کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اللہ کی پاکی بیان کرنے کے ثواب میں
حدیث نمبر: 31384
٣١٣٨٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لأن أقول: سبحان اللَّه، والحمد للَّه، ولا إله إلا اللَّه، واللَّه أكبر، أحب إليّ مما طلعت عليه الشمس" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان کلمات کا کہنا : اللہ پاک ہے، اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مجھے زیادہ پسند ہے اس چیز سے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے یعنی دنیا سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31384
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٦٩٥)، والترمذي (٣٥٩٧)، وابن حبان (٨٣٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31384، ترقيم محمد عوامة 30025)
حدیث نمبر: 31385
٣١٣٨٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن عمارة بن القعقاع عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه على: "كلمتان خفيفتان على اللسان، ثقيلتان في الميزان حبيبتان إلى الرحمن: سبحان اللَّه وبحمده، سبحان اللَّه العظيم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دو کلمات ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں اور ترازو میں بھاری ہیں اور رحمن کے پسندیدہ ہیں : پاک ہے اللہ اور اپنی حمد کے ساتھ ہے۔ پاک ہے اللہ عظمت والا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31385
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٤٠٦)، ومسلم (٢٦٩٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31385، ترقيم محمد عوامة 30026)
حدیث نمبر: 31386
٣١٣٨٦ - (١) حدثنا محمد بن بشر قال: سمعت هانئ بن عثمان يحدث عن أمه (حميضة) (٢) بنت ياسر عن جدتها يسيرة (و) (٣) كانت إحدى المهاجرات قالت: قال (لنا) (٤) رسول اللَّه ﷺ: "عليكن بالتسبيح والتكبير والتقديس واعقدن بالأنامل فإنهن يأتين يوم القيامة مسؤلات (مستنطقات) (٥) ولا تغفلن فتنسين من الرحمة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یُسَیرَہ جو مہاجرہ صحابیہ ہیں فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم عورتوں پر لازم ہے اللہ کی پاکی بیان کرنا ۔ اور بڑائی بیان کرنا اور اللہ کی تعظیم و تکریم کرنا۔ اور ان کو اپنی انگلیوں پر شمار کرو کیونکہ ان انگلیوں سے پوچھا جائے گا اور ان کو گویائی دی جائے گی (قیامت کے دن) اور تم غفلت میں مبتلا مت ہونا۔ پس تم رحمت کی نظر سے بھلا دی جاؤ گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31386
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31386، ترقيم محمد عوامة 30027)
حدیث نمبر: 31387
٣١٣٨٧ - حدثنا ابن نمير عن موسى بن (مسلم) (١) عن عون بن عبد اللَّه عن أبيه أو عن أخيه عن النعمان بن بشير قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الذين يذكرون من جلال اللَّه (وتسبيحه) (٢) وتحميده وتكبيره وتهليله يتعاطفن حول العرش، لهن دويٌّ كدوي النحل (يذكرون) (٣) (بصاحبهن) (٤)، أو لا يحب أحدكم أن لا يزال عند الرحمن شيء (يذكر به) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ کہ وہ لوگ جو اللہ کی عظمت کا ذکر کرتے ہیں، اس کی پاکی بیان کرکے۔ اور اس کی تعریف بیان کر کے، اور اس کی بڑائی بیان کر کے اور کلمہ توحید پڑھ کر۔ تو عرش کے نزدیک فرشتے ان سے محبت کرتے ہیں۔ ان کی آواز شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی طرح ہوتی ہے۔ وہ ذکر کرتے ہیں ان کلمات کے پڑھنے والوں کا کیا تم میں سے کوئی ایک بھی اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ ہمیشہ مستقل رحمن کے نزدیک اس وجہ سے اس کا ذکر کیا جائے ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31387
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وعون وأبوه وأخوه كلهم ثقات رجال الشيخين، أخرجه أحمد (١٨٣٦٢)، وابن ماجه (٣٨٠٩)، والحاكم ١/ ٥٠٠، والطبراني في الدعاء (١٦٩٣)، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ٢٦٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31387، ترقيم محمد عوامة 30028)
