حدیث نمبر: 31214
٣١٢١٤ - حدثنا أسباط عن عمرو بن قيس عن الحكم عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن كعب (١) بن عجرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "معقبات لا يخيب قائلهن (سبحان) (٢) اللَّه في دبر كل صلاة ثلاثًا وثلاثين، و (تحمد) (٣) ثلاثًا وثلاثين، و (تكبر) (٤) أربعًا وثلاثين" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب بن عجرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چند پیچھے آنے والے کلمات ایسے ہیں کہ ان کا کہنے والا کبھی خسارہ میں نہیں ہوتا، ہر نماز کے بعد ، سبحان اللہ تینتیس مرتبہ (٣٣) ، الحمد للہ تینتیس مرتبہ (٣٣) ، اللہ اکبر چونتیس مرتبہ (٣٤) ۔
حدیث نمبر: 31215
٣١٢١٥ - حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن كعب بن عجرة قال: ثلاث لا يخيب قائلهن أو قال: (قائلوهن) (١): يسبح ثلاثًا وثلاثين، (ويحمد) (٢) ثلاثًا وثلاثين، ويكبر أربعًا وثلاثين في دبر كل صلاة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم ، حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلی کے حوالے سے حضرت کعب بن عجرہ کا ارشاد نقل کرتے ہیں : تین کلمات ایسے ہیں کہ ان کا کہنے والا، یا فرمایا، ان کے کہنے والے، خسارہ میں نہیں ہوئے : تینتیس (٣٣) مرتبہ سبحان اللہ کہنا، اور تینتیس (٣٣) مرتبہ الحمد للہ کہنا، اور چونتیس (٣٤) مرتبہ اللہ اکبر کا کہنا، ہر نماز کے بعد ، حضرت حکم فرماتے ہیں : پھر میں نے کبھی بھی ان کلمات کو نہیں چھوڑا۔
حدیث نمبر: 31216
٣١٢١٦ - قال الحكم: فما (تركتهن) (١) بعد.
حدیث نمبر: 31217
٣١٢١٧ - حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن الحكم عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن كعب قال: معقبات لا يخيب قائلهن ثم ذكر مثل حديث وكيع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلی فرماتے ہیں کہ حضرت کعب کا ارشاد ہے : چند کلمات پیچھے آنے والے ایسے ہیں ان کا کہنے والا خسارہ میں نہیں ہوتا، پھر حضرت ابو الاحوص نے حضرت وکیع والی حدیث جیسا مضمون نقل فرمایا۔
حدیث نمبر: 31218
٣١٢١٨ - حدثنا وكيع عن يونس بن أبي إسحاق عن أبي بكر (بن) (١) أبي موسى عن أبي موسى أنه كان يقول إذا فرغ من صلاته: اللهم اغفر لي ذنبي، ويسر لي أمري، وبارك لي في رزقي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن ابی موسیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ جب نماز سے فارغ ہوتے تو یوں دعا فرماتے تھے : اے اللہ ! میرے گناہوں کو معاف فرما، اور میرے معاملہ کو آسان فرما، اور میرے رزق میں برکت عطا فرما۔
حدیث نمبر: 31219
٣١٢١٩ - حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا مسعر عن محمد بن عبد الرحمن عن طيسلة عن ابن عمر قال: من قال (١) دبر كل صلاة وإذا أخذ مضجعه: اللَّه أكبر كبيرا عدد الشفع والوتر وكلمات اللَّه التامات الطيبات المباركات -ثلاثًا، ولا إله إلا اللَّه مثل ذلك، كن له في قبره نورًا، وعلى الجسر نورًا، وعلى الصرط نورًا حتى يدخلنه الجنة -أو يدخل الجنة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طیسلہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے : جو شخص نماز پڑھنے کے بعد اپنی جگہ پر ہی بیٹھا رہے اور یہ کلمات کہے : اللہ بڑی کبریائی والا ہے، طاق اور جفت عدد کے مطابق، اور اللہ کے کلمات مکمل ، پاکیزہ اور بابرکات ہیں۔ تین مرتبہ، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، تین مرتبہ۔ تو یہ کلمات اس شخص کے لیے قبر میں نور بن جائیں گے، اور پل صراط پر نور بن جائیں گے، یہاں تک کہ اس بندے کو جنت میں داخل کروائیں گے یا فرمایا : وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 31220
