کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن لوگوں نے کہا: جب آدمی اپنے بستر پر جائے اور بستر پر لیٹ جائے تو وہ کیا دعا کرے؟
حدیث نمبر: 31265
٣١٢٦٥ - (١) حدثنا سفيان بن عيينة عن أبي إسحاق عن (٢) البراء قال: كان ⦗١٦١⦘ النبي ﷺ إذا أخذ مضجعه قال: "اللهم إليك أسلمت نفسي، ووجهت وجهي، وإليك فوضت أمري، وإليك ألجأت ظهري، رغبة ورهبة إليك، لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي (أنزلت) (٣)، وبنبيك أو رسولك الذي أرسلت (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بستر پر لیٹتے تھے تو یہ دعا فرماتے : اے اللہ ! میں نے اپنے نفس کو تیرے ہی تابع کیا، اور اپنا چہرہ تیری طرف ہی پھیرلیا، اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کیا، اور اپنی پشت تیری طرف جھکائی تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے، نہ تجھ سے پناہ کی کوئی جگہ ہے اور نہ بھاگ کر جانے کی مگر تیری ہی طرف، میں ایمان لایا تیری کتاب پر جو تو نے اتاری، اور تیرے نبی پر، یا تیرے رسول پر، جو تو نے بھیجا۔
حدیث نمبر: 31266
٣١٢٦٦ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن البراء قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (١) يا فلان إذا أويت إلى فراشك فقل: اللهم أسلمت نفسي إليك، (ووجهت وجهي إليك) (٢)، ووليت ظهري إليك -ثم ذكره نحوه- إلا أنه قال: فإن مت من ليلتك مت على الفطرة وإن أصبحت أصبحت خيرًا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا : اے فلاں ! جب تو اپنے بستر پر لیٹے تو یہ کلمات کہہ : ” اے اللہ ! میں نے اپنے نفس کو تیرے تابع کیا، اور اپنی پشت کو تیری طرف جھکایا۔ “ پھر ما قبل جیسا مضمون ذکر فرمایا مگر یہ بھی فرمایا : پس اگر تو اس رات کو مرگیا تو تیری موت فطرت پر واقع ہوگی، اور اگر تو نے صبح کی تو پھر خیر کو پالے گا۔
حدیث نمبر: 31267
٣١٢٦٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن سعد بن عبيدة عن البراء بن عازب عن النبي ﷺ أنه قال لرجل: "إذا أخذت مضجعك فقل: اللهم إني أسلمت نفسي إليك، ووجهت وجهي إليك، وفوضت أمري إليك، وألجات ظهري (إليك) (١) (رغبة ورهبة) (٢) (إليك) (٣)، لا منجى ولا ملجأ منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي ⦗١٦٢⦘ أرسلت، فإن (متَّ متَّ) (٤) على الفطرة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے ارشاد فرمایا : جب تو اپنے بستر پر لیٹے تو یہ کلمات کہہ لیا کر : اے اللہ ! میں نے اپنے نفس کو تیرے تابع کیا، اور تیری طرف اپنا چہرہ کیا، اور تیری طرف اپنے معاملہ کو سپرد کیا، اور تیری طرف ہی اپنی پشت کو پھیرا ، تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے، اور نہ تجھ سے بھاگ کر جانے کی کوئی جگہ ہے اور نہ ہی تجھ سے پناہ کی کوئی جگہ ہے مگر تیری طرف، میں ایمان لایا تیری کتاب پر جو تو نے اتاری، اور میں ایمان لایا تیرے نبی پر جو تو نے بھیجا۔ پھر اگر تو اس رات کو مرگیا تو تیری موت فطرت پر واقع ہوگی۔
حدیث نمبر: 31268
٣١٢٦٨ - حدثنا عبيدة بن حميد عن عبد الملك بن عمير عن ربعي بن حراش عن حذيفة قال: كان النبي ﷺ إذا أخذ مضجعه قال: "اللهم باسمك أموت و (أحيي) (١) وإذا قام قال: الحمد للَّه الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بستر پر لیٹتے تو یہ دعا فرماتے : اے اللہ ! میں تیرے ہی نام کے ساتھ مرتا ہوں اور زندہ ہوتا ہوں، اور جب نیند سے اٹھتے تو یہ دعا فرماتے : سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔
حدیث نمبر: 31269
