کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: وہ دعا جو دعا صبح کے وقت مانگنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 31241
٣١٢٤١ - حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء قال: سمعت عمرو بن عاصم يحدث أنه سمع أبا هريرة (يقول) (١): إن أبا بكر قال للنبي ﷺ: أخبرني ⦗١٥١⦘ بشيء أقوله إذا أصبحتُ وإذا أمسيتُ، قال: "قل: اللهم عالم الغيب والشهادة، فاطر السماوات والأرض، رب كل شيء ومليكه، أشهد أن لا إله إلا أنت، أعوذ بك من (شر) (٢) نفسي، ومن الشيطان وشركه، قله إذا أمسيت وإذا أصبحت وإذا أخذت مضجعك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی ایسی چیز بتادیں جس کو میں صبح و شام کے وقت کہہ لیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم کہا کرو : اے اللہ ! غائب اور حاضر کو جاننے والے ، آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، ہر چیز کے مالک اور بادشاہ ! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں اپنے نفس کے شر سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں، اور شیطان کے شر سے اور اس کے کارندوں کے شر سے، تم اس دعا کو صبح و شام اور بستر پر لیٹتے وقت پڑھ لیا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31241
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٧٩٦١)، والترمذي (٣٣٩٢)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (٧٩٥)، وابن حبان (٩٦٢)، وأبو داود (٥٠٦٧)، والحاكم ١/ ٥١٣، والبخاري في الأدب المفرد (١٢٠٢)، والطيالسي (٩)، والدارمي (٢٦٨٩)، والبيهقي في الأسماء والصفات ص ٢٠، والخطيب ١١/ ١٦٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31241، ترقيم محمد عوامة 29884)
حدیث نمبر: 31242
٣١٢٤٢ - حدثنا زيد بن الحباب العكلي حدثنا أبو (مودود) (١) قال: حدثني من سمع أبان بن عثمان قال: حدثني أبي عثمان أنه سمع رسول اللَّه ﷺ يقول: "من قال: إذا أصبح وإذا أمسى ثلاث مرار بسم اللَّه الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم لم يصبه في يومه ولا في ليلته شيء" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان فرماتے ہیں کہ یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص صبح و شام میں تین مرتبہ یہ دعا پڑھے گا : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جس کے نام کے ساتھ آسمان اور زمین کی کوئی چیز نقصان نہیں دے سکتی، اور وہ بہت سننے والا، خوب جاننے والا ہے، تو اس شخص کو اس دن اور رات میں کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31242
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31242، ترقيم محمد عوامة 29885)
حدیث نمبر: 31243
٣١٢٤٣ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن الحسن بن عبيد اللَّه عن إبراهيم ابن سويد عن عبد الرحمن بن يزيد عن عبد اللَّه قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا أمسى قال: "أمسينا وأمسى الملك للَّه والحمد للَّه (١)، لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، اللهم إني اسألك من خير هذه الليلة وخير ما فيها، وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها، اللهم إني أعوذ بك من الكسل، والهرم، و (سوء) (٢) الكبر وفتنة الدنيا وعذاب القبر" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب شام ہوتی تو یہ دعا فرماتے : ہم نے شام کی اور اللہ کے ملک نے شام کی، اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں نہیں ہے اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق، جو تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اے اللہ ! میں آپ سے اس رات کی بھلائی کا اور جو بھلائی اس رات میں ہے اس کا سوال کرتا ہوں، اور میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اس رات کے شر سے اور جو شر اس رات میں موجود ہے اس سے، اے اللہ ! میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں سستی اور بڑھاپے سے، اور تکبر اور دنیا کے فتنہ سے، اور قبر کے عذاب سے۔ اور حضرت حسن بن عبید اللہ فرماتے ہیں : کہ حضرت زبید نے مرفوعًا ان الفاظ کا اضافہ بھی نقل کیا ہے : نہیں ہے کوئی عبادت کے لائق سوائے اللہ کے ، جو تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اس ہی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور اس کی ذات ہر چیز پر قدرت رکھنے والی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31243
