کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس دعا کا بیان جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مانگا کرتے تھے
حدیث نمبر: 31362
٣١٣٦٢ - حدثنا وكيع حدثنا سفيان قال: حدثني عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن الحارث المكتب عن (طليق) (١) بن قيس الحنفي عن ابن عباس أن النبي ﷺ كان يقول في دعائه: "رب (أعني) (٢) ولا تعن علي، وانصرني ولا تنصر علي، وامكر لي ولا تمكر علي، واهدني ويسر الهدى لي وانصرني على من بغى علي، رب اجعلني (لك) (٣) شكارا، لك ذكارا، لك رهابا، لك مطيعا، إليك مخبتا، إليك اواها منيبًا، رب تقبل توبتي، واغسل حوبتي، وأجب دعوتي، واهد قلبي، وثبت حجتي، (وسدد) (٤) لساني، (واسلل) (٥) (سخيمة) (٦) قلبي" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دعا میں یہ کلمات پڑھا کرتے تھے : اے میرے رب ! میری مدد فرما ، اور میرے خلاف مدد مت فرما، اور میری نصرت فرما اور میرے خلاف نصرت مت فرما۔ اور میرے حق میں تدبیر فرما اور میرے خلاف تدبیر مت فرما۔ اور مجھے ہدایت عطا فرما۔ اور ہدایت کو میرے لیے آسان فرما۔ اور میری نصرت فرما اس شخص کے خلاف جو مجھ پر سرکشی کرے۔ اے میرے رب ! تو مجھے بنا دے اپنی ذات کا بہت شکر ادا کرنے والا، اور بہت ذکر کرنے والا تیری ذات کا، اور تجھ سے بہت ڈرنے والا، اور اپنا فرمانبردار اپنی طرف عاجزی و انکساری کرنے والا، اپنی طرف دعا کرنے والا اور رجوع کرنے والا، اے میرے رب ! میری توبہ کو قبول فرما۔ اور میرے گناہوں کو دھو دے، اور میری دعاکو قبول فرما۔ اور میرے دل کو ہدایت عطا فرما، اور میری دلیل کو مضبوط فرما دے۔ اور میری زبان کو سیدھا کر دے۔ اور میرے دل کے کینہ و بغض کو ختم فرما دے۔
حدیث نمبر: 31363
٣١٣٦٣ - حدثنا (معتمر) (١) بن سليمان عن عباد بن عباد عن أبي مجلز عن أبي موسى قال: أتيت النبي ﷺ بوضوء فتوضأ وصلى ثم قال: "اللهم اغفر لي ذنبي ⦗٢٠٠⦘ ووسع لي في (داري) (٢) وبارك لي في رزقي" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ میں وضو کا پانی لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو فرمایا اور نماز ادا فرمائی۔ پھر فرمایا : اے اللہ ! میرے گناہوں کی بخشش فرما۔ اور میرے گھر میں وسعت عطا فرما، اور میرے لیے میرے رزق میں برکت عطا فرما۔
حدیث نمبر: 31364
٣١٣٦٤ - (١) حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي عن شريك عن أبي إسحاق عن أبي بردة عن أبي موسى قال: كان النبي ﷺ يدعو بهؤلاء الدعوات: "اللهم اغفر لي خطيئتي وجهلي وإسرافي في أمري وما أنت أعلم به مني، اللهم اغفر لي جدي وهزلي وخطأي و (عمدي) (٢) وكل ذلك عندي" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ نے ارشاد فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا مانگا کرتے تھے : اے اللہ ! میری غلطی کو معاف فرما۔ اور میری لا علمی بھی، اور میرے معاملہ میں بےاعتدالی کو بھی، جس کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، اے اللہ میری سنجیدگی اور میرے مذاق کو معاف فرما۔ اور میری جان بوجھ کر ہونے والی غلطیوں کو اور بھول کر ہونے والی غلطیوں کو بھی معاف فرما۔ اور یہ سب چیزیں میری طرف سے ہیں۔
حدیث نمبر: 31365
٣١٣٦٥ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن موسى بن عبيدة عن محمد بن ثابت عن أبي هريرة قال: كان النبي ﷺ يقول: "اللهم انفعني بما علمتني وعلمني ما ينفعني وزدني علمًا والحمد للَّه على كل (حال) (١) وأعوذ (٢) من عذاب النار" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں دعا مانگا کرتے تھے : اے اللہ ! جو کچھ تو نے مجھے سکھایا ہے اس سے مجھے نفع عطا فرما۔ اور مجھے وہ چیز سکھا دے جو مجھے فائدہ پہنچائے۔ اور میرے علم میں اضافہ فرما۔ اور تمام تعریف اللہ کے لیے ہے ہر حال میں۔ اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے۔
حدیث نمبر: 31366
