کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: استسقاء میں کیا دعا مانگی جائے؟
حدیث نمبر: 31186
٣١١٨٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن سالم بن أبي الجعد عن شرحبيل بن السمط قال: قلنا لكعب بن مرة: يا كعب، حدثنا عن رسول اللَّه ﷺ قال: كنا عند رسول اللَّه ﷺ فجاءه رجل، فقال: يا رسول اللَّه، استسق اللَّه لمضر قال: فرفع رسول اللَّه ﷺ (يديه) (١) فقال: اللهم اسقنا غيثًا مريعًا مريئًا عاجلًا غير (رائث) (٢)، نافعًا غير ضار"، قال: فما جمعوا حتى (أجيبوا) (٣)، فأتوه فشكوا إليه (المطر) (٤) فقالوا: يا رسول اللَّه، (قد) (٥) تهدمت البيوت فقال (رسول اللَّه ﷺ بيده) (٦): "اللهم حوالينا ولا علينا"، قال: فجعل السحاب (يتقطع) (٧) يمينًا وشمالًا (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شرحبیل بن السِّمط فرماتے ہیں : ہم نے حضرت کعب بن مرّہ سے کہا : آپ ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کریں ؟ پس وہ فرمانے لگے : ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! قبیلہ مضر والوں کے لیے پانی کی دعا فرمائیے، حضرت کعب فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی : اے اللہ ! ہمں ا سیراب کر دے ایسی بارش سے جو زمین کو سبز و شاداب کر دے، نفع بخش ہو، جلد آئے نہ کہ دیر سے، فائدہ پہنچانے والی ہو نہ کہ نقصان پہنچانے والی ہو، حضرت کعب فرماتے ہیں : لوگوں نے ابھی ایک جمعہ بھی نہیں گزارا تھا یہاں تک کہ اتنی بارش ہوئی کہ زمین سرسبز و شاداب ہوگئی، پس لوگ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بارش کی شکایت کرنے لگے، پس لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تحقیق گھر گرنے لگے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر دعا فرمائی : اے اللہ ! ہمارے ارد گرد بارش نازل فرما اور ہم پر مت نازل کر، حضرت کعب فرماتے ہیں : کہ یکایک بادل دائیں اور بائیں چَھٹ گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31186
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31186، ترقيم محمد عوامة 29835)