کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اللہ عزوجل کے ذکر کرنے کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 31425
٣١٤٢٥ - (١) حدثنا سليمان بن حبان (٢) أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن أبي الزبير عن طاوس عن معاذ قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما عمل ابن آدم عملا أنجى له من النار من ذكر اللَّه"، قالوا: يا رسول اللَّه، ولا الجهاد في سبيل اللَّه؟ قال: "ولا الجهاد في سبيل اللَّه، تضرب بسيفك حتى ينقطع، ثم تضرب (بسيفك) (٣) حتى (ينقطع) (٤)، ثم (تضرب) (٥) (به) (٦) حتى (ينقطع) (٧) " (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آدم کے بیٹے کا کوئی عمل نہیں ہے جو اس کو جہنم سے زیادہ نجات دلا دے سوائے اللہ کے ذکر کے ، تو صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا بھی نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہ ہی اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا مگر یہ کہ تو تلوار استعمال کرے یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جائے پھر تو تلوار چلائے یہاں تک کہ ٹوٹ جائے پھر تو تلوار چلائے یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31425
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31425، ترقيم محمد عوامة 30065)
حدیث نمبر: 31426
٣١٤٢٦ - حدثنا زيد بن حباب أخبرنا معاوية بن صالح قال: أخبرني عمرو بن قيس الكندي عن عبد اللَّه بن (بسر) (١) أن أعرابيًا قال لرسول اللَّه ﷺ: يا رسول اللَّه إن شرائع الإسلام قد كثرت (علي) (٢) (فانبئني منها) (٣) بأمر (أتشبث) (٤) به قال: ⦗٢٢٣⦘ "لا يزال لسانك رطبا بذكر اللَّه" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن بسر فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بیشک اسلام کے احکامات بہت زیادہ ہیں۔ پس آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتلا دیں جس کو میں مضبوطی سے تھام لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ ہر وقت تو اللہ کے ذکر سے رطب اللسان ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31426
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٧٦٩٨)، والترمذي (٢٣٢٩)، وابن ماجه (٣٧٩٣)، وابن حبان (٨١٤)، والحاكم ١/ ٤٩٥، والبيهقي ٣/ ٣٧١، وعبد بن حميد (٥٠٩)، وابن عاصم في الآحاد (١٣٥٧)، والبغوي (١٢٤٥)، والطبراني في الأوسط (١٤٦٤)، وابن المبارك في الزهد (٩٣٥)، وأبو نعيم في الحلية ٦/ ١١١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31426، ترقيم محمد عوامة 30066)
حدیث نمبر: 31427
٣١٤٢٧ - حدثنا يزيد بن هارون عن داود عن الشعبي عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أبي أيوب الأنصاري عن رسول اللَّه ﷺ قال: "من قال: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد بيده الخير وهو على كل شيء قدير، عشر مرات، كن له كعدل عشر (رقاب) (١) أو رقبة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوایوب انصاری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص دس مرتبہ یہ کلمات پڑھے : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے ۔ ہر قسم کی بھلائی اس کے قبضہ ٔ قدرت میں ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ تو یہ کلمات اس کے لیے دس گردنیں آزاد کرنے کے برابر ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31427
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31427، ترقيم محمد عوامة 30067)
حدیث نمبر: 31428
٣١٤٢٨ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن طلحة عن عبد الرحمن بن (عوسجة) (١) عن البراء بن عازب قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من قال: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير كان (كعتق) (٢) رقبة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ کلمات پڑھے : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، تو یہ ثواب میں ایک غلام آزاد کرنے کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31428