٣١٢٢٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن علي أنه كان يقول: (١) تم نورك فهديت فلك الحمد، وعظم حلمك فعفوت فلك ⦗١٤٢⦘ الحمد، وبسطت يدك (فأعطيت) (٢) فلك الحمد، ربنا وجهك أكرم الوجوه، وجاهك خير الجاه، وعطيتك أفضل العطية وأهنأها، تطاع ربنا (فتشكر) (٣) وتعصى ربنا فتغفر، تجيب المضطر، وتكشف الضر، وتشفي السقيم وتنجي من الكرب، وتقبل التوبة، وتغفر (الذنب) (٤) لمن شئت، لا يجزئ (بآلائك) (٥) أحد، ولا يحصي (نعماءك) (٦) قول قائل -يعني (كل) (٧) يقول: بعد الصلاة (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن ضمرہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یوں دعا فرماتے تھے : تیرا نور مکمل ہوا پھر تو نے ہدایت عطا فرمائی، پس تیرے لیے ہی تمام تعریفیں ہیں، اور تیری حلم و برد باری عظیم ہوئی پھر تو نے در گزر فرمایا ، پس تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، اور تیرا ہاتھ کشادہ ہوا، پھر تو نے عطا فرمایا پس تیرے لیے ہی تمام تعریفیں ہیں، ہمارے رب ! تیرا چہرہ تمام چہروں میں معزز ترین ہے، اور تیرا مرتبہ سب مرتبوں والے سے بہتر ہے، اور تیرا عطیہ افضل ترین اور فائدہ مند عطیہ ہے، ہمارے رب کی اطاعت کی جائے تو وہ ممنون ہوتا ہے، اور ہمارے رب کی نافرمانی کی جائے تو وہ مغفرت کرتا ہے، اور مجبور و پریشان کی پکار کا جواب دیتا ہے، اور تو مصیبت و تکلیف کو دور کرتا ہے، اور تو بیماروں کو شفا دیتا ہے، اور جس کے لئے چاہتا ہے گناہوں کو معاف کردیتا ہے، کوئی شخص بھی تیری نعمتوں کا بدلہ نہیں دے سکتا، اور کہنے والے کی بات تیری نعمتوں کو شمار نہیں کرسکتی، یہ سب کلمات آپ فرض نماز کے بعد کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 31221
٣١٢٢١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمير بن (سعيد) (١) قال: كان عبد اللَّه (يدعو) (٢) (٣) بهذه الدعوات بعد التشهد: اللهم إني أسالك من الخير كله ما علمت (منه) (٤) وما لم أعلم، (وأعوذ بك من الشر كله ما علمت منه وما لم أعلم) (٥)، (اللهم) (٦) إني أسألك خير ما سألك عبادك الصالحون، وأعوذ بك من شر ما عاذ منه عبادك الصالحون، ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا ⦗١٤٣⦘ عذاب النار، ربنا إننا آمنا فاغفر لنا ذنوبنا وكفر عنا سيئاتنا وتوفنا مع الأبرار، ربنا (و) (٧) آتنا ما وعدتنا على رسلك ولا تخزنا يوم القيامة إنك لا تخلف الميعاد (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیربن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نماز میں تشھد کے بعد یہ دعائیں مانگا کرتے تھے : اے اللہ ! میں آپ سے تمام بھلائی کا سوال کرتا ہوں چاہے میں جانتا ہوں یا نہ جانتا ہوں، اور میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں مکمل شر سے، میں اس کو جانتا ہوں یا نہ جانتا ہوں، اے اللہ ! میں آپ سے اس بھلائی کا سوال کرتا ہوں جس کا آپ کے نیک بندوں نے آپ سے سوال کیا ہے، اور میں اس شر سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں جس کے شر سے آپ کے نیک بندوں نے پناہ مانگی ہے۔ اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں خوبی اور آخرت میں خوبی دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا، اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے، اب ہمارے گناہ بخش دے، اور ہم سے ہماری برائیں دور کر دے، اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کرنا، یقینا تو اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 31222
٣١٢٢٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن زياد بن فياض قال: سمعت (١) مصعب بن سعد يحدث عن سعد أنه كان إذا تشهد قال: سبحان اللَّه ملء السماوات وملء الأرض وما بينهما وما تحت الثرى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت سعد جب تشھد پڑھ لیتے پھر یہ دعا فرماتے : اللہ ہی کے لیے پاکی ہے جس سے آسمان بھر جائیں اور زمین بھر جائے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے وہ بھر جائے اور جو کچھ زمین کے نیچے ہے وہ بھر جائے۔ حضرت شعبہ فرماتے ہں ہ : میں نہیں جانتا : پہلے اللہ سب سے بڑا ہے کہا یا یوں کہا : اللہ ہی کے لئے سب تعریفیں ہیں تعریف ، پاکیزہ اور بابرکت ہے، نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللہ کے جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اس ہی کا ملک ہے اور اس کے لیے ہی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، اے اللہ ! میں آپ سے تمام بھلائی کا سوال کرتا ہوں، پھر حضرت سعد سلام پھیر دیتے۔
حدیث نمبر: 31223
٣١٢٢٣ - قال (شعبة) (١): لا أدري اللَّه أكبر قبل أو الحمد للَّه حمدًا طيبًا مباركًا فيه لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير اللهم إني اسألك من الخير كله، ثم يسلم.