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٧٢٣)، وأبو داود (٥٠٧١)، والترمذي (٣٣٨٩)، وأحمد (٤١٩٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31243، ترقيم محمد عوامة 29886)
حدیث نمبر: 31244
٣١٢٤٤ - وقال الحسن بن عبيد اللَّه وزادني فيه زبيد عن إبراهيم بن سويد عن عبد الرحمن بن (يزيد) (١) عن عبد اللَّه رفعه (٢) قال: "لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير" (٣).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31244
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٧٢٣)، وأبو داود (٥٠٧١)، والترمذي (٢٣٩٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31244، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 31245
٣١٢٤٥ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن سلمة بن كهيل عن عبد اللَّه بن عبد الرحمن بن أبزى عن أبيه قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا أصبح قال: ["أصبحنا على فطرة الإسلام، وكلمة الإخلاص، ودين نبينا محمد، وملة أبينا إبراهيم حنيفًا وما كان من المشركين" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن أبزی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح ہوتی تو یہ دعا فرماتے : ہم نے صبح کی فطرتِ اسلام پر ، اور اخلاص سے بھرے کلمہ پر، اور ہمارے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین پر، اور ہمارے والد ابراہیم کی ملت حنیفہ پر، اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31245
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد اللَّه بن عبد الرحمن بن أبزي صدوق، أخرجه أحمد (١٥٣٦٧)، والنسائي في الكبرى (٩٨٢٩)، وابن السني (٣٤)، والطبراني في الدعاء (٢٩٤)، والدارمي (٢٦٨٨)، والبيهقي في الدعوات (٢٦)، والقزويني في التدوين ٤/ ٤٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31245، ترقيم محمد عوامة 29887)
حدیث نمبر: 31246
٣١٢٤٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا فائد أبو ورد حدثنا عبد اللَّه بن أبي أوفى قال: كان النبي ﷺ إذا أصبح يقول] (١): "أصبحنا وأصبح الملك (للَّه) (٢) والكبرياء والعظمة، والخلق والأمر، والليل والنهار، وما يضحى (فيهما للَّه) (٣) وحده، لا شريك له، اللهم اجعل أول هذا النهار صلاحًا، وأوسطه فلاحًا، وآخره نجاحًا، أسالك خير الدنيا يا أرحم الراحمين" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی فرماتے ہیں کہ جب صبح ہوتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں دعا فریایا کرتے تھے : ہم نے صبح کی اور اللہ کے ملک نے صبح کی، اللہ کی کبریائی اور بڑائی نے، اور مخلوق اور معاملہ نے، اور دن اور رات نے، اور جو کچھ ان دونوں میں ہوتا ہے، اس اللہ کے لیے جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اے اللہ ! تو اس دن کے اول حصہ کو درست بنا دے ، اور اس کے درمیانی حصہ کو کامیابی بنا دے، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں دنیا کی بھلائی کا، اے تمام رحم کرنے والوں میں سے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31246
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ فائد متروك، أخرجه عبد بن حميد (٥٣١)، والطبراني في الدعاء (٢٩٦)، وابن السني (٣٨)، وابن المبارك في الزهد (١٠٨٥)، وابن عدي ٦/ ٢٦، والمقدسي في الترغيب في الدعاء (٨٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31246، ترقيم محمد عوامة 29888)
حدیث نمبر: 31247
٣١٢٤٧ - حدثنا الفضل بن دكين حدثنا عبادة بن مسلم الفزاري حدثنا جبير بن أبي (سليمان) (١) بن جبير بن مطعم زعم أنه كان جالسًا مع عبد اللَّه بن عمر فقال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول في دعائه (حين يمسي وحين يصبح) (٢) لم يدعه حتى فارق الدنيا أو حتى مات: "اللهم إني اسألك العافية في الدنيا والآخرة، اللهم إني أسالك العفو والعافية في ديني ودنياي وأهلي ومالي، (اللهم) (٣) استر (عوراتي) (٤) وآمن روعاتي، اللهم أحفظني من بين يدي ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي، وأعوذ ⦗١٥٤⦘ بعظمتك أن أغتال من تحتي" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبیر بن أبی سلیمان فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا تھا تو آپ نے فرمایا : میں سنتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح و شام یہ دعا فرمایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دعا کو نہیں چھوڑا یہاں تک کہ دنیا چھوڑ گئے یا یوں فرمایا : یہاں تک کہ وصال فرما گئے : اے اللہ ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ ! میں تجھ سے اپنے دین، اپنی دنیا، اپنے اہل اور اپنے مال میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ ! میری پردہ داری فرما، اور میری گھبراہٹ کو بےخوفی و اطمینان سے بدل، اے اللہ ! میرے سامنے سے، میرے پیچھے سے ، میری دائیں طرف سے، اور میری بائیں طرف سے اور میرے اوپر سے میری حفاظت کر، اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ اچانک اپنے نیچے سے ہلاک کیا جاؤں۔ حضرت جبیر فرماتے ہیں : اس کا مطلب ہے دھنسنا، اور میں نہیں جانتا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد ہے یا جُبیر کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31247
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٤٧٨٥)، وأبو داود (٥٠٧٤)، وابن ماجه (٣٨٧١)، والنسائي ٨/ ٢٨٢، وابن حبان (٩٦١)، والحاكم ١/ ٥١٧، والبخاري في الأدب المفرد (١٢٠٠)، والطبراني (١٣٢٩٦)، وعبد بن حميد (٨٣٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31247، ترقيم محمد عوامة 29889)
حدیث نمبر: 31248
٣١٢٤٨ - قال جبير: وهو الخسف ولا أدري قول النبي ﷺ أو قول جبير؟.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31248
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31248، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 31249
٣١٢٤٩ - حدثنا وكيع عن عبادة عن جبير بن أبي سليمان عن ابن عمر عن النبي ﷺ بنحو منه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ما قبل جیسا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد اس سند کے ساتھ بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31249
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ ومن هذه الطريق أخرجه أحمد (٤٧٨٥)، والبخاري في الأدب المفرد (١٢٠٠)، وأبو داود (٥٠٧٤)، وابن ماجه (٣٨٧١)، وابن حبان (٩٦١)، والحاكم ١/ ٥١٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31249، ترقيم محمد عوامة 29890)
حدیث نمبر: 31250
٣١٢٥٠ - حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد عن منصور عن محمد بن المنكدر قال: حدثت أن رسول اللَّه ﷺ كان يقول إذا أصبح: "بك أصبحنا، وبك (نحيا) (٢)، وبك نموت، وإليك (النشور) (٣) "، وإذا أمسى قال: " (اللهم) (٤) بك أمسينا ويك نحيا وبك نموت، وإليك المصير" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن منکدر فرماتے ہیں مجھے بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح ہوتی تو یوں فرماتے تھے : اے اللہ ! تیرے نام کے ساتھ ہم صبح کرتے ہیں، اور تیرے نام کے ساتھ ہم زندہ ہیں اور تیرے نام کے ساتھ ہی ہم مریں گے، اور تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اور جب شام ہوتی تو یوں دعا فرماتے : اے اللہ ! تیرے نام کے ساتھ ہم شام کرتے ہیں ، اور تیرے نام کے ساتھ ہم زندہ ہیں، اور تیرے نام کے ساتھ ہم مریں گے۔ اور تیری طرف ہی ٹھکانہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31250
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ محمد بن المنكدر تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31250، ترقيم محمد عوامة 29891)
حدیث نمبر: 31251
٣١٢٥١ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر قال: حدثني أبو عقيل عن سابق عن أبي سلام خادم رسول اللَّه ﷺ (١) (عن) (٢) رسول اللَّه ﷺ قال: " (ما) (٣) ⦗١٥٥⦘ من مسلم أو إنسان أو عبد يقول: حين يمسي وحين يصبح ثلاث مرات رضيت باللَّه ربا وبالإسلام دينًا وبمحمد نبيا إلا كان حقًا على اللَّه أن يرضيه يوم القيامة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلام جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے : کوئی بھی مسلمان یا انسان یا بندہ ایسا نہیں ہے جو صبح و شام تین مرتبہ یہ دعا پڑھتا ہو : میں اللہ کو رب مان کر ، اور اسلام کو دین مان کر، اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی مان کر راضی ہوں، مگر اللہ تعالیٰ پر اس بندے کا یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے راضی کردیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31251
