کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: بعض حضرات فرماتے ہیں ایسے آدمی کے بارے میں جس کو کوئی فکر یا غم پہنچے تو وہ یوں دعا کرے
حدیث نمبر: 31289
٣١٢٨٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن فضيل بن مرزوق قال: حدثنا أبو سلمة الجهني عن القاسم بن عبد الرحمن عن أبيه عن ابن مسعود قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما قال عبد قط إذا أصابه هم أو حزن: اللهم إني عبدك بن عبدك بن أمتك ناصيتي بيدك، ماض في حكمك عدل في قضاؤك، أسألك بكل اسم هو لك، سميت به نفسك أو أنزلته في كتابك، أو علمته أحدا من خلقك، أو استأثرت به في علم الغيب عندك، أن تجعل القرآن ربيع قلبي، ونور صدري، وجلاء حزني وذهاب (همي) (١)، إلا أذهب اللَّه همه، وأبدله مكان حزنه فرحًا"، قالوا: يا رسول اللَّه ينبغي لنا أن نتعلم هذه الكلمات؟ قال: "أجل ⦗١٧٠⦘ ينبغي لمن سمعهن أن يتعلمهن" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہرگز کوئی بندہ یہ دعا نہیں پڑھتا جب اسے کوئی فکر یا غم پہنچتا ہے : اے اللہ ! میں خود تیرا بندہ ہوں، اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں، اور تیری لونڈی کی اولاد ہوں۔ میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے۔ میرے حق میں تیرا جو بھی فیصلہ ہو وہ نافذ ہونے والا ہے، اور تیرا میرے بارے میں جو بھی حکم ہے وہ سب انصاف ہی انصاف ہے، اور میں تیرے ہر اس نام کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں جو خود تو نے اپنا مقرر فرمایا ہے یا اپنی کتاب میں اس کو اتارا ہے، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے، یا خاص اپنے ہی علم غیب میں اسے پوشیدہ رکھا ہے کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار، اور میرے سینہ کا نور ، میرے غم کو دور کرنے والا اور میرے غم کے ازالہ کا سبب بنا دے۔ مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کی فکر کو ختم فرما دیتے ہیں اور اس کے غم کے بدلے اس کو فرحت و خوشی عنایت فرماتے ہیں ۔ صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تب تو ہمارے لیے مناسب ہے کہ ہم ان کلمات کو سیکھ لیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! مناسب ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس کو سنا ہے کہ وہ اس دعا کو سیکھ لیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31289
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31289، ترقيم محمد عوامة 29930)