حدیث نمبر: 31462
٣١٤٦٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم عن مسروق عن عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ يعوذ بهذه الكلمات: "أذهب البأس، رب الناس، واشف أنت الشافي لا شفاء، إلا شفاؤك، شفاء لا يغادر سقمًا"، قالت: فلما ثقل رسول اللَّه ﷺ في مرضه الذي مات فيه أخذت بيده فجعلت (أمسحها وأقولها) (١)، قالت: فنزع يده من يدي وقال: "اللهم ألحقني (بالرفيق) (٢) "، قالت: فكان هذا ⦗٢٣٥⦘ آخر ما سمعت من كلامه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ تعویذ (دم) کرتے تھے۔ ” لوگوں کے رب تکلیف کو دور فرما۔ تو شفا دے اور تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں ہے ایسی شفا دے کہ کوئی بیماری باقی نہ رہے۔ “ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مرض بڑھ گیا جس مرض میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تھی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑتی، پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کو ہی آپ کے جسم پر پھیرتی رہتی تھیں اور یہ دعا پڑھتی رہتی تھی : فرماتی ہیں : کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑایا اور یہ دعا پڑھی : اے اللہ ! تو مجھے معاف فرما۔ مجھے رفیق سے ملا دے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ! یہ آخری بات تھی جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام سے سنی تھی۔
حدیث نمبر: 31463
٣١٤٦٣ - حدثنا جرير عن منصور عن أبي الضحى عن مسروق عن عائشة عن النبي ﷺ بمثل حديث أبي معاوية إلا أنه لم يقل فلما ثقل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ما قبل والی روایت اس سند کے ساتھ بھی مروی ہے مگر اس سند میں ” فلما ثقل “ کا لفظ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 31464
٣١٤٦٤ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن الأعمش عن أبي الضحى عن مسروق عن عائشة أن النبي ﷺ (كان) (١) يقول للمريض: "أذهب البأس رب الناس واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك (شفاء) (٢) لا يغادر سقمًا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یقینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مریض کے لیے یوں دعا فرمایا کرتے تھے ۔ لوگوں کے رب ! تکلیف کو دور فرما۔ تو شفا دے تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفاء نہیں ہے، ایسی شفا دے کہ کوئی بیماری باقی نہ رہے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث حضرت منصور کے سامنے ذکر کی تو انہوں نے یہ حدیث مذکورہ سند سے بھی بیان کی۔
حدیث نمبر: 31465
٣١٤٦٥ - قال سفيان: فذكرته لمنصور فحدثني عن إبراهيم عن مسروق عن عائشة عن النبي ﷺ بمثله (١).
حدیث نمبر: 31466
٣١٤٦٦ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا دخل على مريض قال: "أذهب البأس، رب الناس، واشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی مریض پر داخل ہوتے تو یوں دعا پڑھتے : لوگوں کے رب ! تکلیف کو دور فرما۔ تو شفا دے تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں۔
حدیث نمبر: 31467
٣١٤٦٧ - حدثنا سفيان بن عيينة عن عبد ربه عن (عمرة) (١) عن عائشة أن رسول اللَّه ﷺ كان مما يقول (للمريض) (٢) ببزاقه بأصبعه: "بسم اللَّه: (تربة) (٣) أرضنا بريقة بعضنا يشفى سقيمنا بإذن ربنا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے لعاب مبارک کو انگلی پر لگا کر مریض کے لیے یوں دعا کرتے تھے : اللہ کے نام کے ساتھ، ہماری زمین کی مٹی اور ہم میں بعض کے لعاب کے ذریعہ ہمارے مریض کو شفا دی جائے ہمارے رب کی اجازت سے۔
حدیث نمبر: 31468
٣١٤٦٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم بن عبيد اللَّه عن زياد بن (ثويب) (١) عن أبي هريرة قال: دخل علي رسول اللَّه ﷺ وأنا أشتكي فقال: "ألا أرقيك برقية علمنيها جبريل: بسم اللَّه أرقيك، واللَّه يشفيك، من كل أرب يؤذيك، ومن شر النفاثات في العقد، ومن شر حاسد إذا حسد" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر داخل ہوئے اس حال میں کہ میں تکلیف میں تھا۔ پھر فرمانے لگے : کیا میں تمہیں دم نہ کروں جو دم مجھے حضرت جبرائیل نے سکھایا ہے ! اللہ کے نام کے ساتھ میں تجھے دم کرتا ہوں اور اللہ ہی تجھے شفا دے ہر اس عضو سے جو تجھے تکلیف دے اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔
حدیث نمبر: 31469
