کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس آدمی کے بیان میں جو تہمت لگائے اور غائب بینہ کا دعوے کرے
حدیث نمبر: 30984
٣٠٩٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مبارك عن جويبر عن الضحاك في رجل قذف (امرأة) (١) ثم ادعى شهودًا غيبًا قال: لا يؤجل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جویبر فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک سے ایک آدمی کے بارے میں مروی ہے جس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی پھر اس نے غائب گواہی کا دعویٰ کیا۔ آپ نے فرمایا اسے مہلت نہیں دی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30984
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30984، ترقيم محمد عوامة 29644)
حدیث نمبر: 30985
٣٠٩٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي (علاثة) (١) محمد بن عبد اللَّه (العقيلي) (٢) (قال) (٣): قذف رجل رجلًا فرفعه إلى عمر بن عبد العزيز، فادعى ⦗٥٩⦘ القاذف البينة على ما قال له: بأرمينية -يعني غيبًا- فقال عمر بن عبد العزيز: الحد لا يؤخر، لكن إن جئت ببينة قبلت شهادتهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو علاثہ محمد بن عبداللہ عقیلی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی آدمی پر تہمت لگائی۔ سو اس شخص کو حضرت عمر بن عبدالعزیز کے سامنے پیش کردیا گیا، پس تہمت لگانے والے نے بینہ کے متعلق دعویٰ کیا کہ ایک شخص نے اسے آرمینیہ میں بتلایا تھا یعنی وہ غائب ہے۔ اس پر حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا : حد کو مؤخر نہیں کیا جاسکتا، لیکن اگر تم بینہ لے آئے تو میں ان کی گواہی قبول کرلوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30985
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30985، ترقيم محمد عوامة 29645)
حدیث نمبر: 30986
٣٠٩٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن حميد عن بكر أن رجلًا قذف رجلًا فرفعه (إلى) (١) عمر بن الخطاب فأراد أن يجلده، فقال: أنا أقيم البينة، فتركه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر فرماتے ہیں کہ بیشک ایک شخص نے کسی آدمی پر تہمت لگائی تو اس کو حضرت عمر بن خطاب کے سامنے پیش کیا گیا۔ پس آپ نے اسے کوڑے مارنے کا ارادہ کیا تو وہ کہنے لگا : میں بینہ قائم کر دوں گا پس آپ نے اسے چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30986
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30986، ترقيم محمد عوامة 29646)