حدیث نمبر: 31412
٣١٤١٢ - حدثنا أبو أسامة عن (حسين) (١) بن ذكوان عن عبد اللَّه بن بريدة عن بشير بن كعب عن شداد بن (أوس) (٢) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "سيد الاستغفار أن يقول: اللهم أنت ربي وأنا عبدك، لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك، أصبحت على عهدك ووعدك ما استطعت، أعوذ بك من شر ما صنعت، أبوء (٣) بنعمتك علي وأبوء لك بذنوبي، فأغفر لي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شداد بن اوس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سید الاستغفار یہ ہے کہ بندہ یوں کہے ! اے اللہ ! تو میرا رب ہے ، اور میں تیرا بندہ ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو نے ہی مجھے پیدا کیا ہے اور میں تیرا ہی بندہ ہوں میں نے صبح کی تیرے وعدے پر اور تیرے عہد پر اپنی استطاعت کے مطابق میں تیری پناہ مانگتا ہوں ان کاموں کے شر سے جو میں نے کیے ہیں، میں اعتراف کرتا ہوں مجھ پر ہونے والی تیری نعمتوں کا ، اور میں تیرے سامنے اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں، پس تو مجھے معاف فرما دے، بیشک تیرے علاوہ کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا۔ بخاری ٦٣٠٦۔ احمد ١٢٢
حدیث نمبر: 31413
٣١٤١٣ - حدثنا زيد بن الحباب (قال) (١): حدثني كثير بن زيد قال: حدثني ⦗٢١٨⦘ المغيرة بن سعيد (بن) (٢) نوفل عن شداد بن أوس أن رسول اللَّه ﷺ قال له: "ألا أدلك على سيد الاستغفار أن تقول: (اللهم) (٣) أنت الهي لا إله إلا أنت، خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت، أعوذ بك من شر ما صنعت، وأبوء لك بنعمتك علي وأبوء لك بذنوبي فأغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت، ما من عبد يقولها فيأتيه قدره في (يومه) (٤) قبل يمسي أو في مسائه قبل أن يصبح إلا كان من أهل الجنة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شداد بن اوس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہاری سید الاستغفار کے بارے میں راہنمائی نہ فرماؤں ؟ تم یہ کلمات کہہ لیا کرو : اے اللہ ! تو ہی میرا معبود ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے ہی مجھے پیدا کیا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ اور میں تیرے وعدے اور عہد کو اپنی طاقت کے بقدر پورا کرتا ہوں میں تیری پناہ مانگتا ہوں ان اعمال کے شر سے جو میں نے کیے ہیں، اور میں اعتراف کرتا ہوں مجھ پر ہونے والی تیری نعمتوں کا ، اور میں تیرے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں، پس تو میری مغفرت فرما۔ پس بیشک تیرے سوا کوئی بھی گناہوں کی مغفرت نہیں کرسکتا۔ کوئی بندہ ایسا نہیں کہ وہ ان کلمات کو کہے اس دن میں پس اس کا وقت مقرر شام ہونے سے پہلے اس کے پاس آئے، یا شام میں کہے تو صبح ہونے سے پہلے موت آئے، مگر یہ کہ وہ شخص اہل جنت میں سے ہوگا۔
حدیث نمبر: 31414
٣١٤١٤ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن (١) المغيرة عن حذيفة قال: شكوت إلى رسول اللَّه ﷺ ذرب لساني فقال: "أين أنت من الاستغفار؟ إني لأستغفر اللَّه في كل يوم" مائة مرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی زبان کی تیزی و بدگوئی کی شکایت کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پس تیری استغفار کہاں ہے ؟ ( استغفار کیوں نہیں کرتا ) بیشک میں ہر روزسو مرتبہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 31415
٣١٤١٥ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا محمد بن عمرو حدثنا أبو سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إني لأستغفر اللَّه وأتوب إليه في اليوم مائة مرة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں بلاشبہ دن میں سو مرتبہ توبہ و استغفار کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 31416
٣١٤١٦ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير حدثنا مالك بن مغول عن محمد بن سوقة عن نافع عن ابن عمر قال: إن (كانا) (١) لنعد لرسول اللَّه ﷺ في المجلس يقول: "رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الغفور" مائة مرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک مجلس میں کہے ہوئے ان کلمات کو گنتے تو وہ سو مرتبہ ہوتے تھے۔ اے میرے رب ! تو مجھے معاف فرما دے۔ اور میری توبہ کو قبول فرما۔ بلاشبہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور مغفرت کرنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 31417
٣١٤١٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن أبي بردة قال: سمعت (الأغر) (١) وكان من أصحاب النبي ﷺ يحدث ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "توبوا إلى ربكم فإني أتوب (إليه) (٢) في اليوم مائة مرة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے رب سے توبہ کیا کرو۔ بلاشبہ میں دن میں سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 31418