٣١٢٦٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الملك بن عمير عن ربعي عن حذيفة قال: كان النبي ﷺ إذا نام قال: "باسمك (أحيى) (١) وأموت"، وإذا استيقظ قال: "الحمد للَّه الذي أحيانا بعد ما أماتنا واليه النشور" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوتے وقت یہ دعا فرماتے : تیرے نام کے ساتھ زندہ ہوتا ہوں اور مرتا ہوں۔ اور جب بیدار ہوتے تو یہ دعا فرماتے : سب تعریفیں اللہ کے لیے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا ۔ اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔
حدیث نمبر: 31270
٣١٢٧٠ - حدثنا جرير عن منصور (أو) (١) عن عبد الملك بن عمير عن ربعي عن حذيفة أن النبي ﷺ بمثله، الشك من جرير في عبد الملك أو منصور (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مذکورہ ارشاد اس سند کے ساتھ بھی نقل کیا گیا ہے۔ اور سند میں شک حضرت جریر کی طرف ہے جو عبد الملک یا منصور کے بارے میں ہے۔
حدیث نمبر: 31271
٣١٢٧١ - حدثنا (محمد) (١) بن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبيه قال: كنت قاعدًا عند عمار فأتاه رجل فقال: ألا أعلمك كلمات كأنه يرفعهن إلى النبي ﷺ: إذا أخذت مضجعك من الليل فقل: اللهم أسلمت (نفسي) (٢) إليك، (ووجهت ⦗١٦٣⦘ وجهي إليك) (٣)، وفوضت أمري إليك، وألجأت ظهري إليك، آمنت بكتابك المنزل، ونبيك المرسل، اللهم نفسي خلقتها لك محياها ولك مماتها، فإن (كفتها) (٤) فارحمها، وإن أخرتها فاحفظها بحفظ الإيمان (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سائب فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمار کے پاس بیٹھا تھا کہ آدمی ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تو آپ نے فرمایا : کیا میں تجھے چند کلمات نہ سکھاؤں۔ گویا وہ ان کلمات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب فرما رہے تھے۔ کہ جب تو رات کو اپنے بستر پر لیٹے تو ان کلمات کو کہہ لیا کر : اے اللہ ! میں نے اپنے نفس کو تیرے تابع کیا، اور میں نے اپنا چہرہ تیری طرف کیا، اور میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کیا، اور میں نے اپنی پشت کو تیری طرف پھیرا، میں ایمان لایا تیری کتاب پر جو اتاری گئی ہے، اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جس کو بھیجا گیا ہے، اے اللہ ! میرے نفس کو تو نے ہی پیدا فرمایا ہے، تیرے لیے ہی اس کی زندگی ہے اور تیرے لیے ہی اس کا مرنا ہے، پس اگر تو اس کو موت دے گا تو پھر اس پر رحم فرما، اور اگر تو اس کی موت کو مؤخر کرے گا تو ایمان کو باقی رکھ کر اس کی حفاظت فرما۔
حدیث نمبر: 31272
٣١٢٧٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن عبد اللَّه بن أبي السفر قال: سمعت أبا بكر ابن أبي موسى يحدث عن البراء (١) أن النبي ﷺ كان إذا استيقظ قال: "الحمد للَّه الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور"، -قال شعبة: هذا أو نحوه- وإذا نام قال: "اللهم باسمك أحيا وباسمك أموت" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بیدار ہوتے تو یہ دعا فرماتے : سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا، اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں : کہ یہی فرمایا یا اس جیسا فرمایا تھا۔ اور جب سوتے تو یہ دعا فرماتے : اے اللہ ! آپ کے نام کے ساتھ ہی میں زندہ ہوتا ہوں اور آپ کے نام کے ساتھ ہی میں مرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 31273
٣١٢٧٣ - حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس أن النبي ﷺ كان يدعو: "اللهم آتنا في الدنيا حسنة، وفي الآخرة حسنة، وقنا عذاب النار" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! ہمیں دنیا میں خوبی عطا فرما، اور ہمیں آخرت میں خوبی عطا فرما ، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔
حدیث نمبر: 31274
