حدیث نمبر: 31192
٣١١٩٢ - حدثنا أبو الأحوص عن سعيد بن مسروق عن سلمة بن كهيل عن أبي (رشدين) (١) كريب مولى ابن عباس قال: قال ابن عباس: بت عند خالتي ميمونة فسمعت النبي ﷺ يقول في سجوده: "اللهم اجعل في قلبي نورًا، وفي سمعي نورًا، واجعل في بصري نورا، واجعل أمامي نورا، واجعل خلفي نورا، واجعل من تحتي نورا، وأعظم لي نورا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین حضرت میمونہ کے پاس گزاری، پس میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں یہ دعا فرما رہے تھے : اے اللہ ! میرے دل میں نور کو ڈال دے، اور میرے کان میں نور ڈال دے ، اور میری آنکھوں میں نور ڈال دے، اور میرے آگے نور عطا فرما اور میرے پیچھے نور عطا فرما، اور میرے نیچے سے نور ہی نور کر دے اور مجھ کو نور عظیم عطا کر دے۔
حدیث نمبر: 31193
٣١١٩٣ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر عن عاصم عن زر بن حبيش عن علي قال: من أحب الكلم إلى اللَّه أن يقول العبد وهو ساجد: ظلمت نفسي فاغفر لي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ کے نزدیک محبوب ترین کلمہ یہ ہے : کہ اس کا بندہ سجدہ کی حالت میں یہ کلمات کہے : میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے پس تو میری بخشش فرما۔
حدیث نمبر: 31194
٣١١٩٤ - حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد عن (ثوير بن) (٢) أبي فاختة عن مجاهد قال: قال أبو سعيد الخدري: ما وضع رجل جبهته للَّه ساجدًا فقال: يا رب اغفر لي ⦗١٣٤⦘ - يا رب اغفر لي يا رب اغفر لي ثلاثًا، إلا رفع رأسه وقد غفر له (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری نے ارشاد فرمایا : جب کوئی آدمی سجدے کی حالت میں اپنی پیشانی اللہ کے سامنے جھکاتا ہے پھر تین مرتبہ یہ کلمات کہتا ہے : اے میرے پالنے والے ! میری بخشش کردیجیے۔ اے میرے پالنے والے ! میری بخشش کردیجیے۔ اے میرے پالنے والے ! میری بخشش کردیجیے۔ پھر جب سجدہ سے وہ اپنا سر اٹھاتا ہے تو اس کی مغفرت کردی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 31195
٣١١٩٥ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر عن عاصم قال: كان أبو وائل يقول وهو ساجد: رب إن تعفُ عني تعفُ عن طَوْل منك، وإن تعذبني تعذبني غير ظالم ولا مسبوق، ثم يبكي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں : کہ حضرت ابو وائل سجدے کی حالت میں یوں دعا فرماتے تھے : اے میرے مالک ! اگر آپ مجھے معاف کریں گے تو یہ معاف کرنا آپ کی مہربانی سے ہوگا اور اگر مجھے عذاب دیں گے تو عذاب دینے میں آپ نہ تو ظلم کرنے والے ہوں گے اور نہ ہی حد سے بڑھا ہوا عذاب دیں گے، پھر حضرت ابو وائل رونے لگتے۔
حدیث نمبر: 31196
٣١١٩٦ - حدثنا ابن فضيل عن محمد بن (سعد) (١) الأنصاري قال: (حدثنا) (٢) عبد اللَّه بن (يزيد) (٣) بن ربيعة الدمشقي قال: قال أبو الدرداء: أدلجت ذات ليلة (إلى) (٤) المسجد، فلما دخلت مررت على رجل (وهو) (٥) ساجد وهو يقول: اللهم إني خائف مستجير فأجرني من عذابك، وسائل فقير فارزقني من فضلك، لا (بريءٌ) (٦) (من ذنبٍ) (٧) فأعتذر، ولا ذو قوة فانتصر، ولكن مذنب مستغفر، (قال) (٨): فأصبح أبو الدرداء يعلمهن أصحابه (اعجابا) (٩) (بهن) (١٠) (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن یزید دمشقی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء نے ارشاد فرمایا : میں ایک رات مسجد میں داخل ہوا، جب میں داخل ہوگیا تو میرا گزر ایک آدمی پر ہوا جو سجدے کی حالت میں یہ دعا کر رہا تھا : اے اللہ ! میں ڈرنے والا، پناہ مانگنے والا ہوں پس آپ مجھے اپنے عذاب سے پناہ دیجیے، اور میں سوالی ، بھیک مانگنے والا ہوں آپ اپنی مہربانی سے مجھے رزق عطا فرما دیجیے، اور میں گناہوں سے بری نہیں ہوں آپ میرا عذر قبول فرما لیجیے، اور نہ ہی میں طاقت والا ہوں آپ ظالموں سے میری حفاظت فرما دیجیے، لیکن میں گناہ کر کے معافی مانگنے والا ہوں پھر حضرت ابو الدرداء یہ دعا اپنے شاگردوں کو سکھلانا شروع کردی پسند آنے کی وجہ سے۔
حدیث نمبر: 31197
٣١١٩٧ - حدثنا ابن فضيل عن عبد الرحمن بن إسحاق عن محارب بن دثار عن ابن عمر قال: إذا سجد أحدكم فليقل: رب إني ظلمت نفسي فاغفر لي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محارب بن دثار فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کیا کرے تو وہ یہ کلمات کہے : اے میرے رب ! میں نے اپنی جان سے ظلم کیا ہے تو میری مغفرت فرما۔ حضرت محارب فرماتے ہیں : کیونکہ آدمی اس حالت میں اللہ کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 31198
٣١١٩٨ - قال محارب؛ فإنه أقرب ما يكون إلى اللَّه ﷿.
حدیث نمبر: 31199
٣١١٩٩ - حدثنا عبيدة بن حميد عن منصور عن إبراهيم عن عائشة قالت: طلبت رسول اللَّه رشِل ليلة فلم أجده قالت: فظننت أنه أتى بعض جواريه أو نسائه، قالت: فرأيته وهو ساجد وهو يقول: "اللهم اغفر لي ما أسررت وما أعلنت" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاش کیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ پاس کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : مجھے گمان ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی باندی یا بیوی کے پاس نہ چلے گئے ہوں، فرماتی ہیں کہ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدے کی حالت میں پا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا پڑھ رہے تھے : اے اللہ ! میری مغفرت فرما ان کاموں سے جو میں نے چھپ کر کیے ہوں یا اعلانیہ کیے ہوں۔