کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کے بیان میں جس پر تہمت لگائی گئی جن لوگوں نے اس کے اس بات کو معاف کرنے کے بارے میں کہا ہے
حدیث نمبر: 30822
٣٠٨٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن الزهري قال: لو أن رجلًا قذف رجلًا فعفا وأشهد، ثم جاء به إلى الإمام بعد ذلك أخذ له بحقه، ولو مكث ثلاثين سنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اوزاعی فرماتے ہیں کہ حضرت زھری نے ارشاد فرمایا : اگر کسی آدمی نے کسی پر تہمت لگائی پس اس شخص نے معاف کردیا اور گواہ بنا لیا پھر اس کے بعد وہ پھر اسے امام کے پاس لے آیا تو اس کے حق میں اس کو پکڑا جائے گا اگرچہ وہ تیس سال ٹھہرا رہا ہو۔
حدیث نمبر: 30823
٣٠٨٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن عون قال: سألت الحسن وابن سيرين عن الرجل (يفتري على الرجل) (١) فيعفو، قال الحسن: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حسن بصری اور حضرت ابن سیرین سے اس آدمی کے متعلق دریافت کیا جس نے آدمی پر جھوٹی تہمت لگا دی ہو پس اس شخص نے معاف کردیا تو کیا حکم ہے ؟ حسن بصری نے فرمایا : نہیں، اور حضرت ابن سیرین نے فرمایا میں نہیں جانتا۔
حدیث نمبر: 30824
٣٠٨٢٤ - وقال ابن سيرين: ما أدري.
حدیث نمبر: 30825
٣٠٨٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن (عيينة) (١) عن (رزيق) (٢) قال: كتبت إلى عمر بن عبد العزيز في رجل قذف ابنه، (فقال ابنه) (٣): إن جلد أبي (اعترفت) (٤)، فكتب (إليه) (٥) عمر (أن) (٦) اجلده إلا أن يعفو عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رزیق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو ایک آدمی کے بارے میں خط لکھا جس نے اپنے بیٹے پر الزام لگایا تھا، تو اس کے بیٹے نے کہا : اگر میرے باپ کو کوڑے مارے جائیں گے تو میں اعتراف کرلوں گا۔ حضرت عمر نے مجھے اس کا جواب لکھا : تم اس کو کوڑے مارو مگر یہ کہ وہ اسے معاف کر دے۔