کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان وجوہات کا بیان جن کی وجہ سے خون محفوظ ہو جاتا ہے اور آدمی سے قتل کی تخفیف ہو جاتی ہے
حدیث نمبر: 30869
٣٠٨٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر سليمان بن (حيان) (١) عن الأعمش عن أبي ظبيان عن أسامة قال: بعثنا رسول اللَّه ﷺ في سرية فصبحنا (الحرقات) (٢) من جهينة فأدركت رجلًا فقال: لا إله إلا اللَّه فطعنته، فوقع في نفسي من ذلك، فذكرته للنبي ﷺ (٣) فقال: رسول اللَّه ﷺ (٤) قال: "لا إله إلا اللَّه وقتلته؟ " قال: قلت: يا رسول اللَّه، إنما (قالها) (٥) فرقًا من (السلاح) (٦) (قال: "أفلا) (٧) شققت عن قلبه حتى تعلم قالها أم لا؟ " قال: فما زال يكررها علي حتى تمنيت أني أسلمت يومئذ (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ظبیان فرماتے ہیں کہ حضرت اسامہ نے ارشاد فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا ہم نے قبیلہ جہینہ کے باغات کے پاس صبح کی تو مجھے ایک آدمی ملا اس نے کہا : لا الہ الا اللہ پس میں نے اسے نیزہ مار دیا، پھر اس بارے میں میرے دل میں بےچینی پیدا ہوئی، میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے لا الہ الا اللہ پڑھا اور پھر بھی تو نے اسے قتل کردیا ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس نے تو یہ کلمہ اسلحہ کے خوف سے پڑھا تھا ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو نے اس کا دل کیوں نہیں چیر لیا تاکہ تجھے معلوم ہوجاتا کہ اس نے یہ کلمہ خوف سے پڑھا ہے یا نہیں ؟ آپ فرماتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل مجھ پر یہ بات دھراتے رہے یہاں تک کہ مجھے خواہش ہوئی کہ میں نے آج کے دن ہی اسلام قبول کیا ہوتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30869
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو سليمان صدوق، وأخرجه البخاري (٤٢٦٩)، ومسلم (٩٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30869، ترقيم محمد عوامة 29535)
حدیث نمبر: 30870
٣٠٨٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي ظبيان عن أسامة قال: بعثنا رسول اللَّه ﷺ في سرية فذكره نحوه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوظبیان فرماتے ہیں کہ حضرت اسامہ نے ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا۔ پھر راوی نے ماقبل والا مضمون بیان کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30870
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٩٦)، وأحمد (٢١٨٠٢)، وأصله عند البخاري (٦٨٧٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30870، ترقيم محمد عوامة 29536)
حدیث نمبر: 30871
٣٠٨٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہہ لیں۔ پس جب وہ یہ کلمہ پڑھ لیں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور اپنے اموال کو محفوظ کرلیا مگر ان کے حق کی وجہ سے اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30871
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو سفيان صدوق، أخرجه مسلم (٣٥)، وأحمد (١٤١٤١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30871، ترقيم محمد عوامة 29537)
حدیث نمبر: 30872
٣٠٨٧٢ - وعن أبي صالح عن أبي هريرة (قالا) (١): قال رسول اللَّه ﷺ: "أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا اللَّه فإذا قالوها منعوا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على اللَّه" (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30872
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٤٦)، ومسلم (٢١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30872، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 30873
٣٠٨٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن أبي مالك عن أبيه قال: سمعت النبي ﷺ يقول: "من وحد اللَّه وكفر بما يعبد من دونه فقد حرم دمه وحسابه على اللَّه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن اشیم اشجعی فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سنا : جو شخص اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرے اور اسکے سوا جن باطل چیزوں کی عبادت کی جاتی ہے ان کو جھٹلا دے تو تحقیق اس کا خون حرام ہوگیا اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30873