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ليث، أخرجه أحمد (١٨٥١٦)، والنسائي في الكبرى (٩٩٥٣)، وابن حبان (٨٥٠)، والطبراني في الدعاء (١٧١٦)، وتمام (١٥٦٠ الروض)، ويعقوب في المعرفة ٣/ ١٧٨، والعقيلي في الضعفاء ٤/ ٨٦، والحاكم ١/ ٥٠١، والطيالسي (٧٤٠)، والبيهقي في الشعب (٣٣٨٥)، وسيأتي ١٠/ ٣١٠ برقم [٣١٤٥٧] بإسناد صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31428، ترقيم محمد عوامة 30068)
حدیث نمبر: 31429
٣١٤٢٩ - (١) حدثنا هشيم عن يعلي بن عطاء عن بشر بن عاصم عن عبد اللَّه بن (عمرو) (٢) قال: ذكر اللَّه الغداة والعشي أعظم من حطم السيوف في سبيل اللَّه وإعطاء المال (سحاء) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : صبح و شام اللہ کا ذکر کرنا۔ اللہ کے راستے میں تلواریں توڑنے اور لگاتار مال خرچ کرنے سے زیادہ عظیم کام ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31429
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31429، ترقيم محمد عوامة 30069)
حدیث نمبر: 31430
٣١٤٣٠ - حدثنا يحيى بن واضح عن موسى بن عبيدة عن أبي عبد اللَّه (القراظ) (١) عن معاذ بن جبل قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من أحب أن يرتع في رياض الجنة فليكثر ذكر اللَّه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ بن جبل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ جنت کے باغات میں سے کھائے پیے ، پس اس کو چاہیے کہ وہ اللہ کے ذکر کی کثرت کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31430
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف موسى بن عبيدة، أخرجه إسحاق كما في المطالب (٣٣٩٢)، والطبراني ٢٠ (٣٢٦)، والثعلبي في التفسير ٧/ ٢٨٢، وابن شاهين في الترغيب (١٦٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31430، ترقيم محمد عوامة 30070)
حدیث نمبر: 31431
٣١٤٣١ - حدثنا وكيع عن مسعر عن علقمة بن مرثد عن (ابن) (١) سابط عن معاذ قال: لأن أذكر اللَّه من غدوة حتى تطلع الشمس أحب إليّ من أن أحمل على الجياد في سبيل اللَّه من غدوة حتى تطلع الشمس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سابط فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ نے ارشاد فرمایا کہ میں صبح سے لے کر سورج کے طلوع ہونے تک اللہ رب العزت کا ذکر کروں یہ مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں صبح سے لے کر سورج طلوع ہونے تک اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لیے سواری پر سوار ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31431
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31431، ترقيم محمد عوامة 30071)
حدیث نمبر: 31432
٣١٤٣٢ - حدثنا زيد بن الحباب حدثنا معاوية (بن صالح) (١) حدثنا عبد الرحمن ابن جبير بن نفير عن أبيه عن أبي الدرداء قال: إن الذين لا تزال ألسنتهم رطبة من ذكر اللَّه يدخلون الجنة وهم يضحكون (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبیر بن نفیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء نے ارشاد فرمایا : یقینا وہ لوگ جو ہر وقت اللہ کے ذکر سے رطب اللسان ہوتے ہیں وہ لوگ جنت میں ہنستے ہوئے داخل ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31432
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ معاوية بن صالح صدوق، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢١٩، و ٥/ ١٣٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31432، ترقيم محمد عوامة 30072)
حدیث نمبر: 31433
٣١٤٣٣ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر عن عبد الملك بن ميسرة عن هلال ابن يساف عن عمرو بن ميمون عن الربيع بن خثيم عن عبد اللَّه قال: من قال: عشر مرات لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، كن كعدل أربع رقاب، أراه قال: من ولد إسماعيل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے ارشاد فرمایا : جو شخص دس مرتبہ یہ کلمات پڑھے : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ تو اسے ان کلمات کا ثواب چار غلاموں کو آزاد کرنے کے برابر ملے گا۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ یوں فرمایا : اسماعیل کی نسل کے غلاموں کا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31433
