کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو شخص اپنی دعا میں یوں کہے! تو مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہے
حدیث نمبر: 31317
٣١٣١٧ - حدثنا معاوية بن هشام عن شريك عن أبي هاشم عن أبي مجلز عن قيس بن عباد قال: صلى (١) عمار صلاة كأنهم أنكروها، فقيل له في ذلك، فقال: ألم أتم الركوع والسجود؟ قالوا: بلى، قال: فإني قد دعوت (اللَّه) (٢) بدعاء سمعته من رسول اللَّه ﷺ: "اللهم بعلمك الغيب، وقدرتك على الخلق، أحيني ما علمت الحياة خيرا لي، وتوفني إذا علمت الوفاة خيرًا لي، اللهم إني أسألك كلمة الإخلاص في الغضب والرضى، والقصد في الغنى والفقر، وخشيتك في الغيب والشهادة، وأسألك الرضا (بالقدر) (٣)، وأسألك نعيمًا لا ينفد، وقرة عين لا تنقطع، ولذة العيش بعد الموت، ولذة النظر إلى وجهك، وشوقا إلى لقائك، وأعوذ بك من (ضراء) (٤) مضرة، وفتنة مضلة، اللهم زينا بزينة الإيمان واجعلنا (هداة) (٥) ⦗١٨٢⦘ (مهتدين) (٦) " (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن عباد فرماتے ہیں کہ حضرت عمار نے نماز پڑھائی تو لوگ گویا ان کی نماز کو ناپسند کر رہے تھے ، پھر ان سے اس بارے میں پوچھا گیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : کیا میں رکوع و سجود کو مکمل طور پر ادا نہ کروں ؟ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں ! ضرور ادا کریں۔ انہوں نے فرمایا : یقینا میں نے اللہ سے دعا مانگی جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی۔ ” اے اللہ ! اپنے علم غیب کے ساتھ اور اپنی مخلوق پر قدرت کے ساتھ، تو مجھے زندہ رکھ جب تک تو جانتا ہے کہ زندگی میرے حق میں بہتر ہے، اور مجھے موت دے دے جب تو جان لے کہ موت میرے لیے بہتر ہے ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے غصہ اور خوشی میں اخلاص کی بات کا سوال کرتا ہوں، اور امیری اور فقیری میں میانہ روی کا ، ظاہر اور پوشیدگی میں تیرے خوف کا، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تقدیر پر راضی رہنے کا، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ایسی نعمت کا جو ختم نہ ہو، اور آنکھ کی ٹھنڈک کا جو منقطع نہ ہو، اور موت کے بعد مزے کی زندگی کا۔ اور تیرے چہرۂ انور کے دیدار کی لذت کا، اور تیری ملاقات کے شوق کا، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں تکلیف کی حالت میں ہونے والی تکلیف سے اور گمراہ کرنے والے فتنہ سے۔ اے اللہ ! ہمیں ایمان کی زینت سے مزین فرما، اور ہمیں ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔
حدیث نمبر: 31318
٣١٣١٨ - حدثنا عبيدة بن حميد عن حميد عن أنس بن مالك قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا (يتمنين) (١) أحدكم الموت لضر نزل به في الدنيا، ولكن ليقل: اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرًا لي، وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص بھی دنیا کی کسی مصیبت کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے۔ اور لیکن اسے چاہیے کہ وہ یوں دعا کرے : اے اللہ ! مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہو، اور مجھے وفات دے جب وفات میرے حق میں بہتر ہو۔
حدیث نمبر: 31319
٣١٣١٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مالك بن الحارث قال: كان من دعاء عمار: اللهم إني أسألك بعلم الغيب وقدرتك على الخلق أن تحيني ما علمت الحياة خيرا لي، وتوفني ما علمت الوفاة خيرا لي، اللهم أسألك خشيتك في الغيب والشهادة، وأسألك القصد في الغنى والفقر، وأسألك العدل في الرضا والغضب، اللهم (حبب) (١) إلى لقاءك وشوقا إليك في غير فتنة مضلة، (ولا) (٢) ضراء مضرة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن الحارث فرماتے ہیں کہ حضرت عمار یوں دعا کرتے : اے اللہ ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں آپ کے علم غیب کے ساتھ، اور مخلوق پر آپ کی قدرت کے ساتھ، کہ آپ مجھے زندہ رکھیں جب تک آپ جانیں کہ زندگی میرے حق میں بہتر ہے، اور مجھے وفات دے دیں جب آپ جان لیں کہ وفات میرے لیے بہتر ہے۔ اے اللہ ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں ظاہر اور پوشیدگی میں آپ کے خوف کا، اور میں آپ سے امیری اور فقیری میں میانہ روی مانگتا ہوں، اور میں آپ سے سوال کرتا ہوں غصہ اور خوشی میں اعتدال کا۔ اے اللہ ! میرے نزدیک اپنی ملاقات کو محوظب بنا دے، اور اپنی ملاقات کے شوق کو بھی جو نہ گمراہ کرنے والے فتنہ میں ہو اور نہ ہی کسی حالت تکلیف میں تکلیف دے۔