کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس آدمی کے بیان میں جو آدمی کو یوں کہے: تو نے زنا کیا تھا اس حال میں کہ تو مشرک تھا
حدیث نمبر: 30887
٣٠٨٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم في الرجل يقول للرجل: زنيت وأنت مشرك؟ قال: لا (يحد) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ حضرت حکم سے اس آدمی کے بارے میں مروی ہے جو آدمی کو یوں کہہ دے : تو نے زنا کیا اس حال میں کہ تو مشرک تھا۔ آپ نے فرمایا : اس پر حد نہیں لگائی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30887
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30887، ترقيم محمد عوامة 29552)
حدیث نمبر: 30888
٣٠٨٨٨ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان أنه قال: إذا قال: زنيت وأنت مشرك، يقام عليه الحد] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ حضرت سفیان نے ارشاد فرمایا : جب یوں کہے : تو نے زنا کیا تھا اس حال میں کہ تو مشرک تھا۔ تو اس پر حد قائم کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30888
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30888، ترقيم محمد عوامة 29553)
حدیث نمبر: 30889
٣٠٨٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سهل بن يوسف عن عمرو عن الحسن في الكافر يزني فيقام عليه الحد، ثم يسلم، فيقذفه رجل ويقول: إنما عنيت زناه الذي كان في كفره، قال: يقام على قاذفه الحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حسن بصری سے اس کافر کے بارے میں مروی ہے جو زنا کرے اور اس پر حد قائم کردی جائے پھر وہ اسلام لے آئے، پھر کوئی آدمی اس پر تہمت لگائے اور یوں کہے : بیشک میں نے اس کا وہ زنا مراد لیا ہے جو اس نے کافر ہونے کی حالت میں کیا تھا۔ آپ نے فرمایا : اس پر تہمت لگانے والے پر حد قائم کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30889
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30889، ترقيم محمد عوامة 29554)
حدیث نمبر: 30890
٣٠٨٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معن بن عيسى عن ابن أبي ذئب قال: سألت الزهري عن امرأة زنت وهي يهودية أو نصرانية أو مجوسية، ثم أسلمت فقذفها رجل، فقال ابن شهاب: ليس على من قذفها حد، ولكن (ينكل) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ذئب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زھری سے ایک عورت کے متعلق سوال کیا جس نے زنا کیا تھا درآنحالیکہ وہ یہودی یا عیسائی یا آتش پرست تھی پھر وہ اسلام لے آئی۔ سو کسی آدمی نے اس پر تہمت لگا دی تو اس کا کیا حکم ہے ؟ تو حضرت ابن شہاب نے فرمایا اس عورت پر تہمت لگانے والے پر حد جاری نہیں ہوگی لیکن اسے عبرتناک سزا دی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30890
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30890، ترقيم محمد عوامة 29555)