حدیث نمبر: 31224
٣١٢٢٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن المسيب بن رافع عن وراد مولى المغيرة قال: كتب معاوية إلى المغيرة بن شعبة: أي شيء كان رسول اللَّه ﷺ يقول إذا سلم في الصلاة؟ قال: فأملاها علي المغيرة قال: فكتبت بها إلى معاوية أن رسول اللَّه ﷺ كان يقول إذا سلم: "لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وراد جو کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں : حضرت معاویہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کو خط لکھا اور پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد کون سے کلمات فرماتے تھے ؟ حضرت وراد کہتے ہیں کہ حضرت مغیرہ نے وہ کلمات مجھے لکھوا دیے، اور وہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے یہ کلمات لکھ کر حضرت معاویہ کے پاس بھیج دیے، یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سلام پھیرتے تھے تو فرماتے : ” نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللہ کے ، جو کہ تنہا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اس کا ہی ملک ہے اور اسی کے لیے تعریفیں ہیں۔ اور وہ ہر چیزپر قدرت رکھنے والا ہے، اے اللہ ! جس کو تو دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں، اور جس سے تو روک لے اس کو کوئی دینے والا نہیں، اور کسی شان والے کو اس کی شان تیرے ہاں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔
حدیث نمبر: 31225
٣١٢٢٥ - حدثنا ابن نمير حدثنا الأعمش عن عمرو بن مرة قال: حدثني شيخ عن صلة بن زفر قال: سمعت ابن عمر يقول في دبر الصلاة: ⦗١٤٤⦘ اللهم أنت السلام ومنك السلام، تباركت (يا) (١) (ذا) (٢) الجلال والإكرام (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صلۃ بن زفر فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو نماز کے بعد یہ کلمات کہتے سنا : ” اے اللہ ! تو سلامتی والا ہے، اور تجھ سے ہی سلامتی ہے، تو برکت والا ہے، اے صاحب عظمت اور بزرگی والے۔ “ پھر میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز پڑھی تو انہیں بھی یہی کلمات فرماتے ہوئے سنا، تو میں نے ان سے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی یہی کلمات فرماتے سنا ہے جو آپ نے ادا کیے، تو حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : یقینا میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کے آخر میں یہ کلمات پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
حدیث نمبر: 31226
٣١٢٢٦ - ثم صليت إلى جنب عبد اللَّه بن عمرو (فسمعته) (١) يقوله، فقلت له: إني سمعت ابن عمر يقول مثل الذي تقول، فقال عبد اللَّه بن عمرو: إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقولهن في آخر صلاته (٢).
حدیث نمبر: 31227
٣١٢٢٧ - حدثنا عبدة عن هشام بن عروة عن أبي الزبير مولى لهم أن عبد اللَّه بن الزبير كان (يهلل) (١) دبر كل صلاة (٢) يقول: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، ولا حول ولا قوة إلا باللَّه، ولا نعبد إلا إياه، له النعمة، وله (الفضل) (٣)، وله الثناء الحسن، لا إله إلا اللَّه مخلصين له الدين ولو كره الكافرون، ثم يقول ابن الزبير: كان رسول اللَّه ﷺ (يهلل) (٤) بهن دبر كل صلاة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الزبیر جو کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر ہر نماز کے بعد یوں کلمہ پڑھا کرتے تھے : نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے جو تنہا ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اس ہی کا ملک ہے، اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، گناہوں سے بچنے اور نیکی کے کرنے کی طاقت صرف اللہ کی مدد سے ہے، اور ہم اس کی ہی عبادت کرتے ہیں، اسی کی نعمت ہے، اور اسی کی مہربانی ہے، اور اس کے لیے اچھی تعریف ہے، نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کی ذات کے ، دین کے لیے اخلاص اپنائے ہوئے اگرچہ کافروں کو بُرا ہی لگے۔ پھر حضرت عبد اللہ بن زبیر فرماتے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر نماز کے بعد یہی کلمات فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 31228
