کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: دعا ء میں پختہ یقین کا بیان
حدیث نمبر: 31120
٣١١٢٠ - حدثنا ابن علية عن عبد العزيز بن صهيب عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا دعا أحدكم فليعزم في الدعاء، ولا يقل: اللهم إن شئت (١)، فإن اللَّه لا مستكره (له) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ : جب بھی تم میں سے کوئی ایک دعا کرے تو اس کو چاہیے پختہ یقین کے ساتھ دعا کرے، ایسا مت کہے : اے اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھے عطا فرما، پس یقینا اللہ تعالیٰ کو کوئی مجبور نہیں کرسکتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31120
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٣٣٨)، ومسلم (٢٦٧٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31120، ترقيم محمد عوامة 29772)
حدیث نمبر: 31121
٣١١٢١ - حدثنا ابن إدريس عن ابن عجلان عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يقل أحدكم: (اللهم) (١) اغفر لي إن شئت وليعزم في المسألة، فإنه لا مكره له" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تم میں سے کوئی ایسا مت کہے : اگر تو چاہے تو میری بخشش فرما، بلکہ اس کو چاہیے کہ وہ اپنی دعا میں پختہ یقین پیدا کرے، پس یقینا اللہ کو کوئی مجبور نہیں کرسکتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31121
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن عجلان صدوق وأخرجه البخاري (٦٣٣٩)، ومسلم (٢٦٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31121، ترقيم محمد عوامة 29773)
حدیث نمبر: 31122
٣١١٢٢ - حدثنا ابن عيينة عن داود عن الشعبي قال: قالت عائشة لابن أبي السائب (قاص) (١) أهل مكة: اجتنب السجع في الدعاء، فإني عهدت رسول اللَّه ﷺ وأصحابه وهم لا يفعلون ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ابن ابی السائب جو کہ اہل مکہ کا قصہ گو ہے سے فرمایا : تم دعا میں تکلف اختیار کرنے سے بچو، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحاب سے واقف ہوں، وہ لوگ تکلف نہیں کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31122
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31122، ترقيم محمد عوامة 29774)
حدیث نمبر: 31123
٣١١٢٣ - حدثنا عفان قال: حدثنا الأسود بن شيبان قال: حدثنا (أبي) (١) نوفل ⦗١١٠⦘ (ابن أبي عقرب) (٢) عن عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ يحب الجوامع من الدعاء ويدع ما (بين) (٣) ذلك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جامع دعاؤں کو پسند فرماتے تھے اور جو اس کے درمیان ہوتیں وہ چھوڑ دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31123
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٥١٥)، وأبو داود (١٤٨٢)، وابن حبان (٨٦٧)، والحاكم ١/ ٥٣٩، والطيالسي (١٤٩١)، والطحاوي في شرح المشكل (٦٠٢٩)، والطبراني في الدعاء (٥٠)، والأوسط (٤٩٤٦)، والبيهقي في الدعوات (٢٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31123، ترقيم محمد عوامة 29775)
حدیث نمبر: 31124
٣١١٢٤ - حدثنا (سهل) (١) بن يوسف عن حميد عن أبي الصديق عن أبي سعيد قال: (إذا) (٢) سألتم اللَّه فاعزموا، فإن اللَّه لا مستكره (له) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ : جب تم اللہ سے سوال کرو تو پختہ یقین کے ساتھ کرو، پس یقینا اللہ تعالیٰ کو کوئی مجبور نیں کرسکتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31124
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31124، ترقيم محمد عوامة 29776)