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه النسائي في الكبرى (٩٩٤٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31433، ترقيم محمد عوامة 30073)
حدیث نمبر: 31434
٣١٤٣٤ - حدثنا وكيع عن مسعر عن عبد الملك بن ميسرة عن هلال عن أم الدرداء قالت: من قال: مائة مرة غدوة ومائة مرة عشية: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، لم يجيء أحد يوم القيامة بمثل ما جاء به إلا من قال مثلهن أو زاد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھلال فرماتے ہیں کہ حضرت ام الدرداء نے ارشاد فرمایا : جو شخص سو (١٠٠) مرتبہ صبح اور سو مرتبہ شام کو یہ کلمات پڑھے گا، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ تو نہیں آئے گا قیامت کے دن کوئی شخص اس جیسا عمل لے کر مگر وہ جو شخص جس نے اس کے برابر یا اس سے زیادہ مرتبہ ان کلمات کو پڑھا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31434
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31434، ترقيم محمد عوامة 30074)
حدیث نمبر: 31435
٣١٤٣٥ - حدثنا شريك عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: قال معاذ بن جبل: لو أن رجلين يحمل أحدهما على الجياد في سبيل اللَّه، والآخر يذكر اللَّه، لكان أفضل أو أعظم أجرا الذاكر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل نے ارشاد فرمایا : کہ اگر دو آدمی ہوں ان میں سے ایک اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لیے گھوڑے پر سوار ہو اور دوسرا اللہ کا ذکر کرے تو فضیلت یا زیادہ اجر کے حاصل کرنے والا ذکر کرنے والا شمار ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31435
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31435، ترقيم محمد عوامة 30075)
حدیث نمبر: 31436
٣١٤٣٦ - حدثنا يحيى بن آدم عن مفضل عن منصور عن مجاهد عن أبي بكر بن عبد الرحمن (بن الحارث) (١) بن هشام عن كعب قال: قال موسى: يا رب دلني على عمل إذا عملته كان شكرًا لك فيما (اصطنعت) (٢) إلى قال: يا موسى (قل) (٣): (لا إله إلا اللَّه أو قال) (٤): لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو ⦗٢٢٦⦘ على كل شيء قدير، قال: فكأن موسى أراد من العمل ما هو (أنهك) (٥) لجسمه مما أمر به، قال: فقال له: يا موسى، لو أن السماوات السبع والأرضين السبع وضعت في كفة ووضعت لا إله إلا اللَّه في كفة لرجحت بهن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے عرض کیا : اے میرے رب ! میری راہنمائی فرما دیں کسی ایسے عمل کی جانب جب میں اس عمل کو کروں تو یہ میری طرف سے آپ کا شکر ہوجائے ان تمام کاموں کے بدلے جو آپ نے میرے ساتھ بھلائی کے کیے ہیں۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا : اے موسیٰ ! تم یہ کلمات پڑھ لیا کرو ! اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں یا یوں ارشاد فرمایا : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اس ہی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے ۔ اور وہ ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ حضرت کعب فرماتے ہیں۔ گویا حضرت موسیٰ کوئی ایسا عمل چاہ رہے تھے کہ جس چیز کا حکم دیا جائے وہ ان کے جسم کو بہت زیادہ تھکا دے۔ حضرت کعب فرماتے ہیں کہ پس اللہ نے ان سے ارشاد فرمایا : اے موسیٰ ! اگر ساتوں آسمانوں کو اور ساتوں زمینوں کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور کلمہ طیبہ ( اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ) اس کے دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو کلمہ والا پلڑا جھک جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31436
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31436، ترقيم محمد عوامة 30076)
حدیث نمبر: 31437
٣١٤٣٧ - حدثنا شريك عن الأعمش عن سالم قال: قيل لأبي الدرداء: إن أبا (سعد) (١) بن منبه جعل في ماله مائة محررة، فقال: إن مائة محررة في مال رجل لكثير، ألا أخبركم بأفضل من ذلك، إيمان (ملزوم) (٢) بالليل والنهار، ولا يزال لسانك رطبًا من ذكر اللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء کو بتلایا گیا کہ ابو سعد بن منبہ نے اپنے مال میں سے سو غلام آزاد کیے ہیں۔ حضرت ابودردائ نے فرمایا کہ سو غلام تو بہت ہیں لیکن میں تمہیں اس سے بہتر بتاؤں وہ یہ کہ تم دن رات ایمان کے ساتھ اپنی زبان کو اللہ کے ذکر سے تر رکھو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31437
