کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: حفاظت کے لیے دعا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا فاطمہ کو تعلیم فرمائی
حدیث نمبر: 31314
٣١٣١٤ - حدثنا محمد بن (أبي) (١) عبيدة قال: (حدثني أبي قال) (٢): حدثنا الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة (قال: أتت) (٣) فاطمة النبي ﷺ (تسأله) (٤) خادمًا فقال لها: "ما عندي ما أعطيك"، فرجعت فأتاها بعد ذلك فقال: "الذي سألت أحب إليك أم ما هو خير منه"، فقال لها علي: قوفي: لا، بل ما هو خير منه، فقالت: (فقال) (٥): "قولي اللهم رب السماوات السبع، ورب العرش العظيم، ربنا ورب كل شيء، منزل التوراة والإنجيل والقرآن العظيم، أنت الأول (فليس) (٦) قبلك شيء، وأنت الآخر فليس بعدك شيء، وأنت الظاهر فليس ⦗١٨٠⦘ فوقك شيء، وأنت الباطن فليس دونك شيء، اقض عنا الدين وأغننا من الفقر" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ خادم مانگنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : تمہیں دینے کو میرے پاس اس وقت کچھ بھی نہیں ہے۔ پس وہ واپس لوٹ گئیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بعد خود ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا : جو چز تیرے نزدیک پسندیدہ تھی جس کا تو نے سوال کیا وہ عطا کروں یا اس سے بھی بہتر چیز ؟ یہ بات سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ سے کہا : تم کہو : نہیں، بلکہ اس سے بھی بہتر چیز عطا کریں۔ حضرت فاطمہ نے ایسے ہی کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تم یہ دعا پڑھ لیا کرو : اے اللہ ! ساتوں آسمانوں کے پروردگار اور عرش عظیم کے پروردگار، ہمارے پروردگار اور ہر چیز کے پروردگار، تورات، انجیل اور قرآن عظیم کے اتارنے والے، تو ہی سب سے پہلا ہے تیرے سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی، تو ہی سب سے پچھلا ہے، تیرے بعد بھی کوئی چیز نہیں ہوگی ، اور تو ظاہر و آشکارا ہے، تیرے اوپر بھی کوئی چیز نہیں ہے ، اور تو ہی پوشیدہ ہے، تیرے نیچے بھی کوئی چیز نہیں ہے، تو مجھ سے قرض کو دور فرما دے، اور مجھے فقر سے بےنیاز کر دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31314
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٧١٣)، وابن ماجه (٣٨٣١)، والترمذي (٣٤٨١)، والنسائي في الكبرى (٧٦٦٩)، وبنحوه أخرجه أحمد (٩٢٣٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31314، ترقيم محمد عوامة 29955)
حدیث نمبر: 31315
٣١٣١٥ - حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن علي أن فاطمة اشتكت إلى النبي ﷺ يدها من (العجين) (١) والرحى، قال: فقدم على النبي ﷺ سبي فأتته تسأله خادمًا، فلم تجده ووجدت عائشة فأخبرتها قال علي: فجاءنا بعد ما أخذنا مضاجعنا فذهبنا (نتقدم) (٢) فقال: مكانكما، قال: فجاء فجلس بيني وبينها حتى وجدت برد قدمه، فقال: "ألا أدلكما على ما هو خير لكما من خادم، تسبحانه ثلاثًا وثلاثين، وتحمدانه ثلاثًا وثلاثين، وتكبرانه ثلاثًا وثلاثين" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن أبی لیلی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کہ حضرت فاطمہ نے آٹا گوندھنے اور چکی پیسنے کی وجہ سے ہاتھ میں درد کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شکایت کی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چند قیدی لائے گئے تو حضرت فاطمہ خادم مانگنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موجود نہ پایا۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو موجود پایا تو اپنے آنے کا مقصد بتلا دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب ہم اپنے بستروں پر لیٹ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ ہم نے اٹھنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنی جگہ پر لیٹے رہو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اور میرے اور فاطمہ کے درمیان بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں کی ٹھنڈک محسوس کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہاری ایسی چیز کی طرف راہنمائی نہ فرماؤں جو تم دونوں کے لیے ایک خادم سے بھی بہتر ہے ؟ تم دونوں تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، اور تینتیس مرتبہ الحمد للہ، اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31315
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه من طريق المصنف مسلم (٢٧٢٧)، كما أخرجه البخاري (٣١١٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31315، ترقيم محمد عوامة 29956)