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31251، ترقيم محمد عوامة 29892)
حدیث نمبر: 31252
٣١٢٥٢ - حدثنا زيد حدثنا عبد الرحمن بن (شريح) (١) حدثني أبو هانئ عن أبي علي (الجنبي) (٢) قال: سمعت أبا سعيد الخدري يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "من قال: رضيت باللَّه ربًا، وبالإسلام دينًا، وبمحمد رسولًا، وجبت له الجنة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید الخدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے : جو شخص کہتا ہے : میں اللہ کو رب مان کر، اور اسلام کو دین مان کر، اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسول مان کر راضی ہوں، تو اس شخص کے لیے جنت واجب ہوگئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31252
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبي هانيء صدوق، أخرجه أبو داود (١٥٢٩)، والنسائي في الكبرى (٩٨٣٣)، وابن حبان (٨٦٣)، والحاكم ١/ ٥١٨، وعبد بن حميد (٩٩٩)، وابن عبد البر في التمهيد ١٧/ ٢٥، وابن السني (٥)، وبنحوه عند مسلم (١٨٨٤)، وأحمد (١١١٠٢)، والبيهقي ٩/ ١٥٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31252، ترقيم محمد عوامة 29893)
حدیث نمبر: 31253
٣١٢٥٣ - حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا محمد بن عبد الرحمن بن (المجبر) (١) عن صفوان بن سليم عن عطاء بن يسار قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من قال: حين يمسبى رضيت باللَّه ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد رسولا، فقد أصاب حقيقة الإيمان" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص شام کے وقت کہے : میں اللہ کو رب مان کر، اور اسلام کو دین مان کر ، اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسول مان کر راضی ہوں، تحقیق اس شخص نے ایمان کی حقیقت کو پا لیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31253
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، ضعيف جدًا؛ عطاء بن يسار تابعي، ومحمد بن عبد الرحمن المجبر متروك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31253، ترقيم محمد عوامة 29894)
حدیث نمبر: 31254
٣١٢٥٤ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر عن بكير بن الأخنس قال: من قال حين يمسي و (حين) (١) يصبح ثلاثًا: اللهم إني أمسيت أشهد، وإذا أصبح قال: اللهم أصبحت أشهد، (أنه) (٢) ما (أصبح) (٣) بنا من عافية ونعمة فمنك وحدك لا شريك لك، فلك الحمد، لم (يسأل) (٤) عن نعمة كانت في ليلته تلك ولا يومه إلا قد أدى شكرها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسعر فرماتے ہیں کہ حضرت بکیر بن الاخنس نے ارشاد فرمایا : جو شخص صبح و شام تین مرتبہ یہ دعا پڑھے گا : اے اللہ ! میں نے شام کی میں گواہی دیتا ہوں، اور صبح کے وقت یوں کہے : اے اللہ ! میں نے صبح کی میں گواہی دیتا ہوں ، یقینا آج کے دن ہم میں سے کسی پر جو عافیت اور نعمت ہے ، وہ صرف آپ کی جانب سے ہے، اس کی نعمت و عافیت کی عطا میں اور کوئی آپ کا شریک نہیں ہے، سو آپ کے لیے ہی تعریف ہے، اس آدمی کے پاس اس رات اور اس دن میں جو کوئی نعمت ہوگی اس کا سوال نہیں کیا جائے گا، مگر یہ کہ اس بندے نے اس نعمت کا شکر ادا کردیا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31254
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31254، ترقيم محمد عوامة 29895)
حدیث نمبر: 31255
٣١٢٥٥ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن عبد الملك عن عبد اللَّه بن عبيد بن عمير عن عبيد بن عمير أنه كان يقول إذا أصبح وأمسى: اللهم إني أسألك عند (حضرة) (١) (صلاتك) (٢) وقيام دعاتك، أن تغفر لي وترحمني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبید فرماتے ہیں کہ حضرت عبید بن عمیر صبح و شام کے وقت یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں نمازوں کے حاضر ہونے کے وقت اور آپ کے پکارنے والوں کے قیام کے وقت کہ آپ میری مغفرت فرما دیں اور مجھ پر رحم فرما دیجیے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31255
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31255، ترقيم محمد عوامة 29896)
حدیث نمبر: 31256