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31437، ترقيم محمد عوامة 30077)
حدیث نمبر: 31438
٣١٤٣٨ - حدثنا وكيع عن مسعر عن عبد الملك بن ميسرة (عن مسلم) (١) عن سويد ابن (جهيل) (٢) قال: من قال بعد العصر: لا إله إلا اللَّه له الحمد وهو على كل شيء قدير قاتلن عن قائلها إلى مثلها من الغد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن جُھیل نے ارشاد فرمایا : جو شخص عصر کے بعد یہ کلمات پڑھے : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کے لیے تعریف ہے ، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے تو فرشتے ان کلمات کے کہنے والے کا دفاع کرتے ہیں اگلے دن کے اسی وقت تک۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31438
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31438، ترقيم محمد عوامة 30078)
حدیث نمبر: 31439
٣١٤٣٩ - حدثنا محمد بن بشر عن مسعر عن عبد الملك بن ميسرة عن مسلم مولى سويد بن (جهيل) (١) عن سويد قال (و) (٢) كان من أصحاب عمر ثم ذكر نحو حديث وكيع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن جھیل سے جو کہ حضرت عمر کے اصحاب میں سے ہیں بعینہ ماقبل والا ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31439
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31439، ترقيم محمد عوامة 30079)
حدیث نمبر: 31440
٣١٤٤٠ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر عن سعد بن إبراهيم عن أبي عبيدة قال: العبد ما ذكر اللَّه فهو في صلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ نے ارشاد فرمایا : جو بندہ بھی اللہ کا ذکر کرتا ہے وہ نماز کی حالت میں ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31440
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31440، ترقيم محمد عوامة 30080)
حدیث نمبر: 31441
٣١٤٤١ - حدثنا جرير عن منصور عن سالم عن مسروق قال: ما دام قلب الرجل يذكر (١) فهو في صلاة، وإن كان في السوق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق تابعی نے ارشاد فرمایا : جس آدمی کا دل مسلسل اللہ کا ذکر کرتا ہے تو وہ شخص نماز کی حالت میں ہوتا ہے اگرچہ وہ بازار ہی میں ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31441
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31441، ترقيم محمد عوامة 30081)
حدیث نمبر: 31442
٣١٤٤٢ - (حدثنا جرير عن منصور عن هلال عن أبي عبيدة قال: ما دام قلب الرجل يذكر اللَّه فهو في صلاة وإن كان في السوق) (١)، وإن يحرك به شفتيه فهو أفضل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھلال فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ نے ارشاد فرمایا : جس آدمی کا دل مسلسل اللہ کا ذکر کرے تو وہ نماز کی حالت میں ہوتا ہے اگرچہ وہ بازار میں ہی ہو۔ اگر وہ ہونٹوں کو بھی ذکر کرتے ہوئے حرکت دے تو یہ سب سے زیادہ فضیلت کی بات ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31442
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31442، ترقيم محمد عوامة 30082)
حدیث نمبر: 31443
٣١٤٤٣ - حدثنا مرحوم بن عبد العزيز عن أبي نعامة السعدي عن أبي عثمان النهدي عن أبي سعيد الخدري قال: خرج معاوية على حلقة في المسجد فقال: ما أجلسكم (قالوا) (١): جلسنا نذكر اللَّه (ونحمده على ما هدانا للإسلام ومنّ علينا به) (٢)، قال: آللَّه ما أجلسكم إلا ذاك؟ قالوا: واللَّه ما أجلسنا إلا ذاك، فقال: (أما) (٣) إني لم استحلفكم تهمة لكم، وما (من) (٤) أحد بمنزلة من رسول اللَّه ﷺ أقل عنه حديثًا مني، وإن رسول اللَّه ﷺ خرج على حلقة من أصحابه فقال: إما أجلسكم؟ " فقالوا: جلسنا نذكر اللَّه ونحمده على ما هدانا للإسلام ومن علينا به، قال: "آللَّه ما أجلسكم إلا ذاك؟ " (قالوا: واللَّه ما أجلسنا إلا ذاك) (٥)، فقال: "أما ⦗٢٢٨⦘ إني لم استحلفكم تهمة لكم ولكني أتاني جبريل فأخبرني أن اللَّه يباهي (بكم) (٦) الملائكة" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید الخدری ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ مسجد میں لگے ایک حلقہ میں تشریف لائے، پھر فرمانے لگے : کس چیز نے تمہیں یہاں بٹھا رکھا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : ہم اللہ کا ذکر کر رہے ہیں اور اللہ کی تعریف بیان کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کے ذریعہ ہدایت بخشی۔ اور اسلام کے ذریعہ ہم پر احسان فرمایا۔ حضرت معاویہ فرمانے لگے : اللہ کی قسم ! کیا واقعی تم لوگ اس مقصد کے لیے بیٹھے ہو ؟ لوگوں نے کہا ! اللہ کی قسم ! ہم صرف اسی وجہ سے بیٹھے ہیں تو حضرت معاویہ نے ارشاد فرمایا : بہرحال میں نے کسی تہمت کی وجہ سے تمہیں قسم نہیں دی، اور کوئی ایک بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے معاملہ میں مجھ سے کم درجہ کا نہیں۔ اور یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے ایک حلقہ میں تشریف لائے پھر فرمانے لگے : کس چیز نے تمہیں یہاں بٹھا رکھا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : ہم بیٹھ کر اللہ کا ذکر کر رہے ہیں اور ہم اس کی حمد بیان کر رہے ہیں کہ اللہ نے ہمیں اسلام کی ہدایت عطا فرمائی۔ اور اس کے ذریعہ ہم پر احسان فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم ! کیا تم لوگ واقعی اس لیے بیٹھے ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کی قسم ! ہم لوگ صرف اسی وجہ سے بیٹھے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا میں نے کسی تہمت کی وجہ سے تم سے قسم نہیں اٹھوائی۔ لیکن میرے پاس جبرائیل تشریف لائے تھے پس انہوں نے مجھے بتلایا ہے کہ اللہ رب العزت تمہاری وجہ سے ملائکہ کے سامنے فخر فرما رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31443
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٧٠١)، وأحمد (١٦٨٣٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31443، ترقيم محمد عوامة 30083)
حدیث نمبر: 31444
٣١٤٤٤ - حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا محمد بن عمرو عن محمد بن إبراهيم قال: قال عبادة بن الصامت: لأن أكون في قوم يذكرون اللَّه من حين يصلون الغداة إلى حين (تطلع) (١) الشمس أحب إليّ من أن أكون على متون الخيل أجاهد في سبيل اللَّه إلى أن تطلع الشمس، ولأن أكون في قوم يذكرون (اللَّه) (٢) من حين يصلون العصر حتى تغرب الشمس أحب إليّ من أن أكون على متون الخيل أجاهد في سبيل اللَّه حتى تغرب الشمس (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبادہ بن الصامت نے ارشاد فرمایا کہ میں ایسے لوگوں میں بیٹھوں جو صبح کی نماز سے لے کر سورج کے طلوع ہونے تک ذکر کرتے ہیں یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ میں گھوڑے کی پشت پر بیٹھ کر اللہ کے راستہ میں سورج کے طلوع ہونے تک جہاد کروں۔ اور میں ایسے ہی لوگوں میں رہوں جو عصر کی نماز سے لے کر سورج غروب ہونے تک ذکر کرتے ہیں یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ میں گھوڑے کی پشت پر بیٹھ کر سورج غروب ہونے تک اللہ کے راستہ میں جہاد کروں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31444
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31444، ترقيم محمد عوامة 30084)
حدیث نمبر: 31445
٣١٤٤٥ - حدثنا معاذ بن معاذ عن سليمان التيمي عن أبي عثمان عن سلمان قال: لو بات رجل يعطي (القنيات) (١) البيض وبات آخر يقرأ القرآن أو يذكر اللَّه لرأيت أن ذلك -أو قال: إن ذاكر اللَّه- أفضل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان نے ارشاد فرمایا : اگر ایک شخص اس حال میں رات گزارے کہ وہ غلام اور لونڈیوں کو آزاد کرے اور ایک دوسرا شخص اس حال میں رات گزارے کہ وہ قرآن مجید کی تلاوت کرے یا اللہ کا ذکر کرے، تو میری رائے یہ ہے کہ یہ شخص ، یا یوں فرمایا : اللہ کا ذکر کرنے والا افضل ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31445
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31445، ترقيم محمد عوامة 30085)
حدیث نمبر: 31446
