کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: وہ دعا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام ھانی کو سکھلائی
حدیث نمبر: 31357
٣١٣٥٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن عجلان عن مسلم بن أبي مريم قال: جاءت أم هانئ إلى النبي ﷺ فقالت: يا رسول اللَّه (إني) (١) قد كبرت وضعفت فعلمني عملًا أعمله وأنا جالسة، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إنك إن كبرت اللَّه ⦗١٩٧⦘ مائة تكبيرة كانت خيرًا من مائة بدنة مجللة متقبلة، وإنك إن سبحت اللَّه مائة تسبيحة كانت خيرا من مائة رقبة (تعتقتيها) (٢)، وإنك إن حمدت اللَّه مائة (تحميدة) (٣) كانت خيرًا من مائة فرس مسرج ملجم (يحمل) (٤) عليهن في سبيل اللَّه ﷿" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم بن ابی مریم فرماتے ہیں کہ حضرت ام ھانی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور فرمانے لگیں : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں کبر سنی کو پہنچ گئی اور کمزور ہوگئی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل سکھلا دیں جو میں بیٹھے بیٹھے کرتی رہا کروں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تو سو مرتبہ اللہ کی کبریائی بیان کرے تو یہ سو جھول پہنائے ہوئے قبول شدہ اونٹوں سے بہتر ہے، اور بیشک تو اگر سو مرتبہ اللہ کی پاکی بیان کرے تو یہ سو غلاموں سے جن کو تو نے آزاد کیا ہو بہتر ہے، اور بیشک اگر تو اللہ کی سو مرتبہ حمد و ثنا کرے تو یہ زین کسے ہوئے اور لگام لگے ہوئے سو گھوڑوں سے بہتر ہے جن پر سامان اللہ کی راہ میں جانے کے لیے باندھا گیا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31357
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ مسلم ليس صحابيًا، أخرجه النسائي في الكبرى (١٠٦٨٠)، وابن ماجه (٣٨١٠)، والحاكم ١/ ٥١٣، وعبد الرزاق (٢٠٥٨٠)، والبخاري في التاريخ ٢/ ٢٥٤، وعبد اللَّه بن أحمد عن أبيه في المسند (٢٦٩١١)، والطبراني ٢٤/ (٩٩٥)، والبغوي (١٢٨٠)، والمزي ٢٦/ ١٢٢، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٢١٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31357، ترقيم محمد عوامة 29998)