حدیث نمبر: 31388
٣١٣٨٨ - حدثنا الحسن بن موسى عن حماد بن سلمة عن حجاج الصواف عن أبي الزبير عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من قال: سبحان اللَّه العظيم غرس له نخلة -أو شجرة- في الجنة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ کلمات کہے : اللہ پاک ہے عظمت والا ہے، تو جنت میں اس کے لیے کھجور کا درخت یا ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31388
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31388، ترقيم محمد عوامة 30029)
حدیث نمبر: 31389
٣١٣٨٩ - حدثنا زيد بن الحباب (أخبرنا) (١) مالك بن أنس عن سمي عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من قال في يوم مائة ⦗٢١١⦘ مرة: سبحان اللَّه وبحمده، حطت خطاياه ولو كانت مثل زبد البحر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص دن میں سو (١٠٠) مرتبہ یہ کلمہ کہے : پاک ہے اللہ اور اپنی تعریف کے ساتھ۔ تو اس کے گناہوں کو معاف کردیا جائے گا اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31389
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٤٠٥)، ومسلم (٢٦٩١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31389، ترقيم محمد عوامة 30030)
حدیث نمبر: 31390
٣١٣٩٠ - حدثنا يحيى بن أبي بكير عن شعبة عن الجريري عن أبي عبد اللَّه (الجسري) (١) عن عبد اللَّه بن الصامت عن أبي ذر قال: قال لي رسول اللَّه ﷺ: "ألا أخبرك بأحب الكلام إلى اللَّه؟ " قلت: يا رسول اللَّه أخبرني بأحب الكلام إلى اللَّه، قال: " (٢) (أحب الكلام إلى اللَّه) (٣) سبحان اللَّه وبحمده" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ارشار فرمایا : کیا میں تمہیں خبر نہ دوں اس کلام کی جو اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ہے ؟ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے ضرور بتلا دیں وہ کلام جو اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ کلام یہ ہے : پاک ہے اللہ اور اپنی تعریف کے ساتھ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31390
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٧٣١)، وأحمد (٢١٤٢٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31390، ترقيم محمد عوامة 30031)
حدیث نمبر: 31391
٣١٣٩١ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر عن إبراهيم السكسكي عن عبد اللَّه بن أبي أوفى قال: أتى رجل النبي ﷺ فذكر أنه لا يستطيع أن يأخذ من القرآن، وسأله شيئًا (يجزئ) (١) (من القرآن) (٢) فقال له: "قل: سبحان اللَّه، والحمد اللَّه، ولا إله إلا اللَّه، واللَّه أكبر، ولا حول ولا قوة إلا باللَّه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ پس اس نے ذکر کیا کہ وہ قرآن کو سیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اور اس نے سوال کیا ایسی چیز کے بارے میں جو قرآن کے برابر ہو ثواب میں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ارشاد فرمایا : تو یہ کلمات کہہ لیا کر : اللہ پاک ہے ، اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور اللہ سب سے بڑا ہے ، گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ ہی کی مدد سے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31391
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ إبراهيم السكسكي صدوق، أخرجه أحمد (١٩١٣٨)، وأبو داود (٨٣٢)، والنسائي ٢/ ١٤٣، وابن حبان (١٨٥٩)، وابن حزيمة (٥٤٤)، والحاكم ١/ ٢٤٨، وعبد الرزاق (٢٧٤٧)، وعبد بن حميد (٥٢٤)، وابن الجارود (١٨٩)، والبغوي (٦١٠)، والدارقطني ١/ ٣١٤، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ٢٢٧، والبيهقي ٢/ ٣٨١، والطبراني في الدعاء (١٧١٢)، وابن قانع ٣/ ٨٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31391، ترقيم محمد عوامة 30032)
حدیث نمبر: 31392