٣١٤٤٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن أبي هلال عن أبي (الوازع) (١) جابر (الراسبي) (٢) عن أبي (برزة) (٣) قال: لو أن رجلين (أقبل) (٤) أحدهما من السوق في حجره دنانير يعطيها، والآخر يذكر اللَّه، كان ذاكر اللَّه أفضل (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الوازع جابر الراسبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو برزہ نے ارشاد فرمایا : اگر دو آدمی ہوں ان میں سے ایک کی گود میں دینار ہوں جنہیں وہ لوگوں کو دے رہا ہو، اور دوسرا شخص اللہ کا ذکر کر رہا ہو تو اللہ کا ذکر کرنے والا افضل شمار ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31446
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو هلال صدوق، وأخرجه أبو نعيم في الحلية ٢/ ٣٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31446، ترقيم محمد عوامة 30086)
حدیث نمبر: 31447
٣١٤٤٧ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) حدثنا مسعر قال: حدثني ثعلبة (٢) عن عمرو ابن (شعيب) (٣) عن عبد اللَّه بن عمرو قال: لو أن رجلين أقبل أحدهما من (المشرق) (٤) والآخر من المغرب، مع أحدهما ذهب لا (يضع) (٥) منه شيئًا إلا في حق والآخر يذكر اللَّه حتى يلتقيا في طريق كان الذي يذكر اللَّه أفضلهما (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ اگر دو آدمی ہوں ان میں سے ایک مشرق سے آیا ہو اور دوسرا مغرب سے آیا ہو، ان مں ا سے ایک کے پاس سونا ہو جسے وہ صرف حق کے کاموں میں خرچ کرے اور دوسرا شخص وہ اللہ کا ذکر کرے یہاں تک کہ ان دونوں کی راستہ میں ملاقات ہوجائے تو جو شخص اللہ کا ذکر کرنے والا تھا ان دونوں میں سے افضل شمار ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31447
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31447، ترقيم محمد عوامة 30087)
حدیث نمبر: 31448
٣١٤٤٨ - حدثنا شريك عن محمد بن عبد الرحمن عن أبي جعفر قال: ما من شيء أحب إليّ من الشكر والذكر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت ابو جعفر نے ارشاد فرمایا : کوئی بھی چیز اللہ کے نزدیک شکر ادا کرنے اور ذکر کرنے سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31448
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31448، ترقيم محمد عوامة 30088)
حدیث نمبر: 31449
٣١٤٤٩ - حدثنا يحيى بن آدم حدثنا عمار بن رزيق عن أبي إسحاق عن الأغر أبي مسلم عن أبي هريرة وأبي سعيد يشهدان به على النبي ﷺ أنه قال: "ما جلس قوم مسلمون مجلسًا يذكرون اللَّه فيه إلا حفتهم الملائكة وتغشتهم الرحمة ونزلت عليهم السكينة، وذكرهم اللَّه فيمن عنده" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کسی مسلمان قوم نے مجلس میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر نہیں کیا مگر یہ کہ فرشتوں نے ان کو گھیر لیا اور رحمت نے ان کو ڈھانپ لیا اور ان پر سکینہ نازل ہوتی ہے اور اللہ ان کا ذکر فرشتوں کی مجلس میں فرماتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31449
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ عمار ثقة، أخرجه أحمد (٩٧٧٢)، ومسلم (٢٧٠٠)، وأصله عند البخاري (٦٤٠٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31449، ترقيم محمد عوامة 30089)
حدیث نمبر: 31450
٣١٤٥٠ - حدثنا زيد بن الحباب أخبرني مالك بن أنس قال: أخبرني سمي مولى أبي بكر عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من قال: في يوم مائة مرة لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، كان له كعدل عشر رقاب وكتبت له مائة حسنة ومحي عنه مائة سيئة، و (كن) (١) (له) (٢) (حرزًا) (٣) من الشيطان سائر (يومه) (٤) إلى الليل، ولم يأت أحد بأفضل مما أتى به إلا من قال أكثر" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص دن میں سو مرتبہ یہ کلمات پڑھے : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، تو یہ اس کے لیے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ہے، اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اس کے سو گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے، اور یہ کلمات اس کے لیے سارا دن رات تک شیطان سے حفاظت کا ذریعہ ہیں، اور نہیں لائے گا قیامت کے دن اس سے افضل عمل کوئی بھی شخص مگر جس نے اس سے زیادہ مرتبہ ان کلمات کو پڑھا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31450
