حدیث نمبر: 31161
٣١١٦١ - حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد عن منصور عن الشعبي قال: (قالت) (٢): أم سلمة: كان النبي ﷺ إذا خرج قال: "اللهم إني أعوذ بك (من) (٣) (أن) (٤) أزل أو (أ) (٥) ضل أو أظلم (أو أظلم) (٦)، أو أجهل أو يجهل علي" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے نکلتے تھے تو یوں دعا فرماتے : اے اللہ ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں لغزش کروں یا میں گمرا ہ ہوں، یا میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر کوئی ظلم کرے، یا میں کسی کو ناواقف رکھوں یا کوئی مجھے ناواقف بنائے۔
حدیث نمبر: 31162
٣١١٦٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن الشعبي عن أم سلمة عن النبي ﷺ بنحو منه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ سے اس سند کے ساتھ بی، ماقبل حدیث جیسا مضمون مروی ہے۔
حدیث نمبر: 31163
٣١١٦٣ - حدثنا وكيع عن فضيل بن مرزوق عن عطية عن أبي سعيد قال: من قال إذا خرج إلى الصلاة: اللهم إني أسألك بحق السائلين عليك، وبحق ممشاي هذا، لم (أخرجه) (١) أشرا ولا بطرا ولا رياء ولا سمعة، (خرجته) (٢) ابتغاء مرضاتك ⦗١٢٤⦘ واتقاء سخطك، أسألك أن تنقذني من النار وأن تغفر لي ذنوبي، إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت، (إلا) (٣) أقبل اللَّه عليه بوجهه حتى ينصرف ووكل به سبعون ألف ملك يستغفرون له (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے جائے اور یہ دعا پڑھے : اے اللہ ! میں آپ سے اس حق کے ساتھ سوال کرتا ہوں جو مانگنے والوں کا آپ پر ہے، اور اپنے اس چلنے کے حق کے ساتھ، میں نہیں نکلا غرور کرتے ہوئے اور نہ ہی اکڑ کر چلتے ہوئے، اور نہ ہی ریاکاری کے لیے، اور نہ ہی شہرت حاصل کرنے کے لیے، میں تو آپ کی رضا کی چاہت میں نکلا ہوں، اور آپ کی ناراضگی سے بچنے کے لیے، اور میں آپ سے سوال کرتاہوں کہ آپ مجھے جہنم سے بچا لیں اور آپ میرے گناہوں کی بخشش فرما دیجیے، یقینا آپ کے سوا کوئی بھی گناہوں کی بخشش کرنے والا نہیں ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنے چہرے کے ساتھ اس بندے کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے، اور اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتوں کی ذمہ داری لگا دیتے ہیں وہ اس شخص کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 31164
٣١١٦٤ - حدثنا ابن نمير عن الأعمش عن مجاهد عن ابن (ضمرة) (١) عن كعب قال: إذا خرج الرجل من منزله (استقبلته الشياطين) (٢) فإذا قال: بسم اللَّه، قالت الملائكة، هديت، وإذا قال: توكلت على اللَّه، قالت: كفيت، وإذا قال: لا حول ولا قوة إلا باللَّه، قالت: حفظت، فتقول الشياطين بعضها لبعض: ما سبيلكم على من كفي وهدي و (حفظ) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنے گھر سے نکلتا ہے تو بہت سارے شیاطین اس کا استقبال کرتے ہیں، پس جب وہ کہتا ہے : میں اللہ کا نام لے کر گھر سے نکلا ، فرشتے کہتے ہیں : تجھے ہدایت دی گئی، اور جب وہ آدمی کہتا ہے : میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں، فرشتے کہتے ہیں : تیری کفایت کی گئی ہے، اور جب وہ آدمی کہتا ہے : گناہوں سے بچنے اور عبادت کرنے کی طاقت اللہ ہی کی طرف سے ہے، فرشتے کہتے ہیں : تیری حفاظت کی گئی ہے۔ پس پھر شیاطین ایک دوسرے سے کہتے ہیں : تم لوگ کیسے اس شخص پر سرکشی کرسکتے ہو جس کی کفایت کی گئی ہو، اور جس کو ہدایت دی گئی ہو، اور جس کی حفاظت کی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 31165
٣١١٦٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن مجاهد عن عبد اللَّه بن ضمرة عن كعب الأحبار قال: إذا خرج من بيته فقال: بسم اللَّه، توكلت على اللَّه، (و) (١) (لا حول و) (٢) لا قوة إلا باللَّه، بلغت الشياطين بعضهم بعضا قالوا: هذا عبد قد هدي وحفظ وكفي فلا سبيل لكم عليه فيتصدعون عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب احبار فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے گھر سے نکلتا ہے اور یہ کلمات کہتا ہے : میں اللہ کا نام لے کر گھر سے نکلا، اور میں نے اللہ پر ہی بھروسہ کیا، اور گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت اللہ ہی کی طرف سے ہے تو شیاطین ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور کہتے ہیں : اس شخص کو ہدایت دی گئی ہے۔ اور اس کی حفاظت کی گئی ہے، اور اس کی کفایت کی گئی ہے، پس تمہیں اس پر کوئی تسلط حاصل نہیں ہے، پھر وہ اس بندے سے دور ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور اس سے باز رہتے ہیں۔