٣١٣٩٢ - حدثنا الحسن بن موسى (حدثنا) (١) مهدي بن ميمون عن واصل عن يحيى بن عقيل عن يحيى بن يعمر عن أبي الأسود (الدؤلي) (٢) عن أبي ذر عن النبي ﷺ قال: " (كل) (٣) تسبيحة صدقة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر تسبیح ایک صدقہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31392
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٧٢٠) و (١٠٠٦)، وأحمد (٢١٥١١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31392، ترقيم محمد عوامة 30033)
حدیث نمبر: 31393
٣١٣٩٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن هلال بن يساف عن أبي عبيدة عن عبد اللَّه قال: لأن أقول سبحان اللَّه، والحمد للَّه، ولا إله إلا اللَّه، واللَّه أكبر، (أحب) (١) إليّ من أن أتصدق بعددها دنانير (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے ارشاد فرمایا : میرے لیے ان کلمات کا کہنا : اللہ پاک ہے ، اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور اللہ سب سے بڑا ہے، زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں اس کی تعداد کے بقدر دینار صدقہ کروں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31393
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31393، ترقيم محمد عوامة 30034)
حدیث نمبر: 31394
٣١٣٩٤ - حدثنا وكيع عن مسعر عن (عبد الملك) (١) بن (ميسرة) (٢) عن هلال بن يساف قال: قال عبد اللَّه: لأن أسبح تسبيحات (أحب) (٣) إلى من أن أنفق عددهن دنانير في سبيل اللَّه ﷿ (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھلال بن یساف فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے ارشادفرمایا : مجھے تسبیحات بیان کرنا اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ اس کی تعداد کے بقدر دنانیر کو اللہ کے راستے میں خرچ کروں ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31394
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31394، ترقيم محمد عوامة 30035)
حدیث نمبر: 31395
٣١٣٩٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن طلق بن حبيب عن عبد اللَّه بن عمرو قال: لأن أقولها -يعني سبحان اللَّه والحمد للَّه ولا إله إلا اللَّه واللَّه أكبر- ⦗٢١٣⦘ أحب إليّ من أن أحمل على عدتها من (خيل) (١) بأرسانها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلق بن حبیب فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں : مجھے ان کلمات کا کہنا یعنی اللہ پاک ہے اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور اللہ سب سے بڑا ہے، زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں ان کے برابر گھوڑوں پر سوار ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31395
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ الراجح في طلق أنه ثقة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31395، ترقيم محمد عوامة 30036)
حدیث نمبر: 31396
٣١٣٩٦ - حدثنا محمد بن بشر وأبو أسامة عن مسعر عن عمرو بن مرة عن مصعب بن سعد قال: إذا قال العبد: سبحان اللَّه، قالت الملائكة: (وبحمده) (١)، فإذا قال: سبحان اللَّه وبحمده، صلوا عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد ارشاد فرماتے ہیں کہ جب کوئی بندہ کہتا ہے : اللہ پاک ہے، تو فرشتے کہتے ہیں، اور اسی کی تعریف ہے۔ اور جب بندہ کہتا ہے : اللہ پاک ہے اور اپنی تعریف کے ساتھ ہے، تو فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، اور ابو اسامہ نے مؤنث کا صغہہ ذکر کیا ہے کہ ملائکہ اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31396
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31396، ترقيم محمد عوامة 30037)
حدیث نمبر: 31397
٣١٣٩٧ - وقال أبو أسامة: (صلت) (١) عليه.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31397
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31397، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 31398