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه مسلم (٢٣)، وأحمد (١٥٨٧٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30873، ترقيم محمد عوامة 29538)
حدیث نمبر: 30874
٣٠٨٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي الزبير عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أمرت أن أقاتل (الناس) (١) حتى يقولوا: لا إله إلا اللَّه، فإذا قالوها عصموا مني دماءهم وأموالهم، إلا بحقها، وحسابهم على اللَّه"، ثم قرأ: ﴿فَذَكِّرْ إِنَّمَا أنت مُذَكِّرٌ (٢١) لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ﴾ [الغاشية: ٢١ - ٢٢] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں پس جب وہ یہ کلمہ پڑھ لیں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنی جانوں اور اپنے اموال کو محفوظ کرلیا مگر ان کے کسی حق کی وجہ سے اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیات تلاوت کیں : سو (اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تم نصیحت کرتے رہو، تم ہو بس نصیحت کرنے والے، تم ان پر کوئی جبر کرنے والے نہیں ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30874
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢١)، وأحمد (١٤٢٠٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30874، ترقيم محمد عوامة 29539)
حدیث نمبر: 30875
٣٠٨٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن بكر السهمي عن حاتم بن أبي صغيرة عن النعمان بن سالم أن عمرو بن أوس أخبره عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ قال: "أُمرت أن أُقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا اللَّه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اوس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30875
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٦١٦٣)، وابن ماجه (٣٩٢٩)، والنسائي ٧/ ٨١، والطيالسي (١١١٠)، والدارمي ٢/ ٢١٨، وأبو يعلى (٦٨٦٢)، وعبد الرزاق (١٨٦٩٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30875، ترقيم محمد عوامة 29540)
حدیث نمبر: 30876
٣٠٨٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن أبان بن عبد اللَّه عن إبراهيم بن جرير (عن جرير) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلا اللَّه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30876
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30876، ترقيم محمد عوامة 29541)
حدیث نمبر: 30877
٣٠٨٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن (١) صالح مولى (التوأمة عن أبي) (٢) هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أمرت أن أُقاتل الناس حتى يقولوا لا إله (إلا اللَّه) (٣)، فإذا قالوها حرمت عليَّ دماوهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على اللَّه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں۔ پس جب وہ یہ کلمہ پڑھ لیں گے تو مجھ پر ان کی جانیں اور ان کے اموال حرام ہیں مگر ان کے کسی حق کی وجہ سے اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30877
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٤٦)، ومسلم (٢١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30877، ترقيم محمد عوامة 29542)
حدیث نمبر: 30878
٣٠٨٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) سفيان عن حبيب ابن أبي عمرة عن سعيد بن جبير قال: خرج المقداد بن الأسود في سرية، فمروا ⦗٣١⦘ برجل في (غنيمة له) (٢) فأرادوا قتله فقال: لا إله إلا اللَّه، فقال المقداد: (ود) (٣) لو (فرّ بأهله) (٤) وماله، قال: فلما قدموا (ذكروا) (٥) ذلك للنبي ﷺ (٦) فنزلت: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ قال: الغنيمة، ﴿فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ﴾ قال: تكتمون إيمانكم من المشركين ﴿فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ﴾ فأظهر الإسلام (﴿فَتَبَيَّنُوا﴾) (٧) وعيدًا من اللَّه ﴿إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا﴾ (٨) [النساء: ٩٤].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت مقداد بن اسود کسی لشکر میں نکلے سو ان لوگوں کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا جو اپنے ریوڑ میں تھا۔ ان لوگوں نے اس کو قتل کرنا چاہا تو اس نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیا، اس پر حضرت مقداد نے فرمایا : وہ چاہتا ہے کہ اگر وہ اپنے گھر والوں اور اپنے مال کو لے کر بھاگ جائے تو اچھا ہے۔ راوی کہتے ہیں : پس جب یہ لوگ واپس آئے تو انہوں نے یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ” اے ایمان والو ! جب نکلو تم (جہاد کے لیے) اللہ کی راہ میں تو خوب تحقیق کرلیا کرو اور نہ کہو اس شخص کو جو کرے تم کو سلام کہ نہیں ہے تو مومن، کیا حاصل کرنا چاہتے ہو تم ساز و سامان دنیاوی زندگی کا ؟ آپ نے فرمایا : مراد بکری کا ریوڑ ہے، ترجمہ ” تو اللہ کے ہاں غنیمتیں ہیں بہت، ایسے تو تم اسلام سے پہلے تھے۔ “ فرمایا : تم اپنے ایمان کو مشرکنم سے چھپاتے تھے۔ ترجمہ ” پھر اللہ نے تم پر احسان کیا مراد پس اسلام کو غلبہ دیا۔ ترجمہ ” لہٰذا خوب تحقیق کیا کرو “ فرمایا : اللہ کی طرف سے وعید ہے۔ ترجمہ ” بیشک اللہ ہر اس بات سے جو تم کرتے ہو پوری طرح باخبر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30878
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد بن جبير تابعي، أخرجه ابن جرير الطبري ٥/ ٢٢٥، والحارث (٣/ بغية)، والواحدي في أسباب النزول ص ٢٠٣، وورد من حديث سعيد عن ابن عباس أخرجه الطبراني (١٢٣٧٩)، وبحشل في تاريخ واسط ص ١٦٠، والضياء في المختارة ١٠/ (١٤٧) وابن بشكوال في المبهمة ٧/ ٤٥٧، وابن عساكر ٦٠/ ١٧١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30878، ترقيم محمد عوامة 29543)
حدیث نمبر: 30879
٣٠٨٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسرائيل عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: مر رجل من بني سليم على نفر من أصحاب رسول اللَّه ﷺ ومعه غنم، (فسلم) (١) عليهم فقالوا: ما سلم عليكم إلا ليتعوذ منكم، فعمدوا إليه فقتلوه، وأخذوا غنمه فأتوا بها رسول اللَّه ﷺ، فأنزل اللَّه: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ ⦗٣٢⦘ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ﴾، إلى آخر الآية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : کہ قبیلہ بنو سلیم کے ایک آدمی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ پر گزر ہوا درآنحالیکہ اسکے پاس بھیڑ بکریاں بھی تھیں تو اس نے ان کو سلام کیا۔ پس وہ کہنے لگے : اس نے تمہیں سلام نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ تم سے بچ جائے، سو انہوں نے اس کا ارادہ کیا اور اس کو قتل کردیا اور اس کی بھیڑ بکریاں لے لیں۔ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آئے۔ اس پر اللہ رب العزت نے یہ آیت اتاری : ” اے ایمان والو ! جب تم نکلو (جہاد کے لیے) اللہ کی راہ میں تو خوب تحقیق کرلیا کرو اور نہ کہو اس شخص کو جو تم کو سلام کرے کہ تو مومن نہیں ہے کیا تم دنیاوی زندگی کا ساز و سامان حاصل کرنا چاہتے ہو ؟ سو اللہ کے ہاں بہت غنیمتیں ہیں۔ “ (الخ)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30879
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب؛ رواية سماك عن عكرمة مضطربة، أخرجه الترمذي (٣٠٣٠)، وابن حبان (٤٧٥٢)، والحاكم ٢/ ٢٣٥، وأصله في البخاري (٤٥٩١)، ومسلم (٣٠٢٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30879، ترقيم محمد عوامة 29544)
حدیث نمبر: 30880
٣٠٨٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن سماك عن عكرمة عن (ابن عباس) (١) بمثله ولم يذكر، فأتوا بها النبي ﷺ (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔ لیکن انہوں نے یہ بات ذکر نہیں کی کہ وہ لوگ اس ریوڑ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30880
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب؛ رواية سماك عن عكرمة مضطربة، وانظر: ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30880، ترقيم محمد عوامة 29545)
حدیث نمبر: 30881