٣١٣٦٦ - حدثنا الحسن بن موسى ثنا حماد بن سلمة عن سعيد الجريري عن أبي العلاء عن عثمان بن أبي العاص وامرأة من قيس أنهما سمعا النبي ﷺ قال ⦗٢٠١⦘ أحدهما: سمعته يقول: "اللهم اغفر لي ذنبي وخطاياي وعمدي"، وقال الآخر: سمعته يقول: "اللهم (إني) (١) استهديك لأرشد أمري، وأعوذ بك من شر نفسي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن أبی العاص اور قبیلہ قیس کی عورت سے مروی ہے ، ان دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سُنا ہے، ان میں سے ایک نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا : اے اللہ ! میرے گناہوں کی مغفرت فرما اور میرے بھول کر اور جان بوجھ کر کیے جانے والے گناہوں کی بھی مغفرت فرما۔ اور دوسرے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ اے اللہ ! میں تجھ ہی سے اپنے درست معاملہ کے لیے ہدایت طلب کرتا ہوں۔ اور میں تیری ہی پناہ مانگتا ہوں اپنے نفس کے شر سے۔
حدیث نمبر: 31367
٣١٣٦٧ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر حدثنا محمد بن عبد الرحمن عن أبي (رشدين) (١) عن ابن عباس عن جويرية قالت: مر بها رسول اللَّه ﷺ صلاة الغداة أو بعد ما صلى الغداة وهي تذكر اللَّه فرجع حين ارتفع النهار -أو قال: انتصف النهار- وهي كذلك فقال: "لقد قلت منذ قمت (عليك) (٢) أربع كلمات ثلاث مرات هي أكثر (و) (٣) أرجح -أو أوزن- مما قلت، سبحان اللَّه عدد خلقه (٤)، سبحان اللَّه زنة عرشه، سبحان اللَّه مداد كلماته" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت ام المؤمنین حضرت جویریہ نے ارشاد فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے صبح کی نماز کے وقت یا صبح کی نماز پڑھنے کے بعد اس حال میں کہ میں اللہ کا ذکر کر رہی تھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹے جب دن نکل آیا ، یا یوں فرمایا : جب نصف دن گزر گیا اور آپ اسی حالت میں تھیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب میں تمہارے پاس سے اٹھا تو میں نے چار کلمات تین مرتبہ پڑھے جو ثواب میں بہت زیادہ اور راجح ہیں یا یوں فرمایا؛ وہ وزن میں بہت بھاری ہیں اس سے جو کلمات تم نے پڑھے ۔ اور وہ یہ ہیں : اللہ کی پاکی ہے اس کی مخلوق کی تعداد کے بقدر، اللہ کی پاکی ہے اس کی خوشنودی کے لیے، اللہ ہی کی پاکی ہے اس کے عرش کے وزن کے بقدر، اللہ کی پاکی ہے اس کے کلمات کی روشنائی کے بقدر۔
حدیث نمبر: 31368
٣١٣٦٨ - حدثنا عبيدة بن حميد عن حميد عن الحسن البصري قال: كان يقول: كان النبي ﷺ (يدعو) (١): "اللهم اغفر لي اللهم ارحمني اللهم اهدني اللهم سددني اللهم عافني اللهم ارزقني" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری سے مروی ہے وہ فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! میری مغفرت فرما ! اے اللہ ! مجھ پر رحم فرما۔ اے اللہ ! مجھے ہدایت عطا فرما۔ اے اللہ ! تو مجھے سیدھا راستہ دکھا دے۔ اے اللہ ! تو مجھے عافیت بخش دے۔ اے اللہ ! تو مجھے رزق عطا فرما۔
حدیث نمبر: 31369
٣١٣٦٩ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر (عن) (١) حبيب بن أبي ثابت عن رجل عن سعيد بن جبير أن النبي ﷺ قال: "اللهم ارزقنا من فضلك ولا تحرمنا رزقك، وبارك لنا فيما رزقتنا، واجعل رغبتنا فيما عندك، واجعل غنانا في أنفسنا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! اپنے فضل سے ہمیں رزق عطا فرما۔ اور ہمیں اپنے رزق سے محروم مت فرما۔ اور جو رزق تو نے ہمیں عطا فرمایا ہے اس میں ہمیں برکت عطا فرما۔ اور ہمیں شوق عطا فرما اس چیز میں جو تیرے پاس ہے ۔ اور ہمارے نفوس میں بےنیازی کو رکھ دے۔
حدیث نمبر: 31370
٣١٣٧٠ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر عن أبي مصعب عن علي بن حسين وغيره (قالا) (١): كان رسول اللَّه ﷺ يقول: "اللهم أقلني عثرتي، واستر عورتي، وآمن روعتي، واكفني من بغى عليّ، وانصرني ممن ظلمني، وأرني ثأري فيه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین وغیرہ حضرات فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں دعا کرتے تھے : اے اللہ ! میری لغزشوں کو زائل فرما۔ اور میرے ستر کو چھپا دے۔ اور میرے خوف کو امن سے بدل دے ۔ اور میری کفایت فرما۔ اس شخص کے مقابلہ میں جو مجھ پر سرکشی کرے۔ اور میری مدد فرما اس سے جو مجھ پر ظلم کرے۔