٣١٤٦٩ - حدثنا عبد الرحيم بن (سليمان) (١) عن حجاج عن المنهال بن عمرو عن عبد اللَّه بن الحارث عن ابن عباس أن رسول اللَّه ﷺ قال: "من دخل على مريض لم تحضر وفاته فقال: أسأل اللَّه رب العرش العظيم أن يشفيك سبع مرات شفي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی ایسے مریض کے پاس جائے جس کی موت قریب نہ ہو تو وہ سات مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے : مں فاللہ سے سوال کرتا ہوں جو عظمت والا ہے، عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تجھے شفا دے، تو اس مریض کو شفا دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 31470
٣١٤٧٠ - (١) حدثنا زيد بن الحباب عن عبد الرحمن بن ثوبان قال: أخبرني عمير ابن هانئ قال: سمعت جنادة بن أبي أمية يقول: سمعت عبادة بن الصامت يحدث عن رسول اللَّه ﷺ أن جبريل رقاه وهو يوعك فقال: "بسم اللَّه أرقيك، من كل داء يؤذيك، من كل حاسد إذا حسد، ومن كل عين، واسم اللَّه يشفيك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبادہ بن الصامت ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالہ سے بیان فرماتے ہیں : جبرائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دم کیا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت بخار میں مبتلا تھے، پس یہ کلمات پڑھے ! اللہ کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں، ہر اس بیماری سے جو آپ کو تکلیف پہنچائے، ہر حسد کرنے والے سے جب وہ حسد کرے اور ہر (بُری) آنکھ سے، اور اللہ کا نام ہی آپ کو شفا دے گا۔
حدیث نمبر: 31471
٣١٤٧١ - حدثنا محمد بن بشر العبدي حدثنا زكريا بن أبي زائدة حدثنا سماك عن محمد بن حاطب قال: تناولت قدرًا لنا فاحترقت يدي فانطلقت (بي أمي) (١) إلى رجل جالس في (الجبانة) (٢) فقالت له: يا رسول اللَّه، فقال: " (لبيك) (٣) وسعديك"، ثم أدنتني منه فجعل ينفث ويتكلم لا أدري ما هو، فسألت أمي بعد ذلك ما كان يقول: قالت: كان يقول: "أذهب البأس رب الناس واشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن حاطب فرماتے ہیں کہ میں نے گرم ہانڈی پکڑ لی تو میرا ہاتھ جل گیا ، پھر میری والدہ مجھے ایک آدمی کے پاس لے گئیں جو بلند جگہ میں بیٹھا تھا، میری والدہ نے ان کو کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تو انہوں نے فرمایا : تم خوش بخت و خوش نصیب رہو فرماؤ پھر میری والدہ نے مجھے ان کے قریب کردیا، پس وہ پھونک مارتے تھے اور کچھ بولتے تھے، میں نہیں جان پا رہا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، پھر بعد میں میں نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ وہ کیا پڑھ رہے تھے ؟ والدہ نے فرمایا : وہ یہ کلمات پڑھ رہے تھے : لوگوں کے رب ! تکلیف کو دور فرما۔ تو شفا دے اور تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 31472
٣١٤٧٢ - حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد عن منصور عن المنهال عن سعيد بن جبير ⦗٢٣٨⦘ عن (ابن عباس) (٢) أن رسول اللَّه ﷺ كان يعوذ الحسن والحسين بهؤلاء الكلمات: "أعيذكما بكلمات اللَّه التامة، من شر كل شيطان وهامة، و (شر) (٣) كل عين لامة"، قال: وكان إبراهيم يعوذ بها إسماعيل وإسحاق (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرات حسنین کو ان کلمات کے ذریعہ دم کرتے تھے : میں تم دونوں کو اللہ کے مکمل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان اور مؤذی جانور کے شر سے، اور ہر بری آنکھ کے شر سے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ابراہیم بھی اسماعیل اور حضرت اسحاق i کو ان کلمات کے ذریعہ دم کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 31473
٣١٤٧٣ - حدثنا يعلى بن عبيد حدثنا سفيان عن منصور عن المنهال عن سعيد ابن جبير عن ابن عباس قال: كان رسول اللَّه ﷺ يعوذ الحسن والحسين ثم ذكر مثله، إلا أنه لم يقل: وشر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرات حسنین کو دم کرتے تھے، پھر راوی نے آگے ما قبل والی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔ مگر لفظ ” شر “ نہیں بیان کیا۔
حدیث نمبر: 31474
٣١٤٧٤ - حدثنا وكيع عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن سلمة عن علي قال: اشتكيت فدخل علي النبي ﷺ (وأنا) (١) أقول: (اللهم) (٢) إن كان أجلي قد حضر (فارحني) (٣)، وإن كان متأخرًا فاشفني (أو) (٤) عافني، وإن كان بلاءً (فصبرني) (٥) فقال النبي ﷺ: "كيف قلت؟ " قال: فقلت له، فمسحني بيده ⦗٢٣٩⦘ (و) (٦) قال: "اللهم اشفه أو عافه"، فما اشتكيت ذلك الوجع بعد (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تکلیف میں مبتلا تھا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ میں یوں دعا کر رہا تھا : اے اللہ ! اگر میری موت حاضر ہے تو مجھے موت کے ذریعہ راحت پہنچا۔ اور اگر ابھی موت مںِ تاخیر ہے تو مجھے شفا بخش یا مجھے عافیت عطا فرما، اگر کوئی مصیبت ہے تو مجھے صبر سے نواز دے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم کیا پڑھ رہے ہو ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے وہ کلمات پڑھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک مجھ پر پھیرا پھر یوں دعا پڑھی : اے اللہ ! تو اس کو شفا بخش یا تو اس کو عافیت بخش دے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پھر کبھی مجھے یہ تکلیف نہیں ہوئی۔