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٢٩٣)، ومسلم (٢٦٩١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31450، ترقيم محمد عوامة 30090)
حدیث نمبر: 31451
٣١٤٥١ - حدثنا عفان حدثنا أبان بن يزيد العطار حدثنا قتادة قال: (حدث) (١) أبو العالية الرياحي عن حديث سهيل بن حنظلة العبشمي أنه (٢) قال: "ما اجتمع قوم ⦗٢٣١⦘ (قط) (٣) يذكرون اللَّه إلا نادى مناد من السماء: قوموا مغفورًا لكم، قد بدلت سيئاتكم حسنات" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سھیل بن حنظلہ العبشمی فرماتے ہیں کہ کوئی قوم بھی ہرگز اللہ کا ذکر نہیں کرتی مگر یہ کہ آسمان سے ایک منادی (فرشتہ) یہ آواز لگاتا ہے : تم بخشے بخشائے کھڑے ہو جاؤ تحقیق تمہارے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31451
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد في الزهد ص ٢٠٥، والطبراني في المعجم الكبير (٦٠٣٩)، والبيهقي في الشعب (٦٩٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31451، ترقيم محمد عوامة 30091)
حدیث نمبر: 31452
٣١٤٥٢ - حدثنا عبيدة بن حميد عن (منصور عن) (١) هلال بن يساف قال: كانت امرأة من همدان تسبح وتحصيه بالحصى أو النوى، فمرت على عبد اللَّه، فقيل له: هذه المرأة تسبح وتحصيه (بالحصى) (٢) أو النوى، فدعاها فقال لها: أنت التي تسبحين وتحصين؟ فقالت: نعم إني لأفعل، فقال: ألا أدلك على خير من ذلك تقولين: اللَّه أكبر كبيرًا، (والحمد للَّه كثيرًا) (٣)، وسبحان اللَّه بكرة وأصيلا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھلال بن یساف فرماتے ہیں کہ قبیلہ ہمدان کی ایک عورت تھی جو اللہ کی پاکی بیان کرتی تھی اور اسے کنکریوں یا دانوں پر شمار کرتی تھی، پس وہ حضرت عبد اللہ کے پاس سے گزری ، تو ان کو بتلایا گیا۔ کہ یہ عورت تسبیح پڑھتی ہے اور اس کو کنکریوں یا دانوں پر شمار کرتی ہے۔ تو حضرت عبد اللہ نے اس عورت کو بلایا، اور اس سے پوچھا : کیا تو ہی وہ عورت ہے جو تسبیح پڑھتی ہے اور شمار کرتی ہے ؟ وہ کہنے لگی ! جی ہاں ! میں ہی ایسا کرتی ہوں، تو حضرت عبد اللہ نے فرمایا : کیا مں اس سے بہتر فعل کی طرف تیری راہنمائی نہ کروں ؟ تم اس طرح ذکر کیا کرو : اللہ سب سے بڑا ہے، اور سب تعریفیں کثرت سے اللہ کے لیے ہیں، اور صبح و شام میں اللہ ہر عیب سے پاک ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31452
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وهلال يروي عن عبد اللَّه بن عمرو بن العاص.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31452، ترقيم محمد عوامة 30092)
حدیث نمبر: 31453
٣١٤٥٣ - حدثنا عفان حدثنا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن الأغر (أبي مسلم) (١) عن أبي هريرة عن النبي ﷺ فيما يحدث عن ربه قال: "من ذكرني في نفسه ذكرته في نفسي، ومن ذكرني في ملإٍ من الناس ذكرته في ملإٍ (أطيب منهم وأكثر) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیث قدسی ارشاد فرمائی : کہ اللہ فرماتے ہیں ! جو شخص مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے دل میں یاد کرتا ہوں، اور جو شخص لوگوں کی مجلس میں مجھے یاد کرتا ہے تو میں اسے ایسی مجلس میں یاد کرتا ہوں جو اس سے بڑی ہو اور اس سے پاکیزہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31453
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ سماع حماد بن عطاء قبل الاختلاط على الصحيح، والحديث أخرجه البخاري (٧٤٠٥)، ومسلم (٣٨٢٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31453، ترقيم محمد عوامة 30093)
حدیث نمبر: 31454
