حدیث نمبر: 30947
٣٠٩٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي حصين عن سويد بن غفلة أن عليًا حرق زنادقة بالسوق، فلما رمى عليهم بالنار قال: صدق اللَّه ورسوله، (قال) (١): ثم انصرف فاتبعته، (فالتفت) (٢) قال: (أ) (٣) سويد؟ قلت: نعم يَا أمير المؤمنين، سمعتك تقول شيئًا، قال: (يا) (٤) سويد، إني مع قوم جهال، فإذا سمعتني أقول: قال رسول اللَّه ﷺ (٥) فهو حق (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ملحدوں کو بازار میں جلا دیا پس جب آپ نے ان پر آگ ڈالی آپ نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ فرمایا۔ پھر آپ واپس چلے گئے۔ راوی کہتے ہیں : میں آپ کے پھے لح ہو لیا تو وہ متوجہ ہوئے اور پوچھا : کیا سوید ہو ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! اے امیر المومنین، میں نے آپ کو کچھ فرماتے ہوئے سنا ! آپ نے فرمایا : اے سوید ! بیشک میں جاہل لوگوں کے ساتھ ہوں۔ پس جب تم مجھے یوں کہتے ہوئے سنو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو وہ حق ہے۔
حدیث نمبر: 30948
٣٠٩٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الرحمن ابن عبيد عن أبيه قال: كان أناس يأخذون العطاء والرزق ويصلون مع الناس، كانوا يعبدون الأصنام في السر، فأتى بهم علي بن أبي طالب فوضعهم في المسجد، أو قال في السجن، ثم قال: يا أيها الناس ما ترون في قوم كانوا يأخذون (معكم) (١) العطاء والرزق ويعبدون هذه الأصنام؟ قال الناس: أقتلهم، قال: لا، ولكني أصنع بهم كما صنع بأبينا إبراهيم صلوات اللَّه عليه فحرقهم بالنار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن عبید فرماتے ہیں کہ حضرت عبید نے فرمایا : کچھ لوگ تھے جو سالانہ اور ماہانہ وظیفہ لے تَ تھے اور لوگوں کے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور وہ پوشیدگی میں بتوں کی بھی پوجا کرتے تھے تو ان لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو انہوں نے ان کو مسجد میں یا جیل میں ڈال دیا۔ پھر فرمایا : اے لوگو ! تمہاری کیا رائے ہے ان لوگوں کے بارے میں جو تمہارے ساتھ سالانہ اور ماہانہ وظیفہ لیتے ہیں اور ان بتوں کو بھی پوجتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : آپ ان کو قتل کردو۔ آپ نے فرمایا : نہیں، لیکن میں ان کے ساتھ ایسا معاملہ کروں گا جو ہمارے والد ابراہیم کے ساتھ کیا گیا۔ سو آپ نے ان کو آگ میں جلا ڈالا۔
حدیث نمبر: 30949
٣٠٩٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مروان بن معاوية عن أيوب بن نعمان قال: شهدت عليًا في الرحبة، وجاء رجل فقال: يا أميرالمؤمنين، إن هاهنا أهل بيت لهم وثن في دارهم يعبدونه، فقام علي يمشي حتى انتهى إلى الدار، فأمرهم فدخلوا فأخرجوا له تمثال رخام، فألهب علي الدار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایوب بن نعمان فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس کشادہ میدان میں حاضر تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : اے امیرالمومنین ! بیشک وہاں ایک گھر والے ہیں جن کے گھروں میں بت ہیں وہ ان کو پوجتے ہیں، پس حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر چلنے لگے۔ یہاں تک کہ آپ اس گھر تک پہنچے آپ نے لوگوں کو حکم دیا تو وہ داخل ہوئے اور انہوں نے آپ کی طرف سنگ مرمر کے مجسّمے نکالے، پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس گھر کو جلا دیا۔
حدیث نمبر: 30950
٣٠٩٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن قابوس بن مخارق عن أبيه قال: بعث علي محمد بن أبي بكر أميرًا على مصر فكتب محمد إلى علي يسأله عن زنادقة منهم من يعبد الشمس والقمر، ومنهم من يعبد غير ذلك، ومنهم من يدعي (الإسلام) (١) فكتب علي و (أمره) (٢) بالزنادقة: أن يقتل من (كان) (٣) يدعي (الإسلام) (٤) ويترك سائرهم يعبدون ما شاءوا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مخارق فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے محمد بن ابی بکر کو مصر پر امیر بنا کر بھیجا، پس محمد نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر آپ سے زنادقہ کے متعلق پوچھا : ان میں سے کچھ لوگ سورج اور چاند کو پوجتے ہیں، اور ان میں سے کچھ ان کے علاوہ چیزوں کو پوجتے ہیں اور ان میں سے کچھ اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں ان کا کیا حکم ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خط لکھا اور انہیں زنادقہ کے متعلق حکم دیا کہ : وہ ان کو قتل کردیں جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور باقی سب کو چھوڑ دیں وہ جس کی چاہیں عبادت کریں۔
حدیث نمبر: 30951
٣٠٩٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن أيوب عن عكرمة عن ابن عباس أنه بلغه أن عليًا أخذ زنادقة فأحرقهم، قال: فقال: أما أنا فلو كنت لم أعذبهم بعذاب اللَّه، ولو كنت أنا لقتلتهم، لقول النبي ﷺ: "من بدل دينه فاقتلوه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خبر پہنچی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے زندیقوں کو پکڑ کر ان کو جلا ڈالا ہے۔ تو آپ نے فرمایا : جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں ان کو اللہ کے عذاب کے طریقہ سے عذاب نہیں دیتا اور اگر میں ہوتا تو میں ان کو قتل کردیتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کی وجہ سے کہ جو شخص اپنا دین تبدیل کرلے تو تم اسے قتل کردو۔