٣١٢٧٤ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير حدثنا عبيد اللَّه بن عمر عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبي هريرة أن رسول اللَّه ﷺ (قال) (١): "إذا أراد أحدكم أن يضطجع على فراشه فلينزع (داخلة) (٢) ازاره، ثم لينفض بها فراشه، فإنه لا يدري (ما) (٣) خلفه ⦗١٦٤⦘ عليه، ثم ليضطجع على شقه الأيمن، ثم ليقل: باسمك ربي وضعت جنبي، وبك أرفعه، فإن أمسكت نفسي فارحمها، وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به (٤) الصالحين" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بستر پر لیٹنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ اپنے زائد کپڑے اتار دے، پھر اپنے بستر کو اچھی طرح جھاڑے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے اس بستر پر کیا تھا، پھر داہنی کروٹ پر لیٹ جائے۔ پھر یہ دعا پڑھے : میرے مالک تیرے نام کے ساتھ ہی میں اپنا پہلو رکھتا ہوں، اور تیرے نام کے ساتھ ہی میں اسے اٹھاتا ہوں، پس اگر تو نے میرے نفس کو روکا تو اس پر رحم فر ما، اور اگر اس کو چھوڑ دیا تو اس کی حفاظت فرما جیسے تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔
حدیث نمبر: 31275
٣١٢٧٥ - حدثنا الفضل بن دكين حدثنا زهير عن أبي إسحاق عن فروة بن نوفل عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ قال له: " (مجيء) (١) ما جاء بك؟ " قال: يا رسول اللَّه تعلمني شيئًا أقوله عند منامي قال: "إذا أخذت مضجعك فاقرأ: ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾، ثم نم على (خاتمتها) (٢) فإنها براءة من الشرك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نوفل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا ؟ آنے والے کیا چیز تمہیں لے کر آئی ہے ؟ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ مجھے کوئی دعا سکھلا دیجیے جو میں سونے کے وقت پڑھ لیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم اپنے بستر پر لیٹو تو یہ سورت کافرون پڑھ لیا کرو !ً ” کہہ دیجیے ! اے کافرو ! “ پھر اس کے خاتمہ پر سو جایا کرو کہ یہ شرک سے بری ہونے کا پروانہ ہے۔
حدیث نمبر: 31276
٣١٢٧٦ - حدثنا جعفر بن عون عن الأفريقي عن عبد اللَّه بن (يزيد) (١) عن عبد اللَّه ابن عمرو أن النبي ﷺ قال لرجل من الأنصار: "كيف تقول حين تريد أن تنام؟ " قال: أقول باسمك (٢) وضعت جنبي فاغفر لي، [قال: ⦗١٦٥⦘ "قد غفر] (٣) لك" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک انصاری صحابی سے فرمایا : جب تم سونے کا ارادہ کرتے ہو تو کس طرح دعا کرتے ہو ؟ اس صحابی نے فرمایا : میں یوں دعا کرتا ہوں ! تیرے ہی نام کے ساتھ میں اپنا پہلو رکھتا ہوں، تو میری مغفرت فرما، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیری مغفرت کردی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 31277
٣١٢٧٧ - حدثنا مروان بن معاوية عن أبي مالك الأشجعي عن عبد الرحمن ابن نوفل الأشجعي عن أبيه قال: قلت يا رسول اللَّه أخبرني بشيء أقوله إذا أصبحت وإذا أمسيت فقال: "اقرأ: ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ ثم نم على (خاتمتها) (١)، فإنها براءة من الشرك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نوفل الاشجعی فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجیے جو میں صبح و شام پڑھا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم سورت کافرون پڑھا کرو ! کہہ دیجیے ! اے کافرو ! پھر اس کے خاتمہ پر سو جایا کرو، پس یہ شرک سے بری ہونے کا پروانہ ہے۔
حدیث نمبر: 31278