حدیث نمبر: 31371
٣١٣٧١ - حدثنا الفضل بن دكين حدثنا عبد اللَّه بن عامر عن (سهيل) (١) عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي ﷺ أنه كان يقول: "اللهم إني أسألك بأنك الأول فلا شيء قبلك، والآخر فلا شيء بعدك، والظاهر فلا شيء فوقك، والباطن فلا شيء دونك، أن تقضي عنا الدين وأن تغنينا من الفقر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ نے ارشاد فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں دعا کرتے تھے : اے اللہ ! میں آپ ہی سے سوال کرتا ہوں کیونکہ آپ ہی سب سے پہلے ہیں آپ سے پہلے کوئی چیز نہیں، اور آپ سب سے بعد میں ہیں پس آپ کے بعد کوئی چیز نہیں ہے اور آپ ہی ظاہر و آشکارا ہیں آپ کے اوپر کوئی چیز نہیں ہے اور آپ ہی پوشیدہ و پنہاں ہیں آپ کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے۔ کہ آپ ہمارے قرض کو ادا فرما دیجیے۔ اور آپ ہمیں محتاجی سے بےنیاز کردیں۔
حدیث نمبر: 31372
٣١٣٧٢ - حدثنا عفان (حدثنا) (١) حماد بن سلمة أخبرنا هشام بن عروة عن ⦗٢٠٣⦘ محمد بن المنكدر أن رسول اللَّه ﷺ كان يقول: "اللهم أعني على (ذكرك وشكرك) (٢) وحسن (عبادتك) (٣)، وأعوذ بك أن يغلبني دين (أو) (٤) عدو، وأعوذ بك من غلبة الرجال" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن المنکدر نے ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں دعا کرتے تھے : اے اللہ ! تو میری مدد فرما کہ میں تیرا ذکر کروں اور تیرا شکر کروں اور تیری اچھی عبادت کروں۔ اور میں تجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ قرض یا کوئی دشمن مجھ پر غالب ہو ۔ اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں آدمیوں کے غالب آنے سے۔
حدیث نمبر: 31373
٣١٣٧٣ - حدثنا الفضل بن دكين عن إسماعيل بن عبد الملك عن علي بن (ربيعة) (١) قال: حملني عليٌ خلفه ثم سار (في) (٢) جانب الحرة ثم رفع رأسه إلى السماء فقال: اللهم اغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب أحد غيرك، ثم التفت إلى فضحك، (قلت) (٣): يا أمير المؤمنين استغفارك ربك والتفاتك إليَّ تضحك؟ قال: (حملني) (٤) رسول اللَّه ﷺ خلفه ثم سار بي (في) (٥) جانب الحرة ثم رفع رأسه إلى السماء فقال: "اللهم اغفر لي ذنوبي، إنه لا يغفر الذنوب أحد غيرك"، ثم التفت إليَّ فضحك، فقلت: يا رسول اللَّه، استغفارك (ربك) (٦) والتفاتك إليَّ تضحك؟ ⦗٢٠٤⦘ قال: " (ضحكت) (٧) لضحك ربي لعجبه لعبده أنه يعلم أنه لا يغفر الذنوب أحد غيره" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ربیعہ ارشاد فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین نے مجھے اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا پھر حرہ مقام کی جانب چلنے لگے پھر اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا اور یہ دعا پڑھی : میرے گناہوں کی بخشش فرما : بیشک تیرے سوا کوئی بھی گناہوں کی بخشش نہیں کرسکتا۔ پھر وہ میری طرف متوجہ ہو کر ہنسنے لگے۔ اس پر میں نے کہا، اے امیر المؤمنین ! آپ نے اپنے رب سے گناہوں کی بخشش طلب کی اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر ہنسنے کیوں لگے ؟ تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا۔ پھر مجھے لے کر حرہ مقام کی جانب چلنے لگے۔ پھر اسی طرح اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور یہ دعا فرمائی۔ اے اللہ ! میرے گناہوں کی مغفرت فرما۔ بیشک آپ کے سوا کوئی بھی گناہوں کی بخشش نہیں کرسکتا۔ پھر میری طرف متوجہ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسنے لگے۔ اس پر میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے اپنے رب سے بخشش طلب کی۔ اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر ہنسنے کیوں لگے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛ میں مسکرایا اپنے رب کے مسکرانے کی وجہ سے کہ اللہ اپنے بندے پر تعجب کرتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی مغفرت نہیں کرسکتا۔