٣١٢٥٦ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين عن تميم بن سلمة عن عبد اللَّه بن (سخبرة) (١) عن ابن عمر أنه كان يقول: إذا أصبح (أو) (٢) أمسى: اللهم اجعلني (من) (٣) أفضل عبادك الغداة أو الليلة نصيبًا من خير (تقسمه) (٤)، (ونورٍ) (٥) تهدي ⦗١٥٧⦘ به، ورحمة تنشرها، و (رزق) (٦) تبسطه، و (ضر تكشفه) (٧)، وبلاء ترفعه، وشرًا تدفعه، وفتنة تصرفها (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن سبرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما صبح یا شام کے وقت یہ دعا فرماتے تھے : اے اللہ ! مجھے دن کو یا رات کو تیرے بندوں میں سب سے افضل و بہتر بنا دے، حصہ دیتے ہوئے اس خیر میں سے جس کو تو تقسیم کرتا ہے، اس نور سے جس کے ذریعہ تو ہدایت دیتا ہے، اور اس رحمت سے جس کو تو پھیلاتا ہے، اور اس رزق سے جس کو تو کشادہ کرتا ہے، اس تکلیف سے جس کو تو ہٹا دیتا ہے، اور اس بلاء سے جس کو تو رفع فرماتا ہے، اور اس شر سے جس کو تو دفع کرتا ہے، اور اس فتنہ سے جس کو تو پھیر دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31256
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الطبراني (١٣٠٧٩)، ومسدد كما في المطالب (٣٤٠٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31256، ترقيم محمد عوامة 29897)
حدیث نمبر: 31257
٣١٢٥٧ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين عن عمرو بن مرة قال: قلت لسعيد بن المسيب ما تقولون إذا أصبحتم وأمسيتم مما تدعون به، قال: نقول: أعوذ (بوجه اللَّه) (١) الكريم واسم اللَّه العظيم وكلمة اللَّه التامة من شر السامة واللامة ومن شر ما (جهلت) (٢) أي رب، وشر ما أنت آخذ بناصيته ومن شر هذا اليوم وشر ما بعده، وشر (الدنيا) (٣) والآخرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مُرّہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب سے پوچھا : کہ آپ لوگ صبح و شام کے وقت کون سی دعا مانگتے ہو ؟ وہ فرمانے لگے : ہم یوں دعا کرتے ہیں : میں پناہ پکڑتا ہوں اللہ کی ذات کے ساتھ جو بہت سخی ہے، اور اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت عظمت والا ہے، اور اللہ کے پورے پورے کلمہ کے ساتھ، موت اور نظر بد کے شر سے، اے میرے مالک ! جس چیز سے میں ناواقف ہوں اس کے شر سے، اور جس کی پیشانی تو نے پکڑی ہوئی ہے اس کے شر سے، اور اس دن کے شر سے، اور جو کچھ اس دن کے بعد ہے اس کے شر سے، اور دنیا و آخرت کے شر سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31257
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31257، ترقيم محمد عوامة 29898)
حدیث نمبر: 31258
٣١٢٥٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن ربعي عن رجل من (النخع) (١) عن أبيه عن سلمان قال: من قال إذا أصبح وإذا أمسى: اللهم أنت ربي لا شريك لك، وأصبحنا وأصبح الملك (للَّه) (٢) لا شريك [له غفر له ما أحدث بينهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان ارشاد فرماتے ہیں : جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ کلمات کہے : اے اللہ ! آپ میرے پالنے والے ہیں آپ کا کوئی شریک نہیں ہے، ہم نے صبح کی اور اللہ کے ملک و سلطنت نے صبح کی، جس کا کوئی شریک نہیں، تو ان دونوں وقتوں کے درمیان اس نے جو گناہ کیے ہوں ان کی مغفرت کردی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31258
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31258، ترقيم محمد عوامة 29899)
حدیث نمبر: 31259
٣١٢٥٩ - حدثنا أبو الأحوص عن منصور بن ربعي عن رجل من النخع عن سلمان قال: من قال إذا أصبح: اللهم أنت ربي لا شريك] (١) لك كان كفارة لما ⦗١٥٨⦘ (أحدث) (٢) بينهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان ارشاد فرماتے ہیں : جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہے : اے اللہ ! آپ میرے پالنے والے ہیں آپ کا کوئی شریک نہیں ہے، تو یہ کلمات کفارہ بن جائیں گے اس کے ان کاموں کے لیے جو اس نے صبح و شام کے درمیان کیے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31259
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31259، ترقيم محمد عوامة 29900)
حدیث نمبر: 31260
٣١٢٦٠ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير (١) عن موسى الجهني قال: حدثني رجل عن سعيد بن جبير قال: من قال: ﴿(سُبْحَانَ) (٢) اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَ (سُبْحَانَ اللَّهِ) (٣) حِينَ تُصْبِحُونَ﴾ حتى يفرع من الآية ثلاث مرات أدرك ما (فاته من ليلته، وإن قالها ليلًا أدرك ما) (٤) فاته من يومه.
