کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس جانور کے بارے میں جس کو کوئی مصیبت پہنچے: تو کس چیز کے ساتھ اس کے لیے پناہ مانگی جائے
حدیث نمبر: 31361
٣١٣٦١ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن هلال بن يساف عن سحيم (بن) (١) نوفل قال: بينما نحن عند عبد اللَّه إذ جاءت وليدة أعرابية إلى سيدها ونحن نعرض مصحفًا، فقالت: ما يحبسك وقد لفع فلان مهرك بعينه، فتركه يدور في الدار كأنه في ذلك، قم فابتغ راقيًا، فقال عبد اللَّه: لا تبتغ راقيا، وأنفث في منخره (الأيمن) (٢) أربعًا، وفي الأيسر ثلاثًا وقال: لا بأس (لا بأس) (٣) أذهب البأس رب الناس، أشف أنت الشافي، لا يكشف التفسير إلا أنت، قال: فذهب ثم رجع إلينا، قال: فقلت ما أمرتني، فما جئت حتى راث (وبال) (٤) وأكل (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سحیم بن نوفل فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عبد اللہ کے پاس بیٹھے تھے کہ اس درمیان ایک دیہاتی بچی اپنے آقا کے پاس حاضر ہوئی اور ہم قرآن مجید زبانی پڑھ رہے تھے۔ پس وہ کہنے لگی : کس چیز نے تجھے یہاں بٹھا رکھا ہے ؟ تحقیق تیرے فلاں اونٹ کو کسی نے نظر بد لگا دی ہے ۔ پس اس نے کھانا چھوڑ دیا ہے اور گھر میں بہت بےچین ہو رہا ہے گویا کہ وہ ہانڈی میں ہو ! کھڑے ہو کر کسی تعویذ کرنے والے کو تلاش کر، تو حضرت عبد اللہ نے فرمایا : کسی تعویذ کرنے والے کو تلاش مت کرو۔ اور اس کے دائیں نتھنے میں چار مرتبہ اور بائیں نتھنے میں تین مرتبہ پھونک مارو اور یہ کلمات کہو ، کوئی حرج کی بات نہیں، کوئی حرج کی بات نہیں، لوگوں کے رب اس حرج کو دور فرما۔ تو شفاء عطا کر تو شفا دینے والا ہے، مصیبت کو تیرے سوا کوئی دور نہیں کرتا ۔ راوی فرماتے ہیں ، وہ آدمی چلا گیا پھر ہمارے پاس واپس لوٹا تو کہنے لگا، جن کلمات کا آپ نے حکم دیا میں نے وہ پڑھے، میں آپ کے پاس نہیں آیا یہاں تک کہ اس نے لید کی اور پیشاب کیا اور کھانا کھایا۔