٣١٤١٨ - حدثنا الفضل بن دكين حدثنا مغيرة بن أبي الحر عن سعيد بن [أبي] بردة عن أبيه عن جده قال: جاء رسول اللَّه ﷺ ونحن جلوس فقال: "ما أصبحت غداة إلا استغفرت اللَّه فيها مائة مرة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بردہ کے والد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اس حال میں کہ ہم بیٹھے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے کبھی صبح نہیں کی مگر یہ کہ ا س میں سو مرتبہ استغفار کیا۔
حدیث نمبر: 31419
٣١٤١٩ - حدثنا أبو أسامة عن كهمس عن عبد اللَّه بن شقيق قال: كان أبو الدرداء يقول: طوبى لمن وجد في صحيفته (نبذ) (١) من (استغفار) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء ارشاد فرمایا کرتے تھے : خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس کے نامۂ اعمال میں استغفار کا بھی کچھ حصہ پایا جائے۔
حدیث نمبر: 31420
٣١٤٢٠ - (١) حدثنا عفان حدثنا (بكير) (٢) بن أبي (سميط) (٣) حدثنا منصور بن زاذان عن أبي الصديق الناجي عن أبي سعيد الخدري قال: من قال: استغفر اللَّه (٤) الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه، خمس مرات، غفر له وإن كان عليه مثل زبد البحر (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الصدیق الناجی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سعید الخدری نے ارشاد فرمایا : جو شخص پانچ مرتبہ استغفار کے یہ کلمات پڑھے : میں اس اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے اور قائم رکھنے والا، اور میں اسی سے توبہ کرتا ہوں تو اس کی مغفرت کردی جاتی ہے اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔
حدیث نمبر: 31421
٣١٤٢١ - حدثنا ابن علية عن يونس عن حميد بن هلال عن أبي بردة قال: جلست إلى شيخ من أصحاب رسول اللَّه ﷺ في مسجد الكوفة فحدثني قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ أو قال: (قال) (١) رسول اللَّه ﷺ: في "يا أيها الناس تويوا إلى اللَّه واستغفروه فإني أتوب إلى اللَّه و (استغفره) (٢) في كل يوم مائة مرة"، قلت: اللهم إني استغفرك (اثنتين) (٣)، قال: " (وهو) (٤) أقول لك" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ میں کوفہ کی مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک بزرگ کے پاس بیٹھا تھا وہ فرمانے لگے کہ میں نے سنا یا فرمایا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے لوگو ! اللہ سے توبہ و استغفار کرو۔ پس بلاشبہ میں دن میں سو مرتبہ اللہ سے توبہ و استغفار کرتا ہوں۔ ابو بردہ فرماتے ہیں : میں نے دو مرتبہ پڑھا، اے اللہ میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں۔ وہ صحابی فرمانے لگے : میں اسی بات کی تو تلقین کر رہا ہوں۔
حدیث نمبر: 31422
٣١٤٢٢ - (١) حدثنا معاوية بن هشام حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن (رجل عن) (٢) معاذ بن جبل قال: من قال: استغفر اللَّه الذي لا إله إلا (٣) (هو) (٤) الحي القيوم وأتوب إليه ثلاثًا (غفر له) (٥) وإن كان فر من الزحف (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ بن جبل ارشاد فرماتے ہیں : کہ جو شخص تین مرتبہ یوں استغفار کے کلمات پڑھے ! میں اس اللہ سے معافی مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے سب کو قائم رکھنے والا ہے۔ اور میں اسی سے گناہوں کی توبہ کرتا ہوں۔ تو اس شخص کی مغفرت کردی جاتی ہے اگرچہ وہ شخص میدان جنگ سے ہی بھاگا ہو۔
حدیث نمبر: 31423
٣١٤٢٣ - حدثنا ابن نمير عن (إسرائيل) (١) عن أبي سنان عن أبي الأحوص عن عبد اللَّه بن مسعود قال: من قال: استغفر اللَّه الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه ثلاثًا، غفر له وإن كان فر من الزحف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جو شخص تین مرتبہ یوں استغفار کے کلمات پڑھے : میں اس اللہ سے معافی مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا، سب کو قائم رکھنے والا ہے، اور میں اسی کے سامنے اپنے گناہوں کی توبہ کرتا ہوں۔ تو اس شخص کے گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے ، اگرچہ وہ میدان جنگ سے فرار ہی ہوا ہو۔
حدیث نمبر: 31424
٣١٤٢٤ - حدثنا أبو داود الحفري (عمر) (١) (بن) (٢) (سعد) (٣) عن يونس بن الحارث عن عمرو بن شعيب عن عبد اللَّه بن عمرو قال: من قال: سبحان اللَّه العظيم وبحمده غرس له بها نخلة في الجنة (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ارشادفرمایا : جو شخص یہ کلمات پڑھے، اللہ تمام عیبوں سے پاک ہے عظمت والا ہے اور اپنی تعریف کے ساتھ ہے۔ تو اس کلمہ کی وجہ سے اس شخص کے لیے جنت میں ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