کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو آدمی رات کو نیند سے جاگ جائے تو وہ کیا دعا کرے؟
حدیث نمبر: 31200
٣١٢٠٠ - حدثنا ابن فضيل عن عبد الرحمن بن إسحاق عن القاسم بن عبد الرحمن عن (عبد اللَّه) (١) بن مسعود أنه قال: من تعار من الليل فقال: لا إله إلا أنت، رب ظلمت نفسي فاغفر لي، (إلا) (٢) خرج من ذنوبه كما تخرج الحية من سلخها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جو شخص رات کو نیند سے جاگ جائے پھر وہ یہ کلمات کہہ لیا کرے : نہیں ہے کوئی معبود سوائے تیرے، اے میرے مالک ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے تو میری مغفرت فرما دے، تو وہ شخص گناہوں سے اس طرح پاک و صاف ہو کر نکلے گا جیسے سانپ اپنی کچیلی سے نکلتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31200
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ عبد الرحمن بن إسحاق ضعيف، والقاسم لم يسمع من ابن مسعود.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31200، ترقيم محمد عوامة 29848)
حدیث نمبر: 31201
٣١٢٠١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عمرو بن مرة عن سالم بن أبي الجعد ⦗١٣٦⦘ عن زيد بن صوحان عن سلصان أنه كان إذا تعار من الليل قال: سبحان رب النبيين و (إله) (١) المرسلين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن صوحان فرماتے ہیں : حضرت سلمان جب رات کو نیند سے بیدار ہوجاتے تو فرماتے : پاک ہے وہ ذات جو نبیوں کو پالنے والا ہے اور رسولوں کا معبود ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31201
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31201، ترقيم محمد عوامة 29849)
حدیث نمبر: 31202
٣١٢٠٢ - حدثنا إسحاق بن منصور عن هريم عن عبد الرحمن بن إسحاق عن أبي كثير مولى أم سلمة أن أم سلمة كانت إذا تعارت من الليل تقول: رب اغفر وارحم واهد السبيل الأقوم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو کثیر جو کہ ام المؤمنین ام سلمہ کے آزاد کردہ غلام فرماتے ہیں : حضرت ام سلمہ جب رات کو نیند سے جاگ جاتیں تو یہ دعا فرماتیں : میرے مالک ! تو بخشش فرما اور رحم فرما، اور سیدھے راستہ کی طرف ہدایت نصیب فرما۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31202
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31202، ترقيم محمد عوامة 29850)
حدیث نمبر: 31203
٣١٢٠٣ - حدثنا بكر بن عبيد (حدثنا) (١) عيسى بن المختار عن محمد بن أبي ليلى عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن (عبد اللَّه) (٢) أنه كان إذا تحرك من الليل قال: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُبِينًا﴾ (٣) [النساء: ١٧٤].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الاحوص فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب رات کو جاگ جاتے تو فرماتے : اے لوگو ! (تحقیق تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے دلیل آچکی، اور ہم نے تمہاری طرف کھلے روشن نور کو اتارا) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31203
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لسوء حفظ ابن أبي ليلى.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31203، ترقيم محمد عوامة 29851)