کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: سر کے بیان میں، کیا سزا میں سر پر مارا جا سکتا ہے؟
❮
❯
٣٠٩٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن المسعودي عن القاسم أن أبا بكر أتي برجل انتفى من أبيه فقال أبو بكر: اضرب الرأس فإن الشيطان في الرأس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جو اپنے باپ سے بری الذمہ ہوگیا تھا، اس پر حضرت ابوبکر نے فرمایا : سر پر مارو اس لیے کہ شیطان سر میں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30981
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30981، ترقيم محمد عوامة 29641)
٣٠٩٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن عيسى بن أبي عزة قال: شهدت الشعبي ونهى عن ضرب رأس رجل افترى (على) (١) رجل وهو يجلد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیسیٰ بن ابی عزہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت شعبی کے پاس حاضر تھا اور آپ نے ایک آدمی کے سر پر مارنے سے منع کیا جس نے کسی آدمی پر جھوٹی تہمت لگائی تھی اور آپ اسے کوڑے مار رہے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30982
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30982، ترقيم محمد عوامة 29642)