کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کے بیان میں جس کو شراب پینے کی سزا میں مارا گیا: کیا اس کو چکر لگوایا جائے گا یا لوگوں کے سامنے کھڑا کیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 30885
٣٠٨٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا محمد بن عبد الرحمن بن أبي ذئب عن خالد عن سعيد بن المسيب قال: ضرب ابن له في الشراب وطيف به، فقال: ما أجد عليه في ضريه إياه، ولكني أجد عليه (أنه) (١) (طاف) (٢) به، وهو شيء لم يفعله المسلمون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبدالرحمن بن ابی ذئب اپنے ماموں سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب کے ایک بیٹے کو شراب پینے کے جرم میں مارا گیا اور اس کو چکر لگوایا گیا۔ تو آپ نے فرمایا : مجھے اس کو پڑنے والی مار پر کوئی غم نہیں لیکن مجھے غم ہے تو اس بات پر کہ اس کو چکر لگوایا گیا یہ ایسی چیز ہے جس کو مسلمانوں نے کبھی نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 30886
٣٠٨٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن إسماعيل بن سميع قال: سمعت مالك بن عمير يقول: سمعت عتاب بن سلمة يقول: سألني عمر بن الخطاب عن رجل قال: رأيته يشربها؟ فقلت: لم أره يشربها، ولكن رأيته يقيها، قال: فضربه الحد ونصبه للناس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عتاب بن سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے مجھ سے ایک آدمی کے متعلق پوچھا کہ کیا تم نے اس شخص کو شراب پیتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے کہا : میں نے اس کو شراب پیتے ہوئے نہیں بلکہ اس کو شراب کی قیٔ کرتے ہوئے دیکھا ہے، راوی کہتے ہیں : تو آپ نے اس پر حد جاری کی اور اس کو لوگوں کے سامنے کھڑا کیا۔