حدیث نمبر: 31235
٣١٢٣٥ - حدثنا ابن مبارك عن معمر عن سماك بن الفضل عن وهب بن منبه قال: مثل الذي يدعو بغير عمل (مثل الذي (يرمي) (١) (بغير) (٢) وتر) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک بن فضل فرماتے ہیں کہ حضرت وھب بن منبہ نے ارشاد فرمایا : مثال اس شخص کی جو عمل کیے بغیر دعا مانگتا ہے ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص بغیر کمان کے تیر پھینکتا ہے۔
حدیث نمبر: 31236
٣١٢٣٦ - حدثنا ابن نمير (حدثنا) (١) الأعمش عن مالك بن الحارث قال: كان ربيع يأتي علقمة (يوم الجمعة) (٢) قال: فأتاه ولم يكن ثمة، فجاء رجل فقال: ألا تعجبون من الناس، وكثرة دعائهم، وقلة إجابتهم؟ فقال ربيع: تدرون لم ذاك؟ إن اللَّه لا يقبل إلا (النخيلة) (٣) من الدعاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن حارث فرماتے ہیں : حضرت ربیع جمعہ کے دن حضرت علقمہ کے پاس تشریف لایا کرتے تھے حضرت مالک فرماتے ہیں : پس و ہ ایک مرتبہ تشریف لائے تو وہاں کوئی موجود نہیں تھا، پھر ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : کیا تمہیں تعجب نہیں ہوتا لوگوں کی کثرت سے دعا کرنے پر اور ان کی دعاؤں کے کم قبول ہونے پر ؟ اس پر حضرت ربیع نے فرمایا : کیا تم لوگوں کو اس کی وجہ معلوم ہے ؟ سنو ! یقینا اللہ تعالیٰ صرف اخلاص سے مانگی گئی دعا کو قبول فرماتے ہیں حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں : جب میں وہاں آیا تو حضرت علقمہ نے حضرت ربیع کے اس قول کے بارے میں مجھے بتلایا، تو میں حضرت ربیع سے کہا : کیا آپ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول نہیں سنا ؟ انہوں نے پوچھا : ان کا کیا قول ہے ؟ حضرت عبد الرحمن بن یزید نے فرمایا : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے : قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ تعالیٰ نہیں سنتے کسی گوییّ کی پکار کو، اور نہ ہی ریاکاری کرنے والے کی پکار کو، اور نہ ہی کھیل کود کرنے والے کی پکار کو، اور نہ ہی بلانے والے کی پکار کو مگر اس کی دعا سنتے ہیں جو دل کی گہرائیوں سے دعا مانگتا ہے۔
حدیث نمبر: 31237
٣١٢٣٧ - [قال عبد الرحمن بن يزيد: فلما جئت أخبرني علقمة بقول ربيع، فقلت له: أما سمعت قول عبد اللَّه؟ قال: وما ذاك؟ قال: قال عبد اللَّه] (١): والذي لا إله غيره لا يسمع اللَّه من مسمع ولا (مراءٍ) (٢) ولا لاعب ولا داع إلا داع دعا بتثبت من قلبه (٣).
حدیث نمبر: 31238
٣١٢٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مالك بن الحارث قال: يقول (اللَّه) (١): من شغله ذكري عن مسألتي أعطيته ⦗١٥٠⦘ فوق ما أعطي السائلين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت مالک بن حارث نے حدیث قدسی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : جس شخص کو میری یاد سوال کرنے سے غافل کر دے، تو میں اس کو سب مانگنے والوں میں سے زیادہ عطا کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 31239
٣١٢٣٩ - حدثنا يزيد بن هارون (قال) (١): حدثنا (٢) عبد الرحمن (أبو) (٣) (أمية) (٤) بن فضالة قال: حدثنا بكر بن عبد اللَّه المزني قال أبو ذر: يكفى من الدعاء مع البر ما يكفي الطعام من الملح (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر بن عبد اللہ المزنی فرماتے ہیں : حضرت ابو زر کا ارشاد ہے : دعا کے ساتھ نیکی کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کھانے میں نمک کی ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 31240
٣١٢٤٠ - حدثنا ابن نمير عن موسى بن (مسلم) (١) عن (عمرو) (٢) بن مرة رفعه قال: من شغله ذكري عن مسألتي أعطيته فوق ما أعطي السائلين -يعني الرب ﵎ (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مرۃ مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیث قدسی بیان فرمائی : جس شخص کو میری یاد سوال کرنے سے مشغول کر دے، تو میں اس شخص کو سب مانگنے والوں میں زیادہ عطا کرتا ہوں یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ، زیادہ عطا کرتے ہیں۔