حدیث نمبر: 31485
٣١٤٨٥ - (١) حدثنا وكيع بن الجراح عن كثير بن زيد عن المطلب بن عبد اللَّه أن أبا بكر كان يقول: اللهم اجعل (خير) (٢) عمري أخيره، وخير عملي خواتمه، وخير أيامي يوم ألقاك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطلب بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر یہ دعا پڑھا کرتے تھے : اے اللہ ! میری عمر کے آخری حصہ کو بہتر بنا دے۔ اور میرے عمل کے اختتام کو بہتر بنا دے۔ اور جس دن میں تجھ سے ملاقات کروں میرے ان دنوں کو بہتر بنا دے۔ حضرت مطلب بن عبد اللہ نے فرمایا : حضرت عمر یوں دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! تو اپنی رسی کے ذریعہ میری حفاظت فرما۔ اور اپنے فضل سے مجھے رزق عطا فرما۔ اور مجھے ایسا بنا دے کہ میں تیرے حکم کی حفاظت کرنے والا بن جاؤں۔
حدیث نمبر: 31486
٣١٤٨٦ - قال: وكان عمر يقول: اللهم اعصمني بحبلك، وارزقني من فضلك، واجعلني أحفظ أمرك (١).
حدیث نمبر: 31487
٣١٤٨٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن جامع بن شداد عن أبيه قال: كان أول كلام تكلم به عمر أن قال: اللهم إني ضعيف فقوني وإني شديد فليني (وإني) (١) بخيل فسخني (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شداد فرماتے ہیں کہ سب سے پہلی دعا جو حضرت عمر نے کی بیشک فرمایا : اے اللہ ! میں کمزور ہوں پس تو مجھے قوی بنا دے۔ اور میں بہت سخت ہوں تو مجھے نرم بنا دے۔ اور بیشک میں بہت کنجوس ہوں تو مجھے سخی بنا دے۔
حدیث نمبر: 31488
٣١٤٨٨ - حدثنا يحيى بن آدم حدثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن حسان بن (فائد) (١) (العبسي) (٢) عن عمر أنه كان يدعو اللهم اجعل غنائي ⦗٢٤٥⦘ في قلبي و (رغبتي) (٣) فيما عندك، وبارك لي فيما رزقتني، وأغنني (عما) (٤) حرمت علي (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسان بن فائد العبسی ، حضرت عمر کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ ! تو میرے دل میں بےنیازی کو بھر دے۔ اور مجھ میں شوق پیدا فرما اس چیز کا جو تیرے پاس ہے۔ اور جو رزق تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں برکت عطا فرما۔ اور جو چیز تو نے مجھ پر حرام کی ہے مجھے اس سے بےنیاز کر دے۔
حدیث نمبر: 31489
٣١٤٨٩ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر عن (الركين) (١) عن أبيه عن عمر أنه كان يقول: اللهم أستغفرك لذنبي وأستهديك لراشد أمري، وأتوب إليك فتب علي إنك أنت ربي، [اللهم فاجعل رغبتي إليك، واجعل غناي في صدري، وبارك لي فيما رزقتني، وتقبل مني إنك أنت ربي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع فرماتے ہیں حضرت عمر کے بارے میں کہ وہ یوں دعا کرتے تھے : اے اللہ ! میں آپ سے اپنے گناہوں کی معافی ما نگتا ہوں ۔ اور میں آپ سے اپنے بھلائی کے کاموں کی راہنمائی طلب کرتا ہوں۔ اور میں آپ سے توبہ کرتا ہوں۔ پس آپ میری توبہ قبول فرما لیجیے۔ یقینا آپ ہی میرے رب ہیں۔ اے اللہ ! اپنی طرف کا مجھ میں شوق ڈال دیں۔ اور میرے سینے میں بےنیازی ڈال دیں۔ اور جو آپ نے مجھے رزق عطا کیا ہے اس میں برکت عطا فرما دیجیے۔ اور آپ میری طرف سے دعا کو قبول فرمائیے۔ اور یقینا آپ ہی میرے رب ہیں۔
حدیث نمبر: 31490