٣١٢٢٨ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن (أبيه) (١) قال: أتى علي بن أبي طالب ﵁ (٢) عند فاطمة ﵂ (٣) فقال: إني أشتكي صدري مما (أمد بالغرب) (٤) قالت: وأنا (واللَّه) (٥) إني أشتكي يدي مما أطحن الرحا، فقال لها: (ائتي) (٦) النبي ﷺ فقد أتاه (سبي) (٧)، (ائتيه) (٨) لعله يخدمك خادمًا، (فانطلقا) (٩) إلى النبي ﷺ، فأتاهما فقال: "إنكما جئتماني لأخدمكما خادما وإني سأخبركما بما هو خير لكما من الخادم، فإن شئتما أخبرتكما بما هو خير لكما من الخادم: (تسبحانه) (١٠) دبر كل صلاة ثلاثًا وثلاثين، وتحمدانه ثلاثًا وثلاثين، وتكبرانه أربعا وثلاثين، وإذا أخذتما مضاجعكما من الليل فتلك (مائة) (١١)، قال علي ﵁ (١٢): (فما) (١٣) (أعلمني) (١٤) (تركتها) (١٥) بعد؛ قال له ⦗١٤٦⦘ (عبد اللَّه) (١٦) بن الكواء: ولا ليلة صفين؟ فقال له علي: قاتلكم اللَّه يا أهل العراق، ولا ليلة (صفين) (١٧) (١٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سیائب فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت فاطمۃ الزہرائ کے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے : کنویں کا ڈول کھینچنے کی وجہ سے میرا سینہ درد کر رہا ہے، تو حضرت فاطمۃ الزہرائ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! چکی پیسنے کی وجہ سے میرے ہاتھوں میں بھی درد رہتا ہے، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ، تحقیق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چند غلام آئے ہیں، تم ان کے پاس جاؤ تو شاید وہ تمہیں خدمت کے لیے کوئی خادم عطا فرما دیں۔ پھر یہ دونوں حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلے جب دونوں پہونچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم دونوں میرے پاس اس لیے آئے ہو کہ میں تمہیں خدمت کے لیے کوئی خادم عطا کروں، اور یقینا میں تمہیں عنقریب ایک ایسی چیز بتاؤں گا جو تمہارے لیے خادم سے بھی بہتر ہوگی، اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں وہ چیز بتادوں جو تمہارے حق میں خادم سے بھی بہتر ہے : ” تم دونوں ہر نماز کے بعد اور جب رات کو بستر پر لیٹنے لگو تو تینتیس (٣٣) مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس (٣٣) مرتبہ الحمد للہ، اور چونتیس (٣٤) مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو، تو یہ پورے سو (١٠٠) ہوجائیں گے۔ “ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے یاد نہیں اس کے بعد کبھی میں نے ان کلمات کو چھوڑا ہو، اس پر عبد اللہ بن الکواء کہنے لگا : جنگ صفین کی رات کو بھی نہیں، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے عرا ق والو ! اللہ تمہیں ہلاک کرے، جنگ صفین کی رات کو بھی نہیں چھوڑے۔
حدیث نمبر: 31229
٣١٢٢٩ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبيه عن عبد اللَّه بن عمرو قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (خلقان) (١) لا يحافظ عليهما رجل إلا دخل الجنة، هما يسير ومن يفعلهما قليل"، قيل: ما هما يا رسول اللَّه؟ قال: "الصلوات الخمس يسبح الرجل في دبر كل صلاته عشرًا، ويحمد عشرًا، ويكبر عشرًا، فذلك خمسون ومائة على اللسان، وألف (وخمسمائة) (٢) في الميزان"، قال: ولقد رأيت رسول اللَّه ﷺ يعدهن في يده، ويسبح ثلاثًا وثلاثين، ويحمد ثلاثًا وثلاثين، ويكبر أربعًا وثلاثين، عند مضجعه من الليل، (فذلك) (٣) مائة على اللسان، وألف في الميزان، فأيكم يذنب في الليلة ألفين وخمسمائة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دو اچھی عادتیں ایسی ہیں کہ جو شخص ان عادات کی حفاظت کرے گا تو جنت میں داخل ہوگا، یہ دونوں آسان ہیں اور پھر بھی ان کے کرنے والے تھوڑے ہیں، پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول ! وہ دو عادات کون سی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پانچ نمازیں ہیں، جو شخص ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ، اور دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہے گا تو یہ زبان سے کہنے کے اعتبار سے ڈیڑھ سو (١٥٠) ہیں اور ترازو پر وزن کرنے کے اعتبار سے ڈیڑھ ہزار (١٥٠٠) ہوں گی، حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو انگلیوں پر بھی شمار فرمایا اور دوسری (٢) اچھی عادت یہ ہے کہ آدمی رات کو بستر پر لیٹتے وقت تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہے گا، تو یہ زبان سے کہنے کے اعتبار سے سو (١٠٠) ہیں اور ترازو پر وزن کے اعتبار سے ہزار ہوں گے ۔ پس تم میں سے کون ہے جو رات کو ڈھائی ہزار گناہ کرتا ہو ؟ “
