کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی نے کسی ایسے آدمی پر تہمت لگائی جس کی ماں مشرک تھی
حدیث نمبر: 30817
٣٠٨١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أن رجلًا من المهاجرين افترى (عليه) (١) على عهد عمر بن الخطاب، وكانت أمه ماتت ⦗١٧⦘ في الجاهلية، فجلده عمر لحرمة (المسلم) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ حضرت زھری نے ارشاد فرمایا : ایک مہاجر آدمی پر حضرت عمر بن خطاب کے زمانے میں تہمت لگائی گئی اس حال میں کہ اس کی ماں زمانہ جاہلیت میں وفات پاچکی تھی تو حضرت عمر نے مسلمان کی حرمت کی وجہ سے اس کو کوڑے مارے۔
حدیث نمبر: 30818
٣٠٨١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن عمه عن الشعبي أنه سئل عن رجل قذف رجلًا وأمه مشركة، قال: أرأيت لو أن رجلًا قذف الأشعث ألم يُضرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا گیا جس نے کسی آدمی پر تہمت لگائی اس حال میں کہ اس کی ماں مشرک تھی ؟ آپ نے فرمایا : تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر کوئی آدمی اشعث پر تہمت لگائے تو کیا اسے نہیں مارا جائے گا ؟
حدیث نمبر: 30819
٣٠٨١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن سعيد (الزبيدي) (١) عن حماد عن إبراهيم في الرجل يقول للرجل: لست لأبيك، وأمه أمة (أو) (٢) يهودية أو نصرانية، قال: لا حد عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حضرت حماد فرماتے ہیں کہ ابراہیم سے اس آدمی کے بارے میں مروی ہے جو آدمی کو یوں کہے : تو اپنے باپ کا نہیں ہے اور اس کی ماں باندی تھی یا یہودی یا عیسائی تھی۔ آپ نے فرمایا : اس پر حد جاری نہیں ہوگی۔
حدیث نمبر: 30820
٣٠٨٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي (غنية) (١) عن أبيه عن الحكم قال: إذا قذف الرجل الرجل -وله أم يهودية أو نصرانية-، فلا حد عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو غنیہ فرماتے ہیں کہ حضرت حکم نے ارشاد فرمایا : جب آدمی ایسے آدمی پر تہمت لگائے درآنحالیکہ اس کی ماں یہودی یا عیسائی تھی سو اس پر حد جاری نہیں ہوگی۔