تنگیوں سے بھی اور دن اور رات کے مصائب سے بھی اور تو میرے لیے کافی ہوجا زمین میں ظلم کرنے والوں کے عمل کے شر سے، اے اللہ ! تو میرے سفر میں میرا مصاحب و ساتھی بن جا۔ اور میرے حضر میں خلیفہ بن جا، اور مجھے اپنی طرف محبوب بنا لے، اور لوگوں کی آنکھوں میں مجھے معزز کر دے، اور اپنی ذات میں میرا ذکر کر ، اور اپنے سامنے میرے نفس کو حقیر بنا دے، اور بُرے اخلاق سے تو مجھے دور فرما دے، اے بہت زیادہ رحم کرنے والے ! کس کی طرف تو مجھے سپرد کرے گا ؟ تو تو میرا رب ہے، دور کی طرف جو مجھ سے ترش روئی کرے یا کسی قریب کی طرف کہ جس کو تو میرے معاملہ کی ڈور پکڑا دے گا ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31505
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31505، ترقيم محمد عوامة 30143)
حدیث نمبر: 31506
٣١٥٠٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة قال: كان عبد اللَّه إذا اجتهد في الدعاء قال: اللهم إني أسألك من فضلك الذي أفضلت علي، وبلائك الحسن الذي ابتليتني، ونعمائك التي أنعمت علي أن تدخلني الجنة، اللهم أدخلني الجنة برحمتك ومغفرتك (و) (١) فضلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعو جب دعا میں بہت زیادہ جدوجہد کرتے تو یوں فرماتے : اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے اس فضل کی برکت سے جو تو نے مجھ پر مہربانی فرمائی اور تیری اچھی آزمائش کی برکت سے جس سے تو نے مجھے آزمایا، اور تیری ان نعمتوں کی برکت سے جو تو نے مجھ پر کی ہیں کہ تو مجھے جنت میں داخل فرما دے، اے اللہ ! تو مجھے اپنی رحمت سے اور اپنی بخشش سے اور اپنے فضل سے جنت میں داخل فرما۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31506
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31506، ترقيم محمد عوامة 30144)
حدیث نمبر: 31507
٣١٥٠٧ - حدثنا أبو معاوية عن عبد الرحمن بن إسحاق عن القاسم بن عبد الرَّحْمَن عن عبد اللَّه بن مسعود قال: ما دعا قط عبد بهذه الدعوات إلا وسع اللَّه عليه في معيشته: يا ذا المن فلا يُمن (عليك) (١)، يا ذا الجلال والإكرام يا ذا الطول (٢)، لا إله إلا أنت، ظهر اللاجئين وجار المستجيرين ومأمن الخائفين، إن (كنت) (٣) كتبتني عندك في أم الكتاب شقيًا فامح عني اسم الشقاء، واثبتني عند (ك) (٤) سعيدًا (وإن كنت كتبتني في أم الكتاب مقترًا عليَّ رزقي فامح حرماني ⦗٢٥٦⦘ وتقتير رزقي واثبتني عندك سعيدًا) (٥) موفقًا للخير، فإنك تقول في كتابك: ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ﴾ (٦) [الرعد: ٣٩].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فریایا : کوئی بندہ ان کلمات کے ساتھ دعا نہیں کرتا مگر اللہ اس بندے کی معیشت میں وسعت فرما دیتے ہیں۔ اے احسان کرنے والے ! پس تجھ پر احسان نہیں کیا جاسکتا، اے عظمت و اکرام والے، اے مہربانی کرنے والے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ التجا کرنے والوں کے مدد گار، اور پناہ مانگنے والوں کی پناہ گاہ، اور ڈرنے والوں کے لیے امن دینے والے، اگر تو نے مجھے اپنے پاس ام الکتاب میں شقی ، بدبخت لکھ دیا ہے ۔ تو مجھ سے شقاوت کو مٹا دے۔ اور مجھے اپنے نزدیک نیک بخت لکھ دے۔ اور اگر تو نے ام الکتاب میں مجھ پر میرے رزق کو تنگ لکھ دیاے تو میری محرومی اور رزق کی تنگی کو مٹا دے، اور مجھے اپنے پاس نیک بخت لکھ دے، جس کو خیر کی توفیق دی گئی ہو، پس یقینا تو نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا ہے : اللہ جسے چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے، اور اسی کے پاس ام الکتاب ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31507
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31507، ترقيم محمد عوامة 30145)
حدیث نمبر: 31508
