حدیث نمبر: 31494
٣١٤٩٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن سلمة عن علي أنه كان يدعو: اللهم ثبتنا على كلمة العدل بالرضى والصواب، ⦗٢٤٧⦘ وقوام الكتاب، هادين مهديين (راضين) (١) مرضيين، (غير) (٢) ضالين ولا مضلين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یوں دعا مانگا کرتے تھے : اے اللہ ! تو ہمیں انصاف کے کلمہ پر رضا مندی اور درستگی اور صحیح کتاب کے ساتھ ثابت قدم فرما، جو ہدایت کا راستہ دکھلانے والا، ہدایت یافتہ، راضی کرنے والا اور راضی ہونے والا، جو نہ گمراہ ہے اور نہ ہی گمراہ کرنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 31495
٣١٤٩٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر (عن حجاج) (١) عن الوليد بن أبي الوليد عمن حدثه عن علي أنه كان يقول في دعائه: اللهم إني أسألك برحمتك التي وسعت بها كل شيء، (وبعزتك التي أذللت بها كل شيء وخضع لك بها كل شيء وذلَّ لك بها كل شيء) (٢)، وبجبروتك التي غلبت بها كل شيء، وبعظمتك التي (غلبت) (٣) بها كل شيء، وبسلطانك الذي ملأت به كل شيء، وبقوتك التي لا يقوم لها شيء، وبنورك الذي أضاء له كل شيء، وبعلمك الذي أحاط بكل شيء، (و) (٤) باسمك الذي (يبتدأ) (٥) به كل شيء، وبوجهك الباقي بعد فناء كل شيء، يا نور يا قدوس يا نور يا قدوس- ثلاثًا، (يا) (٦) أول الأولين ويا آخر الآخرين، ويا اللَّه يا رحمن يا رحيم (اغفر لي) (٧) الذنوب التي تنزل النقم، (واغفر لي الذنوب التي تهتك العصم) (٨)، واغفر لي الذنوب التي تورث الندم، واغفر لي الذنوب ⦗٢٤٨⦘ التي تحبس القسم، واغفر لي الذنوب التي تغير النعم، واغفر لي الذنوب التي تنزل النبلاء وتديل الأعداء، واغفر لي الذنوب التي تحبس غيث السماء، وتعجل (الفناء) (٩) و (تظلم) (١٠) (الهواء) (١١) وترد الدعاء، واغفر لي الذنوب التي (تردي إلى النار) (١٢) (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید بن ابو الولید نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہاپنی دعا میں پہلے تین مرتبہ یوں فرماتے : اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری اس رحمت کے ساتھ جس کے ذریعے تو ہر چیز پر حاوی ہے ، اور تیری اس عزت کے ساتھ جس کے ذریعہ تو نے ہر چیز کو ذلیل کردیا، اور ہر چیز تیرے سامنے جھک گئی اور ہر چیز تیرے سامنے حقیر ہوگئی۔ اور تیری اس طاقت کے ساتھ جس کے ذریعہ تو ہر چیز پر غالب ہے۔ اور تیری اس عظمت کے ساتھ جس کے ذریعہ تو ہر چیز پر غالب ہے، اور تیری اس بادشاہت کے ساتھ جس کے ذریعہ تو نے ہر چیز کو بھر دیا، اور تیری اس قوت کے ساتھ جس کے سامنے کوئی چیز ٹھہر نہیں سکتی۔ اور تیرے اس نور کے ساتھ جس نے ہر چیز کو روشن کردیا۔ اور تیرے اس علم کے ساتھ جس نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے، اور تیرے اس نام کے ساتھ کہ جس سے ہر چیز کی ابتدا کی جاتی ہے، اور تیرے اس بابرکت چہرے کے ساتھ جو ہر چیز کے فنا ہونے کے بعد بھی باقی رہے گا ، اے نور بخشنے والے، اے برائیوں سے پاک ذات، اے نور بخشنے والے، اے برائیوں سے پاک ذات، (تین مرتبہ پڑھتے ) اے پہلوں میں سب سے پہلے، اور اے بعد والوں میں سے سب سے بعد والے ! ا اور اے اللہ ! اے رحم کرنے والے، اے بہت رحم کرنے والے، میرے ان گناہوں کو معاف فرما دے جن کی وجہ سے تو سزائیں نازل کرتا ہے، اور میرے ان گناہوں کو معاف فرما دے جن کی وجہ سے تو عصمت دری کرتا ہے ، اور میرے ان گناہوں کو بھی معاف فرما دے جن کی وجہ سے تو ندامت کا وارث بناتا ہے۔ اور میرے ان گناہوں کو بھی معاف فرما دے جن کی وجہ سے تو نصیب کو روک لیتا ہے۔ اور میرے ان گناہوں کو بھی معاف فرما دے جن کی وجہ سے تو نعمتوں کو بدل دیتا ہے اور میرے ان گناہوں کو بھی معاف فرما دے جن کی وجہ سے تو بلاؤں اور مصیبتوں کو نازل کرتا ہے ، اور دشمنوں کو غالب کرتا ہے، اور میرے ان گناہوں کو بھی معاف فرما جن کی وجہ سے تو آسمان کی بارش کو روک لیتا ہے، اور تو برباد کرنے میں جلدی کرتا ہے اور تو نفس پر ظلم کرتا ہے اور تو دعا کو رد کرتا ہے ، اور میرے ان گناہوں کو بھی معاف فرما جن کی وجہ سے تو جہنم کی طرف لوٹاتا ہے۔
حدیث نمبر: 31496
٣١٤٩٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن عبد اللَّه الأسدي عن رجل عن علي قال: كان يقول: اللهم يا (داحي المدحوات) (١) ويا باني المبنيات ويا مرسي المرسيات، ويا جبار القلوب على فطرتها (شقيها) (٢) وسعيدها، و (يا) (٣) باسط الرحمة للمتقين، اجعل (شرائف) (٤) صلواتك ونوامي بركاتك ورأفات تحيتك وعواطف زواكي رحمتك على محمد عبدك ورسولك، الفاتح لما أغلق والخاتم لما سبق و (فالج) (٥) الحق بالحق، و (دامغ) (٦) (جايشات) (٧) الأباطيل كما (حملته) (٨)، ⦗٢٤٩⦘ (فاضطلع) (٩) بأمرك (مستنصرا) (١٠) في رضوانك غير ناكل عن قدم، ولا (منثنن) (١١) عن عزم، (حافظ) (١٢) لعهدك، (ماضي) (١٣) لنفاذ أمرك، [حتى أَرى أن أُرى فيمن أفضى إليك، (متنصر) (١٤) بأمرك وأسباب هداة القلوب، بعد (واضحات) (١٥) الأعلام إلى (خوضات) (١٦) الفتن (إلى نائرات) (١٧) الأحكام] (١٨)، فهو أمينك المأمون، وشاهدك يوم الدين وبعيثك رحمة للعالمين، اللهم أفسح له مفسحا عندك، وأعطه بعد رضاه الرضى من فوز ثوابك المحلول، و (عظيم) (١٩) جزائك (المعلول) (٢٠)، اللهم أتمم له موعدك بانبعاثك إياه مقبول الشفاعة عدل الشهادة مرضي المقالة، ذا منطق عدل وخطيب فصل وحجة، وبرهان عظيم، اللهم اجعلنا سامعين مطيعين وأولياء ⦗٢٥٠⦘ مخلصين ورفقاء مصاحبين، اللهم (أبلغه) (٢١) (منا) (٢٢) السلام واردد علينا منه السلام (٢٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ اسدی ایک شخص سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یوں دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! اے بچھانے والے بچھی ہوئی زمینوں کے، عمارتوں کی تعمیر کرنے والے، پہاڑوں کے گاڑنے والے، اور دلوں کو بزور بنانے والے اس کی فطرت پر ان کے بدبخت ہونے کو اور نیک بخت ہونے کو، اور متقیوں اور پرہیز گاروں کے لیے رحمت کو کشادہ کرنے والے، نازل فرما اپنی بزرگ ترین خاصی رحمتیں اور بڑھنے والی برکتیں، اور اپنی بڑی مہربانی کو، اور اپنی پاکیزہ، مہربان رحمتوں کو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اور کھولنے والے ہیں اس سعات کو جو بند کردی گئی ، اور مکمل کرنے والے ہیں اس دین کو جو غالب آگیا، اور حق کو غالب کرنے والے ہیں سلامتی کے ساتھ، اور توڑنے والے ہیں ان لشکروں کے جو ناحق پر ہیں جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برانگیختہ کیا ان کے توڑنے پر پس مستعد ہوگئے تیرے حکم سے، مدد طلب کرنے والے تیری رضا مندی میں ، بلاقید کے پنیر میں، اور بلا سستی کے ارادے میں ( یعنی لشکر کفار کے توڑنے میں اٹھنے کے لیے آپ نے کوتاہی نہیں کی) نگاہ رکھنے والے تیری وحی کی طرف، حفاظت کرنے والے تیرے عصب (کے) تیرے حکم کے نفاذ پر وقت گزارنے والے، یہاں تک کہ روشن کردیا اسلام کے شعلۂ نور کو روشنی لینے والوں کے لیے، اللہ کی نعمتیں ملا دیتی ہیں اس کے اسباب کو ان سے جو اس مشغلہ کے اھل لوگ ہیں ( یعنی وہ فائدہ اٹھا لیتے ہیں) آپ ہی کے سبب سے ہدایت ملی دلوں کو، ان کے فتنوں اور