حدیث نمبر: 31475
٣١٤٧٥ - حدثنا يحيى بن أبي بكير حدثنا زهير بن محمد عن يزيد بن خصيفة عن (عمر) (١) بن عبد اللَّه بن كعب عن نافع بن جبير عن عثمان بن أبي العاص الثقفي قال: قدمت على رسول اللَّه ﷺ وبي وجع، قد كاد (يبطلني) (٢) فقال رسول اللَّه ﷺ: "اجعل يدك اليمنى عليه، ثم قل: (اللهم) (٣) بسم اللَّه أعوذ بعزة اللَّه وقدرته من شر ما أجد سبع مرات، ففعلت فشفاني اللَّه ﷿" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن ابی العاص الثقفی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور میں شدید تکلیف میں مبتلا تھا، قریب تھا کہ یہ تکلیف مجھے کسی باطل کام میں مبتلا کر دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا : اپنا داہنا ہاتھ تکلیف والی جگہ پر رکھو، پھر سات مرتبہ یہ کلمات پڑھو : اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت کی برکت سے پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو میں پاتا ہوں۔ حضرت عثمان بن ابی العاص الثقفی فرماتے ہیں ! پس میں نے ایسا ہی کیا، تو اللہ عزوجل نے مجھے شفا عطا فرما دی۔
حدیث نمبر: 31476
٣١٤٧٦ - حدثنا زيد بن الحباب عن إبراهيم بن إسماعيل بن أبي حبيبة قال: حدثني داود بن الحصين عن عكرمة عن ابن عباس قال: كان رسول اللَّه ﷺ يعلمنا من الأوجاع كلها والحمى هذا الدعاء: "بسم اللَّه الكبير، أعوذ باللَّه العظيم من شر كل عرق (يعار) (١) ومن شر حر النار" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں تمام تکالیف اور بخار کے لیے یہ دعا سکھلایا کرتے تھے : اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بہت بڑا ہے ، میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جو کہ عظمت والا ہے ہر اس رگ کے شر سے جو فساد پیدا کرے، اور آگ کی گرمی کے شر سے۔
حدیث نمبر: 31477
٣١٤٧٧ - حدثنا (محمد) (١) بن الفضيل عن العلاء بن المسيب عن الفضيل بن عمرو قال: جاء رجل إلى علي (فقال) (٢): إن فلانًا شاكٍ، قال: يسرك أن يبرأ، قال: نعم، قال: قل: يا (حليم) (٣) يا كريم اشف -ثلاثًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل بن عمرو فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ فلاں شخص بہت بیمار ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کا بیماری سے تندرست ہونا تجھے پسند ہے ؟ اس شخص نے کہا : جی ہاں ! آپ نے فرمایا : تم تین مرتبہ یہ کلمات پڑھو ، اے بردبار، اے بہت کرم کرنے والے تو شفا عطا فرما۔
حدیث نمبر: 31478
٣١٤٧٨ - حدثنا أحمد بن عبد اللَّه حدثنا أبو شهاب عن داود عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال: اشتكى رسول اللَّه ﷺ فرقاه جبريل فقال: "بسم اللَّه أرقيك من كل (شيء) (١) يؤذيك من كل (حاسد وعين) (٢) واللَّه يشفيك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوگئے تو جبرائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دم کیا۔ پس یہ کلمات پڑھے، اللہ کے نام کے ساتھ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو ایذا پہنچائے، ہر حسد کرنے والے سے اور بری آنکھ سے، اور اللہ ہی آپ کو شفا دے گا۔
حدیث نمبر: 31479
٣١٤٧٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يحيى بن سعيد عن عمرة بنت عبد الرحمن قالت: اشتكت عائشة أم المؤمنين وإن أبا بكر دخل عليها (ويهودية) (١) (ترقيها) (٢) فقال: ارقيها بكتاب اللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرہ بنت عبد الرحمن فرماتی ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار ہوگئیں۔ اور حضرت ابوبکر ان کے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ ایک یہودی عورت ان کو جھاڑ پھونک کر رہی تھی، تو آپ نے فرمایا : اس کو کتاب اللہ کے ساتھ دم کرو۔
حدیث نمبر: 31480
٣١٤٨٠ - حدثنا أبو بكر حدثنا عفان حدثنا حماد بن سلمة عن حميد عن أنس أن رسول اللَّه ﷺ (كان) (١) إذا دخل على مريض قال: "أذهب البأس رب الناس ⦗٢٤١⦘ واشف (٢) أنت الشافي لا (شافي) (٣) إلا أنت شفاء لا يغادر سقمًا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس ارشاد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی مریض کے پاس تشریف لے جاتے تو یوں دعا فرماتے ، لوگوں کے رب ! تکلیف کو دور فرما، اور تو شفا دے تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے، ایسی شفا دے جس کے بعد کوئی بیماری باقی نہ رہے۔