٣٠٨٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا ليث بن (١) سعد عن ابن شهاب عن عطاء بن يزيد الليثي عن (عبيد اللَّه) (٢) بن عدي بن الخيار عن المقداد أنه أخبره أنه قال: يا رسول اللَّه أرأيت إن لقيت رجلًا من الكفار فقاتلني فضرب إحدى يدي بالسيف فقطعها، ثم لاذ مني بشجرة فقال: أسلمت للَّه: أقتله يا رسول اللَّه (٣) بعد أن قالها؟ فقال رسول اللَّه ﷺ: "لا تقتله"، فقلت: يا رسول اللَّه، قطع يدي ثم قال (ذلك بعد) (٤) أن قطعها فأقتله؟ قال: "لا تقتله (وإن قتلته) (٥) فإنه بمنزلتك قبل أن تقتله، وأنت بمنزلته قبل أن يقول: الكلمة التي قال" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیداللہ بن عدی بن خیار فرماتے ہیں کہ حضرت مقداد نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا رائے ہے کہ اگر میں کفار کے کسی آدمی سے ملوں پس وہ مجھ سے قتال کرے اور میرے ایک ہاتھ کو تلوار کی ضرب سے کاٹ دے۔ پھر وہ شخص درخت کی آڑ میں مجھ سے پناہ مانگنے لگے اور کہے کہ میں اللہ کے لیے اسلام لایا، یا رسول اللہ ! کیا میں یہ کلمہ پڑھنے کے بعد اس کو قتل کر دوں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اسے قتل مت کرو۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس نے میرا ہاتھ کاٹا پھر اس نے یہ کاٹنے کے بعد یہ کلمہ پڑھا ہو پھر میں اسے قتل کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم اسے قتل مت کرو، اور اگر تم نے اسے قتل کردیا تو بیشک تمہارے درجہ میں ہوجائے گا جیسا کہ تم اس کو قتل کرنے سے پہلے تھے اور تم اس کے درجہ میں ہو جاؤ گے جیسا کہ وہ اس کلمہ کو کہنے سے پہلے تھا جو کلمہ اس نے پڑھا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30881
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨٦٥)، ومسلم (٩٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30881، ترقيم محمد عوامة 29546)
حدیث نمبر: 30882
٣٠٨٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: جاء أبو العالية إليَّ وإلى صاحب لي (فقال) (١): هلما فإنكما أشب مني (و) (٢) أوعى للحديث مني، فانطلقنا حتى أتينا بشر بن عاصم الليثي (فقال) (٣) [أبو العالية: حدث هذين حديثك، فقال: حدثنا عقبة بن مالك الليثي] (٤) (فقال) (٥): بعث النبي ﷺ (٦) سرية فأغارت على القوم (فشذ) (٧) رجل من القوم فأتبعه رجل من السرية معه سيف شاهر، فقال الشاذ من القوم: إني مسلم، فلم ينظر (فيما قال) (٨)، فضربه فقتله، فنمى الحديث إلى النبي ﷺ فقال النبي ﵇ (٩) قولًا شديدًا، فبلغ القاتل (١٠)، فبينما النبي ﷺ يخطب إذ قال القاتل: واللَّه يا نبي اللَّه، ما قال الذي قال إلا تعوذا من القتل، فأعرض النبي ﷺ (عنه) (١١) وعمن يليه من الناس، وفعل ذلك مرتين كل ذلك يعرض عنه النبي ﷺ بوجهه، فلم يصبر أن قال الثالثة مثل ذلك، (وأقبل النبي) (١٢) ﵇ ⦗٣٤⦘ بوجهه تعرف (المساءة) (١٣) في وجهه فقال: "إن اللَّه أبى علي فيمن قتل مؤمنًا -ثلاث مرات- يقول ذلك" (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن ہلال فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العالیہ میرے اور میرے ایک ساتھی کے پاس آئے اور فرمانے لگے : آؤ، بیشک تم دونوں مجھ سے زیادہ نوجوان ہو، اور حدیث کو مجھ سے زیادہ محفوظ رکھنے والے ہو۔ سو ہم لوگ گئے یہاں تک کہ ہم حضرت بشر بن عاصم لیثی کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت ابو العالیہ نے فرمایا : تو اپنی حدیث ان دونوں سے بیان کردو، انہوں نے فرمایا کہ حضرت عقبہ بن مالک لیثی نے ہمیں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا جس نے قوم پر حملہ کردیا پس اس قوم سے ایک آدمی دوڑ لگا دی، تو لشکر کے ایک آدمی نے اس کا پیچھا کیا اور اس کے پاس ننگی تلوار تھی، اس قوم سے دوڑنے والے شخص نے کہا : بیشک میں مسلمان ہوں۔ اس لشکر کے آدمی نے اس کی بات میں غور نہیں کیا اور اس کو وار کر کے قتل کردیا۔ پھر یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچائی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اس وقت قاتل نے کہا : یا نبی اللہ ! اللہ کی قسم ! اس نے جو بھی بات کہی وہ صرف قتل سے بچنے کے لیے کہی تھی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض کیا اور ان لوگوں سے بھی جو اس کے ساتھ ملے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ ایسا کیا، ہر بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اپنا چہرہ پھیرلیا۔ پس اس سے صبر نہ ہوسکا تو اس نے تیری بار بھی یہی بات کی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ اس کی طرف متوجہ کیا اس حال میں کہ ناراضگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے معلوم ہو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک اللہ نے مجھ پر انکار کیا ہے اس شخص کے بارے میں جو مومن کو قتل کر دے۔ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30882