٣١٤٩٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن العوام] (١) (عن إبراهيم التيمي قال: قال رجل عند عمر) (٢): اللهم اجعلني من القليل، قال: فقال عمر: ما هذا الذي تدعو به؟ فقال: إني سمعت اللَّه يقول: ﴿وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ﴾ [سبأ: ١٣]، فأنا أدعو أن يجعلني من أولئك القليل، قال: فقال عمر: كل الناس أعلم من عمر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم التیمی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عمر کے پاس یوں دعا کی : اے اللہ ! آپ مجھے قلیل میں سے بنا دیجیے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر نے پوچھا : تم نے یہ کیا دعا مانگی ؟ تو وہ شخص کہنے لگا : میں نے اللہ رب العزت کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اور میرے بندوں میں بہت تھوڑے شکر گزار ہیں۔ “ تو میں اللہ سے دعا کر رہا ہوں کہ وہ مجھے ان تھوڑے بندوں میں سے بنا دے۔ راوی فرماتے ہیں : پھر حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : تمام لوگ عمر سے زیادہ علم والے ہیں۔
حدیث نمبر: 31491
٣١٤٩١ - حدثنا الفضل بن دكين (عن أبي خلدة) (١) عن أبي العالية قال: سمعت عمر يقول: اللهم عافنا واعف عنا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو یوں دعا مانگتے ہوئے سنا : اے اللہ ! تو ہمیں عافیت بخش دے اور ہم سے درگزر فرما۔
حدیث نمبر: 31492
٣١٤٩٢ - حدثنا حسين بن علي عن طعمة بن (عبد اللَّه) (١) عن رجل يقال له ميكائيل شيخ من أهل خراسان قال: كان عمر إذا قام من الليل (يقول) (٢): قد ترى مقامي وتعرف حاجتي، فارجعني من عندك يا اللَّه بحاجتي مفلجًا منجحًا مستجيبًا مستجابًا لي، قد غفرت لي ورحمتني، فإذا قضى صلاته قال: اللهم (لا) (٣) أرى شيئًا من الدنيا يدوم، ولا أرى (حالًا فيها) (٤) يستقيم، اللهم اجعلني أنطق فيها بعلم وأصمت بحكم، اللهم لا تكثر لي من الدنيا فأطغى، ولا تقل لي منها فأنسى، فإنه ما قل وكفى خير مما كثر وألهى (٥).
مولانا محمد اویس سرور
خراسان کا ایک بوڑھا شخص جس کو میکائیل کہا جاتا تھا انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا فرماتے : تو میرے کھڑے ہونے کو جانتا ہے اور میری ضرورت کو بھی جانتا ہے : اے اللہ ! تو مجھے اپنے پاس سے لوٹا اس حال میں کہ میری حاجت پوری ہو، کامیاب ہو، قبول ہونے والی قبول کی گئی میرے لیے۔ تحقیق تو نے میری مغفرت فرما دی اور تو نے مجھ پر رحم فرما دیا۔ پس جب اپنی نماز مکمل فرما لیتے تو فرماتے : اے اللہ ! میں نے دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں دیکھی جو دائمی ہو۔ اور نہ ہی کوئی ایسی حالت دیکھی جو کہ ہمیشہ سیدھی رہے۔ اے اللہ ! تو مجھے ایسا بنا دے کہ میں علم کے ساتھ بات کروں اور میں حکم کے ساتھ خاموش رہوں۔ اے اللہ ! تو میرے لیے دنیا کو زیادہ مت فرما دے کہ میں سرکش بن جاؤں۔ اور نہ ہی میرے لیے اس دنیا کو اتنا تھوڑا کر دے کہ میں تجھے بھول جاؤں، اس لیے کہ جو تھوڑا اور کافی ہو وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غفلت میں ڈال دے۔
حدیث نمبر: 31493
٣١٤٩٣ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن سليم بن حنظلة عن عمر أنه كان يقول: اللهم إني أعوذ بك أن تأخذني على (غرة) (١)، أو تذرني في غفلة أو تجعلني من الغافلين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیم بن حنظلہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر یوں دعا فرماتے تھے : اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ تو بیخبر ی کی حالت میں میری پکڑ کرے، یا تو مجھے غفلت کی حالت میں چھوڑ دے ۔ یا تو مجھے غافلین میں سے بنا دے۔