٣١٢٧٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن حبيب عن عبد اللَّه بن باباه عن (أبي هريرة) (١) قال: من قال حين يأوي إلى فراشه: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد! وهو على كل شيء قدير، سبحان اللَّه بحمده، الحمد للَّه، لا إله إلا اللَّه، واللَّه أكبر، غفر له ذنوبه وإن كانت مثل زبد البحر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ ابن باباہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے ارشاد فرمایا : جو شخص بستر پر لیٹتے وقت یہ دعا پڑھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو اکیلا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، اللہ پاک ہے اور اپنی تمام تعریفوں کے ساتھ ہے، سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے تمام گناہ معاف فرما دیتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔
حدیث نمبر: 31279
٣١٢٧٩ - حدثنا وكيع عن مسعر عن (عفاق) (١) عن عمرو بن ميمون قال: من قال إذا أوى إلى فراشه: أشهد أن لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، أربع مرات غفر له ذنوبه وإن (كانت) (٢) طفاح الأرض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عفاق فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن میمون نے ارشاد فرمایا : جو شخص بستر پر لیٹ کر چار مرتبہ یہ دعا پڑھے : میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے، اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ تو اس کے تمام گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے اگرچہ اس کے گناہ زمین کو بھر دیں۔
حدیث نمبر: 31280
٣١٢٨٠ - حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا حماد بن سلمة عن عاصم عن سواء عن حفصة أن رسول اللَّه ﷺ كان إذا أخذ مضجعه قال: " (١) رب قني عذابك يوم تبعث عبادك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حفصہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بستر پر لیٹ کر یہ دعا فرماتے : میرے رب ! مجھے اپنے عذاب سے بچا لے جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔
حدیث نمبر: 31281
٣١٢٨١ - حدثنا الفضل بن دكين حدثنا زهير عن أبي إسحاق عن عاصم عن علي قال: إذا أخذت مضجعك فقل: بسم اللَّه، (وفي سبيل اللَّه) (١)، وعلى ملة رسول اللَّه ﷺ (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب تو اپنے بستر پر لیٹ جائے تو یہ کلمات کہہ لیا کر : اللہ کے نام کے ساتھ، اور اللہ کے راستہ میں ہوں، اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقہ پر ہوں۔
حدیث نمبر: 31282
٣١٢٨٢ - حدثنا أبو أسامة عن زكريا عن أبي إسحاق عن البراء قال: كان النبي ﷺ إذا نام توسد يمينه تحت خده ويقول: "قني عذابك يوم ⦗١٦٧⦘ تبعث عبادك" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنے دائیں ہاتھ کو رخسار کے نیچے تکیہ بناتے اور یہ دعا فرماتے تھے : مجھے اپنے عذاب سے بچا لے جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔
حدیث نمبر: 31283
٣١٢٨٣ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة عن أبيه عن النبي ﷺ أنه كان إذا نام قال: "اللهم قني عذابك يوم تبعث عبادك"، وكان يضع يمينه تحت خده (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ کے والد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا پڑھتے : اے اللہ ! تو مجھے اپنے عذاب سے بچا لے جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا داہنا ہاتھ رخسار کے نیچے رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 31284