٣١٣٩٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن موسى بن (عبيدة) (١) عن زيد بن أسلم عن جابر بن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ألا أعلمكم ما (علم) (٢) نوح ابنه؟ " قالوا: بلى، قال: "آمرك (أن) (٣) تقول: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، فإن السماوات لو كانت في كفة لرجحت بها، ولو كانت حلقة قصمتها، وآمرك (بسبحان) (٤) اللَّه وتحمده، فإنه صلاة الخلق وتسبيح الخلق (وبها) (٥) يرزق الخلق" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو وہ کلمات نہ سکھاؤں جو حضرت نوح نے اپنے بیٹے کو سکھائے تھے ؟ تو صحابہ نے فرمایا کیوں نہیں ؟ ضرور ، حضرت نوح نے فرمایا تھا، میں تجھے حکم دیتا ہوں ان کلمات کے پڑھنے کا : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پس بلاشبہ اگر تمام آسمانوں کو ایک ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے تو کلمہ والا پلڑا جھک جائے۔ اور اگر کسی دائرہ میں ہو تو یہ کلمات ان کو توڑ دیں اور میں تجھے حکم دیتا ہوں اللہ کی پاکی اور اس کی تعریف بیان کرنے کا ۔ پس بیشک یہ مخلوق کی دعا ہے اور مخلوق کی تسبیح ہے۔ اور اسی کے ذریعے مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31398
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ موسى بن عبيدة ضعيف، أخرجه عبد بن حميد (١١٥١)، وابن حبان في المجروحين ٢/ ٢٣٥، وابن جرير في التفسير ١٥/ ٩٢، وابن عساكر ٦٢/ ٢٨٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31398، ترقيم محمد عوامة 30038)
حدیث نمبر: 31399
٣١٣٩٩ - حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو عن عبيد بن عمير قالت: تسبيحة بحمد اللَّه في صحيفة المؤمن خير من أن تسيل أو تسير معه جبال الدنيا ذهبًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ مومن کے نامہ اعمال میں اللہ کی تعریف کی ایک تسبیح کا ہوجانا بہتر ہے اس بات سے کہ اس کے ساتھ دنیا کے پہاڑ سونا بن کر بہہ پڑیں یا چل پڑیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31399
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31399، ترقيم محمد عوامة 30039)
حدیث نمبر: 31400
٣١٤٠٠ - حدثنا وكيع عن مسعر عن الوليد بن (العيزار) (١) عن أبي الأحوص قال: قال سمعته يقول: تسبيحة في طلب حاجة خير من (لقوح) (٢) صفي في عام أزبة أو لزبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید بن العیزار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو الاحوص کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی ضرورت کو پورا کرنے میں تسبیح کرنا قحط سالی کے زمانہ میں دودھ سے بھرئے ہوئے تھنوں والی اونٹنی سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31400
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31400، ترقيم محمد عوامة 30040)
حدیث نمبر: 31401
٣١٤٠١ - حدثنا وكيع عن مسعر عن (عِفَاق) (١) عن عمرو بن ميمون قال: أيعجز أحدكم أن يسبح مائة تسبيحة (فتكون) (٢) له ألف تسبيحة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون ارشاد فرماتے ہیں کہ کیا تم میں سے کوئی سو مرتبہ تسبیح پڑھنے سے عاجز ہے اور وہ ثواب میں اس کے لیے ہزار تسبیح کے برابر ہوجائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31401
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31401، ترقيم محمد عوامة 30041)
حدیث نمبر: 31402
٣١٤٠٢ - حدثنا محمد بن فضيل عن عاصم عن ثابت البناني قال: حدثني رجل من أصحاب محمد ﷺ عند هذه السارية قال: "من قال: سبحان اللَّه وبحمده استغفر اللَّه وأتوب إليه، كتبت له في رق ثم طبع عليها خاتمًا من مسك، فلم يكسر حتى يوافق بها يوم القيامة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت بنانی فرماتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے ایک آدمی نے مجھے بیان کیا ہے کہ : جو شخص یہ کلمات کہے : اللہ پاک ہے اور اپنی تعریف کے ساتھ ہے ، میں اللہ سے معافی چاہتا ہوں اور اسی سے اپنے گناہوں کی توبہ کرتا ہوں تو ایک سفید تختہ پر اس کے لیے ان کا ثواب لکھا جاتا ہے، پھر اس پر مشک کی ایک مہر لگا دی جاتی ہے۔ پھر نہیں توڑا جاتا اس مہر کو یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن ان کلمات کا پورا پورا ثواب حاصل کرلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31402