گناہوں میں ڈوب جانے کے بعد، اور آپ نے ظاہر کرنے والی نشانیوں کو مزید واضح کیا، اور اسلام کے چمکدار حکموں کو ، اور اسلام کی روشنیوں کو ، پس آپ ہی تیرے بھروسہ کے قابل امانت دار ہیں، اور آپ ہی قیامت کے دن تیرے گواہ ہیں، اور تیری بھیجی ہوئی رحمت میں تمام جہان والوں کے لیے، اے اللہ ! کشادہ کر دے ان کی جگہ اپنے پاس اور ان کو عطا فرما اپنی رضا مندی کے بعد ایسی رضا مندی جو تیرے اجر کی کامیابی کی طرف سے ہو، اور تیری عظیم جزا جو کہ کسی وجہ سے ملتی ہے اس کی طرف سے، اے اللہ، تو ان سے کیے جانے والے اپنے وعدے کو پورا فرما، ان کو مبعوث فرما کر شفاعت کیے جانے والے مقام پر، انصاف کی گواہی مقبول کر کے، اور آپ کے ہر قول کو اپنی رضا مندی کے موافق کر کے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صاحب انصاف بنا کر، اور آپ کو ایسا خطیب بنا کر جو حق و باطل مں ر فرق کرنے والا ہو، اور بڑی حجت والا بنا کر۔ اے اللہ ! ہمیں بنا دے سننے والوں میں سے (پھر) فرمانبرداری کرنے والوں میں سے، اور مخلص لوگوں کے دوستوں میں سے، اور اپنے ساتھیوں کے رفقاء میں سے، اے اللہ ! تو پہنچا دے ان کو ہماری طرف سے سلامتی، اور لوٹا دے ان کی طرف سے ہم پر سلامتی۔
حدیث نمبر: 31497
٣١٤٩٧ - حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد عن أبي جعفر محمد البصري عن رجل يدعى سالمًا قال: كان من دعاء علي: اللهم اجعلني ممن رضيت عمله وقصرت أمله، وأطلت عمره، وأحييته بعد الموت حياة طيبة ورزقته، اللهم إني أسألك (نعيمًا) (٢) لا ينفد، وفرحة لا ترتد، ومرافقة نبيك محمد ﷺ وإبراهيم في أعلى جنة الخلد، اللهم هب لي (شغفًا) (٣) (يوجل) (٤) له قلبي، وتدمع له عيني، و (يقشعر) (٥) له جلدي، ويتجافى له جنبي، وأجد نفعه في قلبي. اللهم طهر قلبي من النفاق، وصدري من (الغل) (٦)، وأعمالي من الرياء، وعيني من الخيانة، ولساني من الكذب، وبارك لي في سمعي وقلبي، وتب علي إنك أنت التواب الرحيم. ⦗٢٥١⦘ اللهم إني أعوذ بوجهك الكريم الذي أشرقت له السماوات السبع وكشفت به الظلمات، و (صلح) (٧) عليه أمر الأولين والآخرين من أن يحل عليَّ غضبك (أو) (٨) ينزل (بي) (٩) سخطك أو (أتبع) (١٠) هواي بغير هدى منك. أو أقول للذين كفروا: ﴿هَؤُلَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا﴾ [النساء: ٥١]. اللهم كن لي برا رؤوفًا رحيمًا بحاجتي حفيا، اللهم اغفر لي يا غفار، وتب علي يا تواب، وارحمني يا رحمن، واعف عني يا حليم، اللهم ارزقني زهادة واجتهادا في العبادة، ولقني إياك على شهادة (يسبق) (١١) (بشراها) (١٢) (وجعَها) (١٣) وفرحها جزعَها، يا رب لقني عند الموت نضرة وبهجة وقرة عين وراحة في الموت. اللهم لقني في قبري ثبات المنطق وقرة عين المنظر، وسعة في المنزل، اللهم قفني من عمل يوم القيامة موقفًا يبيض به وجهي، ويثبت به مقالتي، وتقر به عيني، وتنزل به عليَّ أمنيتي، وتنظر إلى بوجهك نظرة أستكمل بها الكرامة في الرفيق الأعلى في أعلى عليين، فإن نعمتك تتم (الصالحات) (١٤)، اللهم إني ضعيف من ضعف (خلقتني إلى ضعف) (١٥) ما (أصير) (١٦)، فما شئتُ إلا ما ⦗٢٥٢⦘ (تشاء) (١٧) (فشأ لي) (١٨) أن أستقيم (١٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر محمد بصری اس آدمی سے نقل کرتے ہیں جو سالم نام سے پکارا جاتا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دعا میں سے ہے : اے اللہ ! مجھے بنا دے ان لوگوں میں سے جن کے عمل سے تو راضی ہے اور جن کی امیدوں کو تو نے چھوٹا کردیا، اور جن کی عمر کو تو نے لمبا کردیا، اور تو ان کو دے گا موت کے بعد پاکیزہ زندگی اور پاکیزہ رزق، اے اللہ ! میں تجھ سے مانگتا ہوں ایسی نعمت جو کبھی ختم نہ ہو، اور ایسی خوشی جو کبھی واپس نہ ہو، اور تیرے نبی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابراہیم کی ہمراہی ہمیشہ کی جنت کے اعلی رضی اللہ عنہ درجوں میں، اے اللہ ! مجھے عطا فرما ایسا گوشہ جس میں میرا دل روشن ہوجائے، اور میری آنکھوں سے آنسو بہہ پڑیں، اور میرے جسم پر کپکپی طاری ہوجائے، اور میرا پہلو بستر سے جدا ہوجائے، اور میں اپنے دل میں اس کا نفع پاؤں۔ اے اللہ ! میرے دل کو نفاق سے پاک و صاف کر دے، اور میرے سینہ کو کینہ سے، اور میرے عملوں کو دکھاوے سے ، اور میری آنکھ کو خیانت سے، اور میری زبان کو جھوٹ بولنے سے، اور میرے سننے میں اور میرے دل میں برکت عطا فرما۔ اور میری توبہ قبول فرما۔ بلاشبہ تو ہی تو بہ قبول کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔ اے اللہ ! میں پناہ لیتا ہوں تیرے باعزت چہرے کی جس نے ساتوں آسمانوں کو روشن کردیا، اور جس کے ذریعہ سے ظلمتوں کو ختم کردیا گیا، اور پہلے اور آخری لوگوں کا معاملہ جس کی بدولت درست ہوا اس بات سے کہ مجھ پر تیرا غضب اترے، یا مجھ پر تیری ناراضگی اترے اس بات سے کہ میں تیری طرف سے آنے والی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کرنے لگوں یا اس بات سے کہ میں کافروں سے کہوں کہ وہ زیادہ راہ راست پر ہیں مومنوں سے، اے اللہ ! تو مجھ پر مہربان، شفیق اور رحم کرنے والا بن جا، اور میری ضرورت میں میرا شفیق، اے اللہ ! میری مغفرت فرما اے مغفرت فرمانے والے، اور میری توبہ قبول فرما اے توبہ قبول فرمانے والے، اور مجھ پر رحم فرما اے رحم فرمانے والے، اور مجھ سے درگزر فرما اے بردبار، الٰہی ! مجھے بقدر کفایت رزق عطا فرما، اور مجھے عبادت میں کوشش کرنے کی توفیق عطا فرما، اور مجھے اپنے سامنے ایسی گواہی تلقین فرما کہ جس کی خوشخبری اس کی تکلیف پر سبقت لے جائے، اور اس کی خوشی اس کے غم پر، اے میرے پروردگار ، مجھے موت کے وقت شادمانی اور آسودہ حالی کی چمک دمک عطا فرما اور آنکھ کی ٹھنڈک اور موت میں آسانی فرما۔ اے اللہ ! قبر میں مجھے ثابت قدم بنا۔ گھر میں مجھے میری پسند کا منظر دکھا۔ قیامت کے دن میرے چہرے کو روشن فرما۔ میری گفتگو کو ثابت فرما۔ میری آنکھ کو ٹھنڈا بنا، میری تمنا کو پورا فرما، میری طرف قیامت کے دن رحمت کی نظر فرما، تیری نعمت سے نیکیاں پوری ہوتی ہیں، اے اللہ ! میں کمزور ہوں اور تو نے مجھے کمزوری کی حالت میں پیدا کیا ہے، اصل چاہت تیری ہے تو مجھے اپنی چاہت کے سیدھے راستے پر چلا۔
حدیث نمبر: 31498
٣١٤٩٨ - حدثنا عفان حدثنا شعبة أخبرني منصور بن المعتمر قال: سمعت ربعي بن حراش عن علي قال: (ما) (١) من كلمات أحب إليّ اللَّه أن يقولهن العبد: اللهم لا إله إلا أنت، اللهم لا أعبد إلا إياك، اللهم لا أشرك بك شيئًا، اللهم إني قد ظلمت نفسي فاغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربعی بن حراش فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ان کلمات سے زیادہ کوئی کلمات اللہ کے ہاں پسندیدہ نہیں ہیں کہ بندہ یوں کہے : اے اللہ ! تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اے اللہ ! میں تیرے سوا کسی کی بھی عباد ت نہیں کرتا، اے اللہ ! میں تیرے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک نہیں ٹھہراتا، اے اللہ ! یقینا میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، پس تو میرے گناہوں کو معاف فرما، اس لیے کہ تراے سوا کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا۔