حدیث نمبر: 31230
٣١٢٣٠ - حدثنا شبابة (حدثنا) (١) شعبة عن موسى بن أبي عائشة عن مولى لأم سلمة عن أم سلمة أن النبي ﷺ (كان) (٢) يقول إذا صلى الصبح حين يسلم: "اللهم (إني) (٣) أسالك علمًا نافعًا، ورزقًا طيبًا، وعملًا متقبلًا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام المؤمنین ام سلمہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھ کر سلام پھیرتے تو یوں دعا فرماتے تھے : اے اللہ ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں نفع پہنچانے والے علم کا، اور پاکیزہ رزق کا اور مقبول عمل کا۔
حدیث نمبر: 31231
٣١٢٣١ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن هلال بن يساف عن زاذان قال: حدثني رجل من الأنصار قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ (يقول) (١) في (دبر) (٢) الصلاة: "اللهم اغفر لي، وتب علي، إنك أنت التواب الغفور: مائة مرة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایک انصاری صحابی فرماتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے بعد سو مرتبہ یہ دعا فرمائی : اے اللہ ! میری مغفرت فرما، اور میری توبہ قبول فرما، یقینا تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور مغفرت فرمانے والا ہے۔
حدیث نمبر: 31232
٣١٢٣٢ - حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم عن أبي عمر (الصيني) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں : میں نے ایک دن کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مالدار لوگ اجر وثواب میں ہم سے بڑھ گئے ہیں۔ وہ لوگ نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں، اور وہ لوگ روزے رکھتے ہیں جیسا کہ ہم روزے رکھتے ہیں، اور وہ لوگ حج بھی کرتے ہیں جیسا کہ ہم حج کرتے ہیں، اور وہ صدقہ بھی دیتے ہیں، اور ہم اتنا مال ہی نہیں پاتے جس کا صدقہ کریں ؟ حضرت ابو الدرداء کہتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کو اگر تم کرو گے تو سبقت کرنے والوں کے اجر کو پہنچ جاؤ گے اور تمہارے بعد تمہارے اجر تک صرف وہی پہنچ سکے گا جو تمہاری طرح یہ عمل کرے گا : ” تم لو گ ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، اور تینتیس مرتبہ الحمد اللہ، اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہا کرو۔ “
حدیث نمبر: 31233
٣١٢٣٣ - (و) (١) عن سفيان عن عبد العزيز بن رفيع سمعه من (أبي) (٢) عمر عن أبي الدرداء قال: قلت: يا رسول اللَّه ذهب الأغنياء بالأجر، يصلون كما نصلي، ويصومون كما نصوم، ويحجون كما نحج، ويتصدقون ولا نجد ما نتصدق (٣)، قال: فقال: "ألا أدلكم على شيء إذا فعلتموه أدركتم من سبقكم، ولا يدرككم من بعدكم إلا من عمل بالذي تعملون: تسبحون اللَّه ثلاثًا وثلاثين، وتحمدونه ثلاثًا (وثلاثين) (٤)، وتكبرونه أربعًا وثلاثين في دبر كل صلاة" (٥).
حدیث نمبر: 31234
٣١٢٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد عن (الركين) (٢) بن الربيع عن أبيه قال: كان عمر إذا انصرف من صلاته قال: اللهم أستغفرك لذنبي، وأستهديك (لمراشد) (٣) أمري، وأتوب (إليك) (٤) فتب علي، اللهم أنت ربي فاجعل رغبتي إليك، واجعل غنائي في صدري، وبارك لي فيما رزقتني وتقبل مني إنك أنت ربي (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع فرماتے ہیں کہ حضرت عمر جب نماز سے فارغ ہوتے تو یوں دعا فرماتے : اے اللہ ! میں آپ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہوں، اور میں آپ سے اپنے امور کے مقاصد میں رہنمائی طلب کرتا ہوں، اور میں آپ سے معافی مانگتا ہوں پس آپ میری معافی کو فرما لیجیئے، اے اللہ ! آپ میرے مالک ہیں پس اپنی طرف میرے رزق کو بڑھا دیجیئے، اور میرے سینے میں اپنے ما سوا سے بےنیازی عطا فرما دیجیئے، اور جو آپ نے مجھے رزق عطا فرمایا ہے اس میں برکت عطا فرما دیجیئے، اور قبو کر میری دعا، یقینا آپ میرے مالک ہیں۔