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن فضيل في الدعاء (١٤١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31402، ترقيم محمد عوامة 30042)
حدیث نمبر: 31403
٣١٤٠٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرني هشام بن عبد اللَّه عن يحيى بن أبي كثير عن أبي الدرداء قال: لأن أسبح مائة تسبيحة (أحب إليّ) (١) من أن أتصدق بمائة دينار على المساكين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ سو مرتبہ میں اللہ کی پاکی بیان کروں یہ مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں سو دینار مساکین پر خرچ کروں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31403
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31403، ترقيم محمد عوامة 30043)
حدیث نمبر: 31404
٣١٤٠٤ - حدثنا الفضل (بن دكين) (١) أخبرنا سفيان عن شبيب بن غرقدة عن محمد بن عمرو بن عطاء قال: قال النبي ﷺ لسودة: "سبحي اللَّه كل غداة عشرًا (٢) وكبري عشرًا واحمدي عشرًا، (و) (٣) قولي: اغفر لي عشرًا فإنه يقول: قد فعلت قد فعلت" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عمرو بن عطاء فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سودہ سے ارشاد فرمایا : تم ہر صبح کو دس مرتبہ اللہ کی پاکی بیان کیا کرو۔ اور دس مرتبہ اس کی بڑائی بیان کرو۔ اور دس مرتبہ اس کی تعریف بیان کرو۔ اور دس مرتبہ یہ کلمات کہو ! مجھے معاف فرما دے۔ تو اللہ فرماتے ہیں : تحقیق میں نے ایسا کیا، میں نے ایسا کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31404
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ محمد بن عمرو بن عطاء تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31404، ترقيم محمد عوامة 30044)
حدیث نمبر: 31405
٣١٤٠٥ - حدثنا مروان بن معاوية عن موسى الجهني عن مصعب بن سعد عن أبيه قال: كنا مع رسول اللَّه ﷺ فقال لنا: "أيعجز أحدكم أن يكسب في اليوم ألف حسنة"، فسأله سائل: كيف يكسب أحدنا ألف حسنة؟ قال: "يسبح اللَّه مائة تسبيحة فيكتب له ألف حسنة ويحط عنه ألف خطيئة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم میں سے کوئی شخص عاجز ہے اس بات سے کہ وہ روز ایک ہزار نیکیاں کمائے ؟ تو ایک پوچھنے والے نے پوچھا : ہم میں سے کوئی ایک کیسے ہزار نیکیاں کما سکتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ سو مرتبہ اللہ کی پاکی بیان کرے تو اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں یا اس کے ہزار گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31405
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٦٩٨)، وأحمد (١٤٩٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31405، ترقيم محمد عوامة 30045)
حدیث نمبر: 31406
٣١٤٠٦ - حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا الجريري عن عبد اللَّه بن (شقيق) (١) عن كعب قال: إن من خير (القيل) (٢) سبحة (الحديث) (٣)، قال: قلت: يا أبا عبد الرحمن وما سبحة الحديث؟ قال: يسبح الرجل والقوم يحدثون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا : بلا شبہ بہترین بات سبحۃ الحدیث ہے : حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں میں نے پوچھا : سبحۃ الحدیث کیا ہے ؟ اے ابو عبد الرحمن ! انہوں نے فرمایا کہ : آدمی تسبیح کر رہا ہو اور لوگ باتیں کر رہے ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31406
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31406، ترقيم محمد عوامة 30046)
حدیث نمبر: 31407