مولانا محمد اویس سرور
موسیٰ الجھنی ایک شخص کے حوالے سے حضرت سعید بن جُبیر کا ارشاد نقل فرماتے ہیں : جو شخص تین مرتبہ اس آیت کو پڑھے گا : اللہ کی پاکی ہے جب تم شام کرتے ہو اور جب تم صبح کرتے ہو، جب وہ یہ آیت پڑھ لے گا ، جو عمل اس سے گزری ہوئی رات میں رہ گیا تھا تو اس کے برابر ثواب پالے گا، اور اگر ان کلمات کو دن میں کہا تو جو عمل اس سے گزرے ہوئے دن میں رہ گیا تھا اس کے برابر ثوا ب پالے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31260
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31260، ترقيم محمد عوامة 29901)
حدیث نمبر: 31261
٣١٢٦١ - حدثنا حسن بن موسى عن حماد بن سلمة عن سهيل عن أبيه عن أبي عياش الزرقي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من قال حين يصبح: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، كان له كعدل رقبة من ولد إسماعيل، وكتبت له بها (عشر) (١) حسنات، و (حطت) (٢) (بها عنه) (٣) عشر سيئات، ورفعت له بها عشر درجات، وكان في حرز من الشيطان حتى يمسي، وإذا أمسى مثل ذلك حتى يصبح" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عیاش الزرقی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہے : نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے جو تنہا ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے تو اس شخص کو اسماعیل کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا، اور اس شخص کے لیے اس عمل کی وجہ سے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کے دس گناہوں کو مٹا دیا جائے گا، اور اس کے دس درجات بلند کیے جائیں گے، اور وہ شخص شام تک شیطان سے حفاظت میں رہے گا، اور جب شام کے وقت یہ کلمات کہے گا تو صبح تک یہ فوائد حاصل ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31261
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٦٥٨٣)، وأبو داود (٥٠٧٧)، وابن ماجه (٣٨٦٧)، والنسائي في الكبرى (٩٨٥٢)، والبخاري في التاريخ ٣/ ٣٨١، والطبراني (٥١٤١)، وابن السني (٦٣)، والدولابي ١/ ٤٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31261، ترقيم محمد عوامة 29902)
حدیث نمبر: 31262
٣١٢٦٢ - حدثنا حسن بن موسى عن حماد بن سلمة عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة قال: كان النبي ﷺ يقول إذا أصبح: "اللهم بك أصبحنا وبك أمسينا، وبك نحيا وبك نموت، وإليك المصير" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح ہوتی تو یہ کلمات کہا کرتے تھے : اے اللہ ! تجھ سے ہم نے صبح کی اور تجھ سے ہم نے شام کی، اور تیری وجہ سے ہم زندہ ہیں، اور تیرے حکم سے ہی ہم مریں گے، اور تیری طرف ہی لوٹنا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31262
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٨٦٤٩)، وأبو داود (٥٠٦٨)، والترمذي (٣٣٩١)، وابن ماجه (٣٨٦٨)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (٨)، وابن حبان (٩٦٥)، والبخاري في الأدب المفرد (١١٩٩)، وابن السني (٣٥)، والبغوي (١٣٢٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31262، ترقيم محمد عوامة 29903)
حدیث نمبر: 31263
