حدیث نمبر: 30952
٣٠٩٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن سماك (عن) (١) (ابن عبيد) (٢) (بن) (٣) (الأبرص) (٤) عن علي بن أبي طالب أنه أتي برجل كان نصرانيًا فأسلم ثم (تنصر) (٥)، قال: فسأله عن (كلمة) (٦) فقال له، فقام إليه علي فرفسه برجله، فقام الناس إليه فضربوه حتى قتلوه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عبید بن ابرصی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب کے پاس ایک آدمی لایا گیا جو عیسائی تھا پس اس نے اسلام قبول کرلیا پھر اس نے عیسائیت اختیار کرلی۔ راوی کہتے ہیں آپ نے اس سے اس بات کے متعلق پوچھا : تو اس نے آپ کو بتادیا۔ سو حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کی طرف کھڑے ہوئے اور اس کے سینہ پر اپنی لات ماری تو لوگ بھی کھڑے ہو کر اسے مارنے لگے یہاں تک کہ اسے قتل کردیا۔
حدیث نمبر: 30953
٣٠٩٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الملك بن سعيد بن (حيان) (١) عن عمار الدهني قال: حدثني أبو الطفيل قال: كنت في الجيش ⦗٥١⦘ (الذين) (٢) بعثهم علي بن أبي طالب إلى بني ناجية، قال: فانتهينا إليهم فوجدناهم على ثلاث فرق قال: فقال: أميرنا لفرقة منهم ما أنتم؟ قالوا: نحن قوم من النصارى لم نر دينًا أفضل من ديننا فثبتنا عليه، فقال: اعتزلوا، ثم قال لفرقة أخرى: ما أنتم؟ قالوا: نحن قوم كنا نصارى فأسلمنا فثبتنا على الإسلام، فقال: اعتزلوا، ثم قال للثالثة: ما أنتم؟ فقالوا: نحن قوم كنا نصارى فأسلمنا ثم رجعنا، فلم نر دينًا أفضل من ديننا الأول، فتنصرنا، فقال لهم: أسلموا، فأبوا، فقال لأصحابه: إذا مسحت (٣) رأسي ثلاث مرات فشدوا عليهم، ففعلوا فقتلوا المقاتلة وسبوا الذرية (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالطفیل فرماتے ہیں کہ میں اس لشکر میں تھا جسے حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے بنو ناجیہ کی طرف بھیجا، آپ فرماتے ہیں : پس ہم ان کے پاس پہنچ گئے۔ تو ہم نے ان لوگوں کو تین گروہوں میں پایا، پس ہمارے امیر نے ان میں سے ایک گروہ سے پوچھا ! تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے کہا : ہم لوگ عیسائی تھے ہم نے اپنے دین سے افضل کسی دین کو نہیں سمجھا۔ پس ہم اس پر ثابت قدم رہے۔ اس پر امیر نے کہا : تم الگ ہو جاؤ۔ پھر اس نے ایک دوسرے گروہ سے پوچھا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے کہا : ہم لوگ عیسائی تھے پس ہم نے اسلام قبول کرلیا پھر ہم اسلام پر ثابت قدم رہے۔ تو امیر نے کہا : تم بھی الگ ہو جاؤ۔ پھر امیر نے تیسرے گروہ سے پوچھا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ وہ کہنے لگے ! ہم لوگ عیسائی تھے۔ پس ہم اسلام لے آئے پھر ہم نے رجوع کرلیا۔ پس ہم نے اپنے پہلے دین سے افضل کسی دین کو نہیں سمجھا۔ سو ہم نے عیسائیت اختیار کرلی سو امیر نے ان سے کہا : تم اسلام لے آؤ۔ ان لوگوں نے انکار کردیا تو امیر نے اپنے ساتھیوں سے کہا : جب میں تین مرتبہ اپنے سر پر ہاتھ پھیر لوں تو تم ان پر حملہ کردینا۔ پس انہوں نے ایسا ہی کیا اور لڑنے والوں کو قتل کردیا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا۔
حدیث نمبر: 30954
٣٠٩٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن ليث عن طاوس عن ابن عباس قال: لا تساكنكم اليهود والنصارى إلا أن يسلموا، فمن أسلم منهم ثم ارتد فلا تضربوا إلا عنقه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : تمہارے ساتھ یہود و نصاریٰ ایک جگہ مت رہیں مگر یہ کہ وہ اسلام لے آئیں۔ پس ان میں سے جو اسلام لے آئے پھر وہ مرتد ہوجائے تو تم مت مارو مگر اس کی گردن پر۔