کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: آدمی کا غیر موجود شخص کے حق مںر دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 31116
٣١١١٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن عبد الملك بن أبي سليمان عن أبي الزبير عن صفوان بن عبد اللَّه (بن صفوان) (١) وكانت تحته الدرداء فأتاها فوجد أم الدرداء ولم يجد أبا الدرداء فقالت له: تريد الحج العام؟ قال: نعم، قالت: فادع (٢) لنا بخير فإن النبي ﷺ كان يقول: "إن دعوة المرء مستجابة لأخيه بظهر الغيب، عند رأسه ملك يؤمن على دعائه، كلما دعا له بخير قال: آمين ولك بمثله"، ثم خرجت إلى ⦗١٠٨⦘ السوق فلقيت أبا الدرداء فحدثني عن النبي ﷺ بمثل ذلك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الزبیر فرماتے ہیں کہ حضرت صفوان بن عبد اللہ بن صفوان جن کے نکاح میں حضرت درداء ہیں وہ اپنی بیوی کے پاس تشریف لائے تو حضرت ام الدردا کو ان کے پاس پایا اور حضرت ابو الدرداء وہاں نہیں تھے۔ پس حضرت ام الدرداء ان سے فرمانے لگیں : کیا آپ کا اس سال حج کرنے کا ارادہ ہے ؟ صفوان نے کہا : جی ہاں، حضرت ام الدرداء نے کہا : ہمارے حق میں بھی خیر کی دعا کرنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے : بیشک آدمی کی دعا اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں قبول کی جاتی ہے اس دعا کرنے والے کے سر کے قریب ایک فرشتہ ہوتا ہے جو اس کی دعا پر آمین کہتا ہے، جب بھی وہ اپنے بھائی کے حق میں خیر کی دعا کرتا ہے، فرشتہ کہتا ہے : آمین، اور تجھے بھی یہی چیز عطا ہو، پھر صفوان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں بازار کی طرف گیا تو میری ملاقات حضرت ابو الدرداء سے ہوگئی، پس انہوں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31116
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٧٣٣)، وأحمد (٢١٧٠٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31116، ترقيم محمد عوامة 29768)
حدیث نمبر: 31117
٣١١١٧ - حدثنا يعلى عن الإفريقي عن عبد اللَّه بن (يزيد) (١) عن عبد اللَّه بن عمرو قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أفضل الدعاء: دعوة غائب لغائب" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ : افضل ترین دعا کسی آدمی کا غیر حاضر شخص کے لیے دعا کرنا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31117
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ الإفريقي صدوق، أخرجه أبو داود (١٥٣٥)، والترمذي (١٩٨٠)، والبخاري في الأدب المفرد (٦٢٣)، وعبد بن حميد (٣٢٧)، والقضاعي في مسند الشهاب (١٣٢٨)، والطبراني في الدعاء (١٣٢٩)، والخرائطي كما في المنتفى (٤٠١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31117، ترقيم محمد عوامة 29769)
حدیث نمبر: 31118
٣١١١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيدة بن حميد عن حميد الطويل عن طلحة عن أم الدرداء قالت: دعوة المرء المسلم لأخيه وهو غائب لا ترد، قال: وقالت: إلى جنبه ملك لا يدعو له بخير إلا قال الملك: (آمين) (١) ولك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام الدرداء نے فرمایا : کہ مسلمان آدمی کی اپنے غیر موجود بھائی کے حق میں کی گئی دعا کبھی رد نہیں جاتی، حضرت طلحہ کہتے ہیں کہ حضرت ام الدرداء نے یہ بھی فرمایا : دعا کرنے والے کے پہلو میں ایک فرشتہ ہوتا ہے، جب بھی وہ اپنے بھائی کے حق میں خیر کی دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے : آمین اور تیرے حق میں بھی یہ دعا قبول ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31118
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31118، ترقيم محمد عوامة 29770)
حدیث نمبر: 31119
٣١١١٩ - حدثنا ابن نمير (عن فضيل) (١) بن غزوان قال: سمعت طلحة بن عبيد اللَّه بن كريز قال: سمعت أم الدرداء قالت: سمعت (رسول اللَّه) (٢) صلى اللَّه عليه (وسلم) (٣) يقول: "إنه يستجاب للمرء بظهر الغيب لأخيه، فما دعا لأخيه بدعوة إلا قال: الملك ولك بمثل" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام الدرداء فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : کہ آدمی کی اپنے غیر حاضر بھائی کے حق میں کی گئی دعا قبول کی جاتی ہے، پس وہ جب بھی اپنے بھائی کے لیے کوئی دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے : تیرے حق میں بھی یہ دعا قبول ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31119
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، وهم ابن نمير فيه فأثبت سماع أم الدرداء الصغرى من النبي ﷺ، والحديث أخرجه أحمد (٢٧٥٥٨)، وابن الأثير في أسد الغابة ٧/ ٣٢٧، ورواه على الصواب مسلم (٢٧٣٢)، وابن حبان (٩٨٩)، وأبو داود (١٩٣٤)، فقالوا: (عن أم الدرداء عن أبي الدرداء).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31119، ترقيم محمد عوامة 29771)