کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو دعا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے مانگی جس کا کچھ حصہ عطا بھی کر دیا گیا
حدیث نمبر: 31481
٣١٤٨١ - حدثنا أبو بكر حدثنا عبد اللَّه بن نمير حدثنا محمد بن إسحاق عن حكيم بن حكيم عن علي بن عبد الرحمن عن حذيفة بن اليمان قال: (خرج) (١) رسول اللَّه ﷺ إلى حرة بني معاوية (واتبعت) (٢) أثره حتى ظهر عليها فصلى الضحى ثماني ركعات طول فيهن ثم أنصرف فقال: "يا حذيفة طولت عليك" قلت: اللَّه ورسوله أعلم، قال: "إني سألت اللَّه فيها ثلاثًا فأعطاني اثنتين ومنعني واحدة، سألته أن لا يظهر على أمتي غيرها (فأعطانيها) (٣)، وسألته أن لا يهلكها بالسنين (فأعطانيها) (٤)، وسألته أن لا يجعل بأسها بينها، فمنعني" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن الیمان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو معاویہ قبیلہ کے نزدیک حرہ مقام کی طرف تشریف لے گئے، اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ہو لیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں پہنچ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاشت کی آٹھ رکعت ادا کیں، اور ان کو بہت لمبا کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوٹے، اور فرمانے لگے، اے حذیفہ رضی اللہ عنہ ! کیا میں نے تجھے طوالت میں ڈال دیا ؟ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اللہ سے اس میں تین دعائیں مانگیں پس اللہ نے میری دو دعاؤں کو قبولیت عطا کی اور ایک کو منع فرما دیا، میں نے اللہ سے یہ دعا مانگی کہ میری امت پر کبھی کوئی غیر غالب نہ آئے، تو اللہ نے میری دعا کو شرف قبولیت بخشی، اور میں نے دعا مانگی کہ میری امت قحط کی وجہ سے ہلاک نہ ہو تو اللہ نے میری اس دعا کو بھی شرف قبولیت بخشی، اور میں یہ دعا مانگی کہ میری امت کے درمیان آپس مں و جنگ مت ہو تو اس دعا کو منع فرما دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31481
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31481، ترقيم محمد عوامة 30120)
حدیث نمبر: 31482
٣١٤٨٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن رجاء الأنصاري عن عبد اللَّه بن شداد عن معاذ بن جبل قال: صلى رسول اللَّه ﷺ يومًا صلاة فأطال فيها فلما انصرف قلت: يا رسول اللَّه لقد أطلت اليوم الصلاة، قال: "إني صليت صلاة رغبة ورهبة، وسألت اللَّه لأمتي ثلاثًا فأعطاني اثنتين ورد علي واحدة، سألته أن لا يسلط عليهم عدوًا من غيرهم فأعطانيها، وسألته أن لا يهلكهم غرقا فأعطانيها، وسألته أن لا يجعل بأسهم بينهم (فردُت) (١) علي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ بن جبل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھی اور بہت لمبی نماز پڑھی، جب نماز پڑھ کر فارغ ہوئے۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے لمبی نماز پڑھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے شوق اور خوف کی نماز پڑھی اور میں نے اللہ سے اپنی امت کے لیے تین چیزیں مانگیں، پس اللہ نے مجھے دو چیزیں عطا فرما دیں اور ایک چیز کو واپس مجھ پر رد کردیا۔ میں نے اللہ سے سوال کیا کہ اس امت پر ان کے علاوہ کسی دشمن کو مسلط مت فرما۔ پس اللہ نے اس دعا کو شرف قبولیت عطا فرمائی، اور میں نے اللہ سے سوال کیا کہ اس امت کو ڈوبنے کے عذاب کے ذریعہ ہلاک مت فرما، پس اللہ نے اس دعا کو بھی شرف قبولیت عطا فرمائی۔ اور میں نے یہ بھی سوال کیا کہ اس امت کے درمیان آپس میں کوئی جنگ نہ ہو تو یہ دعا مجھ پر واپس لوٹا دی گئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31482
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31482، ترقيم محمد عوامة 30121)
حدیث نمبر: 31483
٣١٤٨٣ - حدثنا أبو أسامة حدثنا سليمان بن المغيرة حدثنا ثابت عن عبد الرحمن ابن أبي ليلى عن صهيب قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا صلى (همس) (١) شيئًا لا يخبرنا به، (قلنا) (٢): يا رسول اللَّه إنك مما إذا صليت (همست) (٣) شيئًا لا نفقهه، قال: "فطنتم (بي؟) (٤) " قلت: نعم، قال: "ذكرت نبيًا من الأنبياء أعطي جنودًا من (قومه) (٥) (فنظر إليهم) (٦) فقال: من يكافئ هؤلاء قال: فقيل له: اختر لقومك إحدى ثلاث إما أن يُسِلِّط (عليهم) (٧) عدوًا من غيرهم أو الجوع أو الموت، قال: فعرض ذلك على قومه، قال: فقالوا: أنت نبي اللَّه فاختر لنا، قال: فقام إلى ⦗٢٤٣⦘ الصلاة، قال: وكانوا مما إذا (فزعوا) (٨) فزعوا إلى الصلاة، فصلى (فقال) (٩): اللهم (إما) (١٠) إن تسلط عليهم من غيرهم فلا، أو الجوع فلا، ولكن الموت، قال: فسلط عليهم الموت فمات منهم سبعون ألفًا في ثلاثة أيام، قال: (فهمسي) (١١) (الذي) (١٢) تسمعون (أني) (١٣) أقول اللهم بك أحاول وبك أصاول (١٤) ولا قوة إلا بك" (١٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صھیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز پڑھتے تو آہستہ سے کچھ کہتے جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نہیں بتلایا تھا۔ پس ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بلاشبہ ابھی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھی ہے تو آہستہ سے کچھ کہا جس کو ہم نہیں سمجھ سکے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے، کیا تم نے میرے پڑھنے کو جان لیا ؟ ہم نے کہا ! جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے انبیاء میں سے ایک نبی کا قصہ یاد آگیا۔ جن کی قوم کے لشکر کو ان کا تابع بنادیا گیا تھا، پس انہوں نے اس لشکر کی طرف دیکھ کر فرمایا : کون ہے جو اس سے بدلہ لے سکتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پس ان سے کہا گیا : آپ اپنی قوم کے لیے تین میں سے ایک بات منتخب کریں : یا تو ان پر کسی غیر دشمن کو مسلط کردیا جائے، یا پھر بھوک و فاقہ یا پھر موت ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انہوں نے اپنی قوم پر یہ تینوں چیزیں پیش کیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان کی قوم نے کہا : آپ اللہ کے نبی ہیں آپ ہی ہمارے لیے کوئی ایک منتخب فرما لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پس وہ نماز کے لیے کھڑے ہوگئے۔ یہ بھی فرمایا : جب وہ لوگ کسی چیز سے ڈرتے تو وہ نماز کی پناہ پکڑتے تھے۔ پس ان نبی نے نماز پڑھی، پھر یوں فرمایا : اے اللہ ! یا تو آپ نے ان پر دشمن کو مسلط فرمانا تھا پس آپ ایسا مت کریں یا پھر بھوک تو وہ بھی نہیں، لیکن موت عطا کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان کی قوم پر موت کو مسلط کردیا گیا۔ پس ان کی قوم کے تین دنوں میں ستر ہزار افراد موت کی وادی میں سو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پس میں آہستہ سے جو پڑھ رہا تھا جو تم نے سنا میں یہ دعا پڑھ رہا تھا۔ اے اللہ ! میں آپ کی مدد سے سے ہی تدبیر کروں گا، اور آپ کی مدد سے ہی حملہ کروں گا، اور ایسا کرنے کی طاقت نہیں سوائے تیری مدد کے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31483
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٨٩٣٧)، والنسائي في الكبرى (٨٦٣٣)، والترمذي (٣٣٤٠)، وابن حبان (٤٧٨٥)، والدارمي (٢٤٤١)، والشاشي (٩٩٢)، والقضاعي (١٤٨٣)، والبيهقي ٩/ ١٥٣، والطبراني في الدعاء (٦٦٤)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٥٥، وابن السني (١١٧)، وعبد الرزاق (٩٧٥١)، والبزار (٢٠٨٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31483، ترقيم محمد عوامة 30122)
حدیث نمبر: 31484
٣١٤٨٤ - حدثنا بن نمير حدثنا عثمان بن حكيم أخبرنا عامر بن سعد عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ أقبل ذات يوم من العالية حتى إذا مر بمسجد بني معاوية دخل فركع فيه ركعتين وصلينا معه ودعا ربه طويلًا ثم انصرف إلينا فقال: "سألت ربي ثلاثًا فأعطاني اثنتين ورد علي واحدة، سألت ربي أن لا يهلك أمتي بالسنة فأعطانيها، وسألته أن لا يهلك أمتي بالغرق فأعطانيها، وسألته أن لا يجعل بأسهم بينهم فمنعنيها" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلند جگہ سے ہماری طرف تشریف لائے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر مسجد بنی معاویہ کے پاس سے ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور اس میں دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب سے لمبی دعا مانگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف پلٹے۔ ور فرمایا۔ میں نے اپنے رب سے تین دعائیں مانگیں۔ پس رب نے مجھے دو چیزیں عطافرما دیں اور ایک کو منع فرما دیا۔ میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ میری امت کو فاقہ کے ذریعہ سے مت ہلاک فرمائیں، تو اللہ نے اس دعا کو شرف قبولیت عطا فرمائی، اور میں نے یہ بھی سوال کیا کہ میری امت کو ڈوبنے کے ذریعہ ہلاک مت فرمانا۔ پس اللہ نے اس دعا کو بھی شرف قبولیت عطا فرمائی، اور میں نے یہ بھی سوال کیا کہ امت کے درمیان کوئی جنگ نہ ہو تو اللہ نے منع فرما دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31484
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٨٩٠)، وأحمد (١٥٧٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31484، ترقيم محمد عوامة 30123)