حدیث نمبر: 31293
٣١٢٩٣ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر عن سعد بن إبراهيم قال: كان طلق بن حبيب يقول: اللهم أبرم لهذه الأمة أمرا (رشيدًا) (١) تعز فيه وليك وتذل (فيه) (٢) عدوك، ويعمل فيه بطاعتك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت طلق بن حبیب یوں فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! تو اس امت کے لیے درست معاملہ کا قطعی فیصلہ فرما، جس میں تو اپنے دوست کو عزت بخش، اور اپنے دشمن کو ذلیل فرما، اور اس میں تیری ہی فرمانبرداری کے ساتھ عمل کیا جائے۔
حدیث نمبر: 31294
٣١٢٩٤ - حدثنا حسين بن علي عن (عبيد بن) (١) عبد الملك قال: أخبرني من رأى عمر بن عبد العزيز واقفًا بعرفة يدعو وهو يقول بأصبعه هكذا يشير بها: اللهم ⦗١٧٢⦘ زد محسن أمة محمد إحسانًا، و (راجع) (٢) بمسيئهم إلى التوبة، ثم يقول هكذا ثم يدير بأصبعه: وحط من وراءهم برحمتك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عبد الملک فرماتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے بتلایا ہے جس نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو مقام عرفات میں کھڑے ہو کر یہ دعا مانگتے ہوئے دیکھا ہے۔ وہ یوں فرما رہے تھے اور اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ بھی فرما رہے تھے۔ اے اللہ ! تو امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھلائی کرنے والوں کی بھلائی میں اضافہ فرما، اور ان کے گناہ کرنے والوں کو توبہ کی طرف پھیر دے۔ پھر اس طریقہ سے دعا فرمائی، اور اپنی انگلی کو بھی گھمایا اور تو اپنی رحمت کے ساتھ ان کا پیچھے سے احاطہ فرما۔
حدیث نمبر: 31295
٣١٢٩٥ - حدثنا حسين بن علي عن عبيد بن عبد الملك قال: كان عمر بن عبد العزيز يقول: اللهم أصلح من كان صلاحه صلاحًا لأمة محمد، اللهم وأهلك من كان هلاكه صلاحًا للأمة محمد ﷺ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عبد الملک فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز یوں دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! تو اصلاح فرما اس شخص کی جس کا ٹھیک ہونا امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حق میں بہتر ہو۔ اے اللہ ! اور تو ہلاک فرما دے اس شخص کو جس کی ہلاکت امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حق میں بہتر ہو۔