کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس تہمت لگائے آدمی کے بیان میں جس کے پاس سامان پایا جائے
حدیث نمبر: 30856
٣٠٨٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قال عطاء: إن وجدت سرقة مع رجل سوء يتهم؟ فقال: ابتعتها، فلم (يعين) (١) ممن ابتاعها منه، أو قال: وجدتها، لم يقطع ولم يعاقب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء نے ارشاد فرمایا : اگر چوری شدہ مال ایسے برے آدمی کے پاس پایا گیا جو تہمت یافتہ تھا اور وہ یوں کہے : میں نے اسے خریدا ہے اور وہ معین نہیں کر رہا ہے کہ اس شخص کو جس سے اس نے خریدا ہے، یا وہ یوں کہے : مجھے یہ ملا ہے تو اس کا ہاتھ نہیں کٹے گا اور نہ اسے سزا دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 30857
٣٠٨٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: كتب عمر بن عبد العزيز (بكتاب) (١) قرأته: إذا وجد المتاع مع الرجل (المتهم) (٢) فقال: ⦗٢٦⦘ (ابتعته) (٣) فلم (ينفذه) (٤) فأشدده في السجن وثاقًا، ولا تخله بكلام أحد حتى يأتي فيه أمر اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک خط لکھا تھا میں نے اسے پڑھا : جب سامان تہمت زدہ آدمی کے پاس پایا جائے اور وہ کہے : میں نے اسے خریدا ہے، لیکن اسے استعمال نہیں کیا۔ اسے قید خانے میں ڈال دیا جائے گا اور اس کے ساتھ کسی کے کلام کو درست قرار نہ دو ۔ یہاں تک کہ اللہ حقیقت کو آشکارا کر دے۔ میں نے بات کا ذکر حضرت عطاء سے کیا تو انہوں نے اسے عجیب قرار دیا۔
حدیث نمبر: 30858
٣٠٨٥٨ - قال: فذكرت ذلك لعطاء فأنكره.