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ بشر بن عاصم الليثي صدوق، أخرجه أحمد (٢٢٤٩٠)، والنسائي في الكبرى (٨٥٩٣)، وابن حبان (٥٩٧٢)، والحاكم ١/ ١٨، وابن سعد ٧/ ٤٨، وابن أبي عاصم في الآحاد (٩٤٢)، وأبو يعلى (٦٨٢٩)، والطحاوي ٣/ ٢٠٨، والطبراني ١٢/ (٩٨٠)، والبيهقي ٩/ ١١٦، والخطيب في المتفق (٢٧٣)، ويعقوب في المعرفة ١/ ٣٤٥، وابن قانع ٢/ ٢٧٥، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ٥٩، والمزي ٢٠/ ٢٢٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30882، ترقيم محمد عوامة 29547)
حدیث نمبر: 30883
٣٠٨٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سفيان بن حسين عن الزهري عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة قال: لما ارتد من ارتد على عهد أبي بكر أراد أبو بكر أن يجاهدهم، فقال عمر: (أتقاتلهم) (١) وقد سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من شهد لا إله إلا اللَّه وأن محمدًا رسول اللَّه، حرم (ماله) (٢) إلا بحق، (و) (٣) حسابهم على اللَّه (تعالى) (٤) " فقال أبو بكر: (أنا) (٥) (لا أقاتل) (٦) من فرق بين الصلاة والزكاة؟ واللَّه لأقاتلن من فرق بينهما حتى أجمعهما، قال عمر: فقاتلنا معه وكان رشدًا، فلما ظفر بمن ظفر به منهم قال: اختاروا مني خصلتين: إما (حرب) (٧) ⦗٣٥⦘ (مجلية) (٨) وإما الخطة المخزية، قالوا: هذه الحرب المجلية قد عرفناها فما الخطة المخزية؟ قال: تشهدون على قتلانا أنهم في الجنة وعلى قتلاكم أنهم في النار، ففعلوا (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زھری فرماتے ہیں کہ حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے ارشاد فرمایا : جب مرتد ہوگئے وہ لوگ جو حضرت ابوبکر صدیق کے زمانے میں مرتد ہوئے تھے تو حضرت ابوبکر نے ان سے جہاد کرنے کا ارادہ کیا۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا : کیا تم ان سے قتال کرو گے حالانکہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ تو اس کا مال حرام ہوگیا مگر کسی حق کی وجہ سے اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا : بیشک میں قتال کروں گا اس شخص سے جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرے گا، اللہ کی قسم ! میں ضرور قتال کروں گا اس شخص سے جو ان دونوں کے درمیان فرق کرے گا، یہاں تک کہ میں ان دونوں کو اکٹھا کر دوں۔ حضرت عمر فرماتے ہیں : سو ہم نے ان کے ساتھ قتال کیا اور وہ ہدایت پر تھے، پس جب وہ کامیاب ہوگئے ان لوگوں کی مدد سے جنہوں نے ان کے ساتھ کوشش کی تھی۔ آپ نے فرمایا : تم لوگ میری طرف سے دو باتیں اختیار کرلو : یا تو خوفناک جنگ یا پھر رسوا کردینے والا صلح کا منصوبہ۔ ان لوگوں نے کہا : اس خوفناک جنگ کو تو ہم نے پہچان لیا۔ پس یہ رسوا کردینے والا منصوبہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم ہمارے مقتولین پر گواہی دو کہ بیشک وہ جنت میں ہیں اور اپنے مقتولین پر گواہی دو کہ بیشک وہ جہنم میں ہیں۔ پس انہوں نے ایسا کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30883
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ رواية سفيان بن حسين عن الزهري ضعيفة، وعبيد اللَّه لم يدرك الواقعة، وقد ورد الحديث بنحوه من طريق عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة عن أبي هريرة، أخرجه البخاري (١٣٩٩)، ومسلم (٢٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30883، ترقيم محمد عوامة 29548)
حدیث نمبر: 30884
٣٠٨٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا أبان بن عبد اللَّه البجلي قال: حدثني إبراهيم بن جرير عن جرير قال: إن نبي اللَّه بعثني إلى اليمن أقاتلهم وأدعوهم، فإذا قالوا: لا إله إلا اللَّه، حرمت عليكم أموالهم ودماؤهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا تاکہ میں ان سے قتال کروں اور میں ان کو دین کی دعوت دوں۔ پس جب انہوں نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیا تو تم پر ان کے اموال اور ان کی جانیں حرام ہوگئیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30884
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30884، ترقيم محمد عوامة 29549)