کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جنہوں نے جادوگر کے بارے میں کہا: اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 30916
٣٠٩١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ بن معاذ قال: أخبرنا أشعث عن الحسن أنه قال: يقتل السحار ولا (يستتابون) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : جادوگروں کو قتل کردیا جائے گا اور ان سے تو یہ طلب نہیں کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 30917
٣٠٩١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن أبي إسحاق عن حارثة بن مضرب أن جندبًا قتل ساحرًا أو أراد أن يقتله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارثہ بن مضرب فرماتے ہیں کہ حضرت جندب نے ایک جادوگر کو قتل کردیا یا آپ نے اس کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔
حدیث نمبر: 30918
٣٠٩١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن سالم عن قيس بن (عباد) (١) أنه قتل ساحرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم فرماتے ہیں کہ حضرت قیس بن عباد نے ایک جادوگر کو قتل کیا۔
حدیث نمبر: 30919
٣٠٩١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود الطيالسي عن همام (بن) (١) يحيى أن عامل عمان كتب إلى عمر بن عبد العزيز في ساحرة أخذها، فكتب إليه عمر إن اعترفت أو قامت عليها البينة فاقتلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھمام بن یحییٰ فرماتے ہیں کہ عمان کے گورنر نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو ایک جادوگرنی کے بارے میں خط لکھا جس کو اس نے پکڑا تھا۔ پس حضرت عمر نے اس کی طرف جواب لکھا : اگر وہ عورت اعتراف کرلے یا اس پر بینہ قائم ہوجائے تو اس کو قتل کردو۔
حدیث نمبر: 30920
٣٠٩٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن (عبيد اللَّه) (١) عن نافع عن ابن عمر: أن جارية لحفصة سحرتها ووجدوا سحرها واعترفت (به) (٢) (فأمرت) (٣) عبد الرحمن بن زيد فقتلها، فبلغ ذلك عثمان فأنكره واشتد عليه، فأتاه ⦗٤٣⦘ ابن عمر فأخبره أنها سحرتها (ووجدوا سحرها واعترفت به) (٤)، فكأن عثمان إنما أنكر ذلك لأنها قتلت بغير إذنه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : حضرت حفصہ کی ایک باندی نے ان پر جادو کردیا اور لوگوں نے اس کو جادو کرتا ہوا پا لیا، اور اس نے اعتراف بھی کرلیا۔ حضرت حفصہ نے حضرت عبدالرحمن بن زید کو حکم دیا تو آپ نے اسے قتل کردیا، جب یہ خبر حضرت عثمان کو پہنچی تو آپ نے اس بات کو پسند نہیں کیا اور اس پر غصہ کا اظہار کیا۔ سو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما آپ کے پاس تشریف لائے اور انہیں خبر دی کہ بیشک اس نے آپ پر جادو کردیا تھا، اور لوگوں نے اس کو جادو کرتا ہوا بھی پایا تھا، اور اس جادوگرنی نے اس کا اعتراف بھی کیا تھا۔ تو گویا حضرت عثمان نے اس بات کو ناپسند کیا اس لیے کہ اسے آپ کی اجازت کے بغیر قتل کیا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 30921
٣٠٩٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن زيد (١) أبي المعلى قال: حدثني شرطي (لسنان) (٢) بن سلمة أن سنانا أتي بساحرة، فأمر بها أن تلقى في البحر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید ابو المعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سنان بن سلمہ کے ایک سپاہی نے بیان کیا کہ حضرت سنان کے پاس ایک جادوگرنی کو لایا گیا، تو آپ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے سمندر میں ڈال دیا گیا۔
حدیث نمبر: 30922
٣٠٩٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو (١) سمع (بجالة) (٢) يقول: كنت كاتبًا لجزء بن معاوية، فأتانا كتاب عمر بن الخطاب: أن اقتلوا كل ساحر وساحرة قال: فقتلنا ثلاث سواحر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بجالہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت جزء بن معاویہ کا کاتب تھا۔ پس ہمارے پاس حضرت عمر بن خطاب کا خط آیا کہ تم ہر جادو گر اور جادوگرنی کو قتل کردو تو ہم نے تین جادوگروں کو قتل کیا۔
حدیث نمبر: 30923
٣٠٩٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الثقفي عن المثنى عن عمرو بن شعيب عن سعيد بن المسيب في الساحر إذا اعترف (يقتل) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب نے جادوگر کے بارے میں ارشاد فرمایا : جب وہ اعتراف کرلے تو اسے قتل کردیا جائے۔
حدیث نمبر: 30924
٣٠٩٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن عمرو عن الحسن في الساحر قال: يقتل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حسن بصری جادوگر کے بارے میں مروی ہے آپ نے فرمایا : اسے قتل کردیا جائے۔