٣١٢٨٤ - حدثنا الحسن بن موسى حدثنا حماد بن سلمة عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة أن رسول اللَّه ﷺ كان إذا أوى إلى فراشه قال: "اللهم رب السماوات ورب الأرضين، (ربي) (١) ورب كل شيء، فالق الحب والنوى، منزل التوراة والإنجيل والقرآن، أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته، أنت الأول (فليس) (٢) قبلك شيء، (وأنت الآخر فليس بعدك شيء) (٣)، وأنت ⦗١٦٨⦘ الظاهر فليس فوقك شيء، وأنت الباطن فليس دونك شيء، أقض عني الدين وأغنني من الفقر" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بستر پر لیٹ جاتے تو یہ دعا فرماتے : اے اللہ ! آسمانوں کے مالک اور زمینوں کے مالک، اور ہمارے مالک اور ہر چیز کے مالک، دانے اور گٹھلی کے پیدا کرنے والے، تورات ، انجیل اور قرآن کے اتارنے والے، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ہر شر والے کے شر سے جس کی پیشانی تو نے پکڑی ہو، تو ہی سب سے پہلا ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی، اور تو ہی سب سے پچھلا ہے تیرے بعد بھی کوئی چیز نہیں ہوگی، اور تو ہی ظاہر و آشکارا ہے تیرے اوپر بھی کوئی چیز نہیں ہے ، اور تو ہی پوشیدہ ہے پس تیرے نیچے بھی کوئی چیز نہیں ہے، تو مجھ سے قرض کو دور فرما، اور مجھے فقر سے بےنیاز کر دے۔
حدیث نمبر: 31285
٣١٢٨٥ - حدثنا عبيدة بن حميد عن منصور عن أبي معشر قال: حدثت أن رسول اللَّه ﷺ كان يقول إذا أوى إلى فراشه: "اللهم عافني في ديني، وعافني في جسدي، وعافني في بصري، واجعله الوارث مني، لا إله إلا اللَّه العلي العظيم، سبحان رب السماوات السبع ورب العرش الكريم، الحمد للَّه رب العالمين" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو معشر فرماتے ہیں کہ مجھے بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹ جاتے تو یہ دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! مجھے میرے دین میں عافیت بخش دے، اور میرے بدن میں عافیت بخش دے، اور میرے دیکھنے میں عافیت عطا فرما، اور مجھے اس کا حق دار بنا دے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، جو کہ بلند وبالا ، عظمت والا ہے، ساتوں آسمانوں کا مالک، اور عرش کریم کا مالک ہے سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔
حدیث نمبر: 31286
٣١٢٨٦ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي إسحاق عن عبيد بن عمرو (الخارفي) (١) عن علي قال: ما أرى أحدا يعقل دخل في الإسلام ينام حتى يقرأ آية الكرسي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمرو الخارفی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ میں کسی کو عقل مند نہیں سمجھتا جو اسلام میں داخل ہوا ہو، یہاں تک کہ وہ سونے سے پہلے آیۃ الکرسی پڑھتا ہو۔
حدیث نمبر: 31287
٣١٢٨٧ - حدثنا (حسن) (١) بن موسى (حدثنا) (٢) ليث بن سعد (عن عقيل) (٣) بن خالد عن ابن شهاب أنه قال: أخبرني عروة عن عائشة أن رسول اللَّه ﷺ كان إذا أخذ مضجعه نفث في (يده) (٤) وقرأ فيهما بالمعوذتين ثم مسح بهما جسده (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بستر پر لیٹتے تو معوذتین پڑھ کر دونوں ہاتھوں پر پھونکتے، پھر ان دونوں ہاتھوں کو پورے جسم پر پھیر لیتے۔
حدیث نمبر: 31288
٣١٢٨٨ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي ميسرة قال: كان رسول اللَّه ﷺ يقول عند منامه: "أعوذ بوجهك الكريم وكلماتك التامة من شر ما أنت باطش بناصيته، اللهم إنك (أنت) (١) تكشف المأثم والمغرم، اللهم لا يخلف وعدك ولا يهزم جندك، ولا ينفع ذا الجد منك الجد، سبحانك وبحمدك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو میسرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوتے قت یہ دعا پڑھا کرتے تھے : (اے اللہ) میں آپ کی سخی ذات کی اور آپ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جس کی پیشانی آپ کی قبضہ میں ہو، اے اللہ ! آپ ہی گناہوں اور قرض سے چھٹکارا دلاتے ہیں، اے اللہ ! تیرے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی، اور تیرے لشکر کو شکست نہیں دی جاسکتی، اور کسی شان والے کو اس کی شان تیرے ہاں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ تو سب عیبوں سے پاک ہے اور تو اپنی تعریف کے ساتھ ہے۔