٣١٤٠٧ - حدثنا أسود بن عامر حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن سعيد بن المسيب قال: كنا عند سعد بن مالك فسكت سكتة فقال: لقد أصبت ⦗٢١٦⦘ (بسكتتي) (١) هذه مثل ما سقى النيل والفرات، قال: قلنا: وما أصبت؟ قال: سبحان اللَّه والحمد للَّه ولا إله إلا اللَّه واللَّه أكبر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ ہم حضرت سعد بن مالک کے پاس تھے پس ان پر سکتہ طاری ہوگیا۔ پھر وہ فرمانے لگے : البتہ تحقیق مجھے جو یہ سکتہ لاحق ہوا جسے دریائے نیل و فرات نے سراب کردیا ہو۔ حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں۔ ہم نے پوچھا : آپ کو کا چیز لاحق ہوئی تھی۔ انہوں نے فرمایا اللہ پاک ہے، اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور اللہ سب سے بڑا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31407
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه أحمد في الزهد ص ١٨٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31407، ترقيم محمد عوامة 30047)
حدیث نمبر: 31408
٣١٤٠٨ - حدثنا يعلي بن عبيد عن مسعر عن عطية عن أبي سعيد قال: إذا قال: العبد الحمد للَّه كثيرا قال الملك: كيف أكتب؟ قال: (يقول) (١): أكتب له رحمتي كثيرًا، وإذا قال العبد: اللَّه أكبر كبيرا، قال الملك: كيف أكتب؟ قال: (يقول) (٢): أكتب (له) (٣) رحمتي كثيرًا، وإذا قال: سبحان اللَّه كثيرًا، قال الملك: كيف أكتب؟ قال: (فيقول) (٤): أكتب رحمتي كثيرًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید نے ارشاد فرمایا : جب بندہ کہتا ہے۔ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، تو فرشتہ عرض کرتا ہے، میں کیا لکھوں ؟ راوی کہتے ہیں : اللہ فرماتے ہیں ۔ تم اس کے لیے میری ڈھیر ساری رحمت لکھ دو ۔ جب بندہ کہتا ہے اللہ اکبر کبیرا تو فرشتہ کہتا ہے کہ میں کاس لکھوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کے لیے میری بہت ساری رحمت لکھ دو اور جب بندہ کہتا ہے کہ : اللہ تمام عیوب سے پاک ہے ، تو فرشتہ کہتا ہے میں کیا لکھوں ؟ پس ارشاد ہوتا ہے، تم اس کے لیے میری ڈھیر ساری رحمت لکھ دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31408
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عطية.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31408، ترقيم محمد عوامة 30048)
حدیث نمبر: 31409
٣١٤٠٩ - حدثنا وكيع عن شريك عن يعلي بن عطاء عن أبي (يحنس) (١) عن أبي الدرداء قال: بخ بخ لخمس: سبحان اللَّه والحمد للَّه ولا إله إلا اللَّه واللَّه أكبر وولد صالح يموت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء ارشاد فرماتے ہیں کہ شاباش ہے پانچ لوگوں کے لیے ! اللہ کی پاکی بیان کرنے والے کے لیے، اور اللہ کی تعریف بیان کرنے والے کے لیے، اور کلمہ اخلاص کہنے والے کے لیے ( اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) اور اللہ کی بڑائی کرنے والے کے لیے۔ اور اس نیک لڑکے کے لیے جو جوانی میں مرجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31409
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31409، ترقيم محمد عوامة 30049)
حدیث نمبر: 31410
٣١٤١٠ - حدثنا عبيدة بن حميد عن أبي الزعراء (الجشمي) (١) عن أبي الأحوص قال: كان عبد اللَّه بن مسعود يقول: سبحان اللَّه عدد الحصى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الأحوص فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یوں پاکی بیان کیا کرتے تھے۔ اللہ ہر عیب سے پاک ہے کنکریوں کی تعداد کے بقدر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31410
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31410، ترقيم محمد عوامة 30050)
حدیث نمبر: 31411
٣١٤١١ - حدثنا أبو داود عمر بن سعد عن يونس بن الحارث عن عمرو بن شعيب عن عبد اللَّه بن عمرو قال: من قال: سبحان اللَّه العظيم وبحمده غرس له بها نخلة في الجنة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ کلمات کہے : اللہ پاک ہے عظمت والا ہے اور اپنی تعریف کے ساتھ ہے۔ تو جنت میں اس کلمہ کی وجہ سے اس کے لیے ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31411
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع، يونس بن الحارث ضعيف، وعمرو بن شعيب لا يروي عن جده ابن عمرو.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31411، ترقيم محمد عوامة 30051)