٣١٤٥٤ - حدثنا محمد بن فضيل عن عاصم عن أبي عثمان عن (سلمان) (١) قال: إذا كان العبد يحمد اللَّه في السراء ويحمده في الرخاء فأصابه ضر فدعا اللَّه قالت الملائكة: صوت معروف من امرئ ضعيف (فيشفعون) (٢) له، فإذا كان العبد لا يذكر اللَّه في السراء ولا يحمده في الرخاء فأصابه ضر فدعا اللَّه قالت الملائكة: صوت منكر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان نے ارشاد فرمایا : جب کوئی بندہ خوشی کی حالت میں اللہ کا ذکر کرتا ہے اور فراخی کی حالت میں اس کی حمد بیان کرتا ہے، پھر اسے کوئی تکلیف پہنچی تو اس نے اللہ سے دعا مانگی ! تو فرشتے کہتے ہیں، کمزور بندے کی جانی پہچانی آواز ہے ، پھر وہ اللہ کے سامنے اس بندے کی سفارش کرتے ہیں ، اور جب کوئی بندہ خوشی کی حالت میں اللہ کو یاد نہیں کرتا اور فراخی کی حالت میں اس کی حمدبیان نہیں کرتا پھر اس کو کوئی تکلیف پہنچی اور اس نے اللہ سے دعا مانگی تو فرشتے کہتے ہیں۔” بُری آواز ہے۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31454
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد في الزهد ص ٣١٣، وابن فضيل في الدعاء (٨٥)، والبيهقي في الشعب (١١٤٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31454، ترقيم محمد عوامة 30094)
حدیث نمبر: 31455
٣١٤٥٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن (الأصبغ) (١) (بن) (٢) زيد عن ثور عن خالد ابن معدان قال: إن اللَّه يتصدق كل يوم بصدقة، فما تصدق على عبده بشيء أفضل من ذكره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن معدان فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت ہر روز صدقہ فرماتے ہیں، اللہ نے کبھی اپنے کسی بندے پر اس کے ذکر سے زیادہ افضل کسی چیز کا صدقہ نہیں فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31455
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31455، ترقيم محمد عوامة 30095)
حدیث نمبر: 31456
٣١٤٥٦ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن زر عن عبد اللَّه قال: من قال في (يوم) (١): لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، كن له عدل أربع (رقبات) (٢) يعتقهن من ولد إسماعيل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جو شخص دن میں یہ کلمات پڑھے : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، تو یہ کلمات اس کے لیے چار غلاموں کو آزاد کرنے کے برابر ہیں جنہیں اس نے اسماعیل کی اولاد میں سے آزاد کیا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31456
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وتقدم نحوه برقم [٣١٤٣٣].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31456، ترقيم محمد عوامة 30096)
حدیث نمبر: 31457
٣١٤٥٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن منصور عن طلحة عن عبد الرحمن بن عوسجة عن البراء بن عازب قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من قال: لا إله ⦗٢٣٣⦘ إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، عشر مرات كن (له) (١) كعدل نسمة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص دس مرتبہ یہ کلمات پڑھے : اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے تو اس کا ثواب تمام مخلوق کی تعداد کے برابر ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31457
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٨٥١٨)، والشافعي في الكبرى (٩٩٥٣)، وابن حبان (٨٥٠)، والحاكم ١/ ٥٠١، والطيالسي (٧٤٠)، والطبراني في الدعاء (٦٧١٦)، وتمام (١٥٦٠/ الروض)، ويعقوب في المعرفة ٣/ ١٧٨، والعقيلي ٤/ ٨٦، والبيهقي في الشعب (٣٣٨٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31457، ترقيم محمد عوامة 30097)
حدیث نمبر: 31458
٣١٤٥٨ - حدثنا محمد بن عبيد حدثنا إسماعيل عن أبي بكر بن حفص عن أبي (رفاعة) (١) رجل من الأنصار عن أبي الدرداء قال: من قال في اليوم مائة مرة: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، لم يجيء أحد من أهل الدنيا بأفضل مما جاء به إلا إنسان يزيد عليه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رفاعہ جو کہ انصاری ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء نے ارشاد فرمایا : جو شخص دن میں سو مرتبہ یہ کلمات پڑھے ! اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ، تو دنیا والوں میں سے کوئی بھی اس سے افضل عمل والا نہیں ہوگا مگر وہ شخص جس نے اس سے زیادہ مرتبہ ان کلمات کو پڑھا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31458
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31458، ترقيم محمد عوامة 30098)