٣١٢٦٣ - حدثنا الفضل بن دكين قال: (حدثني) (١) (فطر) (٢) قال: حدثني عبد اللَّه ابن عبيد بن عمير عن رجل من أصحاب محمد قال: من قال حين يصبح: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، بيده الخير وهو على كل شيء قدير، عشر مرات، رفع له عشر درجات ومحي عنه عشر سيئات وبرئ يؤمئذ (من) (٣) النفاق حتى يمسي، (وإن) (٤) قال حين يمسي كان مثل ذلك وبرئ من النفاق حتى يصبح (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے ایک شخص نے فرمایا : جو شخص صبح کے وقت دس مرتبہ یہ کلمات پڑھے گا : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو تنہا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کے لیے ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اسی کے قبضہ میں بھلائی ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ تو اس کے دس درجہ بلند کیے جاتے ہیں، اور اس کی دس برائیاں مٹا دی جاتی ہیں، اور وہ شخص اس دن شام تک نفاق سے بری ہوجاتا ہے، اور اگر شام کے وقت یہ کلمات کہے گا، تو اتنا ہی ثواب ملے گا، اور صبح تک نفاق سے بری ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31263
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31263، ترقيم محمد عوامة 29904)
حدیث نمبر: 31264
٣١٢٦٤ - حدثنا حسن بن موسى حدثنا حماد بن سلمة عن يحيى بن سعيد بن (حيان) (١) عن أبي (زرعة) (٢) (بن) (٣) عمرو بن (جرير) (٤) عن أبي هريرة عن كعب ⦗١٦٠⦘ قال: أجد في (التوراة) (٥) (من) (٦) قال (إذا أصبح) (٧): اللهم إني أعوذ باسمك وبكلماتك التامة [من الشيطان (الرجيم) (٨)، اللهم إني أعوذ باسمك وبكلماتك التامة من (عذابك) (٩) وشر عبادك، اللهم إني أسألك باسمك وكلماتك التامة] (١٠) من خير ما تسأل ومن خير ما تعطي ومن خير ما تبدي ومن خير ما تخفي، اللهم إني أعوذ (١١) وباسمك وبكلماتك التامة من شر ما تجلى به النهار، لم (تطق) (١٢) به الشياطين ولا (شيء) (١٣) يكرهه، وإذا قالهن إذا أمسى كمثل ذلك غير أنه يقول: من شر ما دجا به الليل (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا : میں نے تورات میں لکھا پایا تھا جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہے : اے اللہ ! میں آپ کے نام کے ساتھ اور آپ کے کامل کلمات کے ساتھ شیطان مردود سے پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ ! میں آپ کے نام کے ساتھ اور آپ کے کامل کلمات کے ساتھ آپ کے عذاب سے اور آپ کے بندوں کے شر سے پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ! میں آپ کے نام کے ساتھ اور آپ کے کامل کلمات کے ساتھ آپ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں جو آپ سے مانگی جاسکتی ہے، اور ہر اس خیر کا جو آپ عطا کرتے ہیں، اور ہر اس خیر کا جو آپ ظاہر کرتے ہیں، اور ہر اس خیر کا جو آپ چھپاتے ہیں، اے اللہ ! میں آپ کی آپ کے نام کے ساتھ اور آپ کے کامل کلمات کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں ہر اس شر سے جو دن میں ظاہر ہوتا ہے۔ تو شیطان اس شخص کے قریب بھی نہیں پھٹکیں گے، اور نہ ہی کوئی چیز اسے ناپسند لگے گی، اور جب ان کلمات کو شام کے وقت کہے گا تب بھی یہ فوائد حاصل ہوں گے، مگر یہ کہ آخری جملہ کی بجائے یوں کہے : اور ہر اس چیز کے شر سے جس کو رات نے چھپایا ہوا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31264
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح إلى كعب.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31264، ترقيم محمد عوامة 29905)