٣١٥٠٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة قال: سئل عبد اللَّه: ما الدعاء الذي دعوت (به) (١) ليلة قال لك رسول اللَّه ﷺ: "سل تعطه" (قال) (٢): قلت: اللهم إني أسألك إيمانًا لا يرتد، ونعيمًا لا ينفد، ومرافقة نبيك محمد ﷺ في أعلى درجة الجنة جنة الخلد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا : وہ کون سی دعا ہے جو آپ نے اس رات مانگی تھی جس رات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ سے ارشاد فرمایا تھا : سوال کر تجھے عطا کیا جائے گا، آپ نے ارشاد فرمایا : میں نے یہ دعا پڑھی تھی : اے اللہ ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں ایسے ایمان کا جس کے بعد کفر نہ ہو۔ اور ایسی نعمت کا جو کبھی ختم نہ ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت جنت کے اعلیٰ درجہ میں ہمیشہ کے لیے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31508
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31508، ترقيم محمد عوامة 30146)
حدیث نمبر: 31509
٣١٥٠٩ - حدثنا هشيم أخبرنا حصين عن أبي اليقظان (عن) (١) حصين بن يزيد الثعلبي عن عبد اللَّه بن مسعود أنه كان يقول إذا فرغ من الصلاة: اللهم إني أسألك موجبات رحمتك وعزائم مغفرتك (وأسألك) (٢) الغنيمة من كل بر والسلامة من كل إثم، اللهم إني أسألك الفوز بالجنة و (الجوار) (٣) من النار، اللهم لا تدع ذنبا إلا غفرته ولا هما إلا فرجته ولا حاجة إلا قضيتها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین بن یزید الثعلبی فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یوں دعا فرماتے : اے اللہ ! میں تجھ سے مانگتا ہوں وہ تمام اسباب جو تیری رحمت کے لیے لازم ہوں اور وہ اسباب جن سے تیری مغفرت یقینی ہوجائے، اور میں تجھ سے ہر نیکی سے مال غنیمت کا حصہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ! میں تجھ سے جنت والی کامیابی کا سوال کرتا ہوں، اور جہنم سے آزادی کا۔ اے اللہ ! تو کسی گناہ کو باقی نہ چھوڑ جس کو تو نے بخش نہ دیا ہو، اور نہ ہی کوئی فکر جس سے تو رہائی نہ دے، اور نہ ہی کوئی ضرورت جس کو تو پورا نہ فرما دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31509
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف أبي اليقظان وحصين بن يزيد الثعلبي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31509، ترقيم محمد عوامة 30147)
حدیث نمبر: 31510
٣١٥١٠ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى أخبرنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد اللَّه أنه كان يدعو: اللهم ألبسنا لباس التقوى، وألزمنا كلمة التقوى، واجعلنا من أولي النهي، وأمتنا حين ترضى، وأدخلنا جنة الفتاوى، واجعلنا ممن بر واتقى وصدق بالحسنى، ونهى النفس عن الهوى، واجعلنا ممن تيسره لليسرى وتجنبه العسرى، واجعلنا ممن يتذكر فتنفعه الذكرى، اللهم اجعل سعينا مشكورًا و (ذنبنًا) (١) مغفورًا، ولقنا نضرة وسرورًا، واكسنا سندسا وحريرا واجعل لنا أساور من ذهب ولؤلؤ وحريرا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الاحوص فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یوں دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! تو ہمیں تقوے کا لباس پہنا دے، اور تقوے کے کلمہ کو ہم پر لازم کر دے۔ اور ہمیں دانش مندوں میں سے بنا دے، اور ہمیں اس وقت موت دینا جب تو ہم سے راضی ہوجائے، اور ہمیں جنت المأویٰ میں داخل فرما دے اور ہمیں بنا دے ان لوگوں میں سے جنہوں نے نیکی کی اور تقویٰ اختیار کیا اور اچھائی کے ساتھ سچ کہا اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا۔ اور ہمیں بنا دے ان لوگوں میں سے جن کے لیے تو نے آسانی پیدا کی، اور تو نے تنگی کو ان سے دور کردیا۔ اور ہمیں بنا دے ان لوگوں میں سے جنہوں نے نصیحت حاصل کی، پس ان کی نصیحت نے ان کو نفع پہنچایا۔ اے اللہ ! ہماری کوششوں کو شکر سے لبریز فرما۔ اور ہمارے گناہوں کو بخش دے اور تو ہم سے خوشی و سرور کی حالت میں ملاقات فرمانا، اور تو ہمیں سندس اور ریشم کا لباس پہنانا اور آپ ہمیں سونے کے، اور موتیوں اور ریشم کے زیورات سے مزین فرمانا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31510
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31510، ترقيم محمد عوامة 30148)