کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: رات کی دعا کا بیان: وہ کیا ہے؟
حدیث نمبر: 31306
٣١٣٠٦ - حدثنا زيد بن الحباب عن مالك بن أنس عن أبي الزبير عن طاوس عن ابن عباس قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا تهجد من الليل قال: "اللهم لك الحمد أنت نور السماوات والأرض (١)، ولك الحمد (و) (٢) أنت قيام السماوات (والأرض) (٣)، ولك الحمد وأنت رب السماوات والأرض ومن فيهن، أنت الحق (وقولك الحق) (٤)، والجنة حق والنار حق والساعة حق، اللهم (لك) (٥) أسلمت وبك، آمنت، وعليك توكلت، (٦) وبك خاصمت، وإليك حاكمت، (اغفر لي) (٧) ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أنت أعلم به مني، (٨) أنت المقدم والمؤخر (لا) (٩) إله إلا أنت" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کو تہجد کی نماز پڑھتے تو یوں دعا فرماتے : اے اللہ ! تیرے لیے ہی تعریف ہے، تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اور تیرے ہی لیے تعریف ہے تو ہی آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے، اور تیرے ہی لیے تعریف ہے، تو ہی آسمانوں اور زمین کا رب ہے، اور ان کا رب ہے جو ان میں ہیں، تو ہی حق ہے، اور تیری بات حق ہے، اور جنت حق ہے، اور آگ حق ہے، اور قیامت حق ہے، اے اللہ ! میں تیرے ہی لیے تابع ہوگیا، اور تجھی پر میں ایمان لایا، اور تجھ پر ہی میں نے بھروسہ کیا، اور تیری ہی مدد کے ساتھ میں نے جھگڑا کیا (دشمن سے) ، اور تیری طرف میں فیصلہ لے کر آیا۔ پس مجھے بخش دے وہ سب جو کام میں نے پہلے کیے اور جو میں نے پیچھے کیے، اور جو میں نے چھپاکر کیے، اور جو میں نے اعلانیہ کیے، اور تو ان کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، تو ہی آگے کرنے والا اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31306
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٧٤٩٩ و ١١٢٠)، ومسلم (٧٦٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31306، ترقيم محمد عوامة 29947)
حدیث نمبر: 31307
٣١٣٠٧ - حدثنا زيد بن حباب عن معاوية بن صالح قال: حدثني أزهر بن (سعيد) (١) عن عاصم بن حميد قال: سألت عائشة ماذا كان رسول اللَّه ﷺ يفتتح به ⦗١٧٧⦘ قيام الليل؟ قالت: لقد سألتني عن شيء ما سألني عنه أحد قبلك، كان يكبر عشرًا ويحمد عشرًا ويسبح عشرًا ويستغفر عشرًا، ويقول: "اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني، ويتعوذ من ضيق المقام يوم القيامة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن حمید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کن کلمات کے ساتھ رات کو قیام شروع فرماتے تھے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں : البتہ تحقیق تو نے مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے جس کا تجھ سے پہلے کسی نے بھی سوال نہیں کیا، پھر فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس مرتبہ تکبیر کہتے، اور دس مرتبہ حمد بیان کرتے، اور دس مرتبہ پاکی بیان کرتے، اور دس مرتبہ استغفار فرماتے ، اور یوں دعا فرماتے :” اے اللہ ! تو میری مغفرت فرما، اور مجھے ہدایت عطا فرما، اور مجھے رزق عطا فرما، اور مجھے عافیت بخش دے۔ “ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت کے دن جگہ کی تنگی سے بھی پناہ مانگتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31307
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ معاوية بن صالح صدوق، أخرجه أحمد (٢٥١٤٥)، وأبو داود (٧٦٦)، والنسائي ٣/ ٢٠٨، وابن حبان (٢٦٠٢)، وابن ماجه (١٣٥٦)، والبغوي في التفسير ٤/ ٢٤٣، والطبراني في مسند الشاميين (٢٠٤٨) والأوسط (٨٤٢٧)، والبخاري في التاريخ ١/ ٤٥٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31307، ترقيم محمد عوامة 29948)
حدیث نمبر: 31308
٣١٣٠٨ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي الضحى عن مسروق قال: كنا مع أبي موسى (فجننا) (١) الليل إلى بستان خرب، قال: فقام من الليل يصلي فقرأ قراءة حسنة، ثم قال: اللهم إنك مؤمن تحب المؤمن، ومهيمن تحب المهيمن، سلام تحب السلام، صادق تحب الصادق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابو موسیٰ کے ساتھ تھے رات کافی تاریک ہوگئی تو ہم نے ایک ویران باغ میں پناہ لی، حضرت مسروق فرماتے ہیں : حضرت ابوموسی نے کھڑے ہو کر رات کو تہجد کی نماز شروع کی اور بہت ہی اچھی قراءت کی۔ پھر یوں دعا فرمائی : اے اللہ ! تو امن و ایمان دینے والا ہے، امن دینے والے کو پسند کرتا ہے، اور تو نگہبان ہے ، نگہبانی کو پسند کرتا ہے، اور تو سلام ہے ، سلامتی کو پسند کرتا ہے، تو سچا ہے سچ بولنے والے کو پسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31308
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢٥٩، وابن عساكر ٣٢/ ٨٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31308، ترقيم محمد عوامة 29949)
حدیث نمبر: 31309
٣١٣٠٩ - حدثنا معاوية بن هشام حدثنا شيبان عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة أن ربيعة بن كعب أخبره أنه كان يبيت عند باب رسول اللَّه ﷺ، فكان يسمع رسول اللَّه ﷺ من الليل يقول: "سبحان اللَّه رب العالمين" الهوىَّ، ثم يقول: "سبحان اللَّه وبحمده" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیعہ بن کعب فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے کے قریب رات گزارتا تھا، اور میں سنتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات گئے تک یہ کلمات پڑھتے تھے : ” اللہ ہر عیب سے پاک ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ “ پھر یہ کلمات پڑھتے : اللہ پاک ہے اور میں اس کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31309
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ معاوية بن هشام صدوق، أخرجه أحمد (١٦٥٧٥)، والترمذي (٣٤١٦)، والنسائي ٣/ ٢٠٩، وابن ماجه (٣٨٧٩)، وابن حبان (٢٥٩٥)، والبخاري في الأدب المفرد (١٢١٨)، وعبد الرزاق (٢٥٦٣)، وابن المبارك في الزهد (١٥٦)، والبغوي (٦٥٥)، والطيالسي (١١٧٢)، وابن سعد ٤/ ٣١٣، والطبراني (٤٥٦٩)، وأبو عوانة ٢/ ١٨١، وابن السني (٧٥٧)، والبيهقي ٢/ ٤٨٦، وأبو نعيم في الحلية ٢/ ٣١، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٣٨٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31